ورنگل میں مردہ شخص اچانک زندہ !

قاضی پیٹ۔/4فبروری، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سرکاری دواخانوں میں ڈاکٹروں کی مجرمانہ لاپرواہی سے کئی مریض اپنا دم توڑ رہے ہیں جس کے باعث اکثر مریض خانگی دواخانوں سے رجوع ہونے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جبکہ خانگی دواخانوں کے ڈاکٹرس بالخصوص ڈائرکٹرس مریضوں کے افراد خاندان سے دوائیں اور فیس کے نام پر لاکھوں روپئے لوٹ رہے ہیں۔ جس سے مریضوں کے افراد خاندان میں تشویش پائی جاتی ہے۔ بعض ایسے انسان ہیں جو محنت مزدوری کرتے ہوئے علاج کی غرض سے سرکاری دواخانوں میں شریک ہوتے ہیں یہ جان کر کہ ڈاکٹرس کی جانب سے انہیں وقت پر علاج اور دوائیں دستیاب ہوں گی لیکن یہ دراصل غلط ہے۔ یہاں پر زندہ مریض کو ڈاکٹروں کی غفلت اور لاپرواہی سے مردہ قرار دیئے جانے کے واقعات بھی منظر عام پر آرہے ہیں۔

ایسا ہی ایک حیرت انگیز واقعہ ضلع ونگل کے مہاتما گاندھی ہاسپٹل (MGM) میں پیش آیا۔ ضلع ورنگل کے زرعی پیشہ 24سالہ ایم دھرملو کل شام کھیتی باڑی کرکے گھر پہنچ رہا تھا کہ اچانک اس کا پیر ایک درخت سے ٹکرانے پر کھائی میں جاگرا۔ کچھ دیر بعد مقامی افراد نے اسے علاج کیلئے ایم جی ایم منتقل کیا تاہم تین گھنٹے علاج کے بعد آج دوپہر چند ڈاکٹروں نے اس مریض کو مردہ قراردیا۔ ہاسپٹل کے مارچری کے قریب تین گھنٹے تک اس کی نعش کے قریب رشتہ دار آہ و بکا کرتے ہوئے اسے شمشان گھاٹ لے گئے لیکن آخری رسومات کے عین قبل اس مردہ کے اچانک اُٹھ جانے سے رشتہ دار اور مقامی افراد حیرت زدہ ہوگئے اور بعض افراد نے شمشان گھاٹ سے بھاگنا شروع کردیا۔

کچھ دیر بعد یہ شخص اپنے مکان پہنچا اور اپنے رشتہ داروں سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ کیوں رو رہے ہیں میں بالکل ٹھیک ہوں۔ پھر اسے ایک خانگی دواخانہ میں شریک کرنے کے بعد اس بات کا انکشاف ہوا کہ اس کے دماغ پر چوٹ لگنے کی وجہ سے وہ بے ہوش ہوگیا تھا۔ کچھ گھنٹے بعد ہوش میں آجانے سے اس طرح کا واقعہ پیش آیا۔ اس واقعہ سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ کس طرح سرکاری دواخانوں میں ڈاکٹروں کی لاپرواہی بڑھتی جارہی ہے کہ جس مریض کی موت ہی نہیں ہوئی ہے اسے مردہ خانہ میں ڈال دیا جارہا ہے۔ انسان یہ سوچ کر دواخانہ میں شریک ہوتے ہیں کہ ڈاکٹرس ان کی دیکھ بھال اور صحت کا خیال رکھتے ہیں لیکن یہ سب دھوکہ ہے۔ سرکاری دواخانوں سے عوام کا اعتماد نہ صرف اٹھتا جارہا ہے بلکہ سرکاری دواخانہ کے نام سے بھی عوام کو خوف ہونے لگا ہے۔ ضلع کے اعلیٰ عہدیداروں سے خواہش کی جاتی ہے کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں۔