کراچی ۔12 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) سابق کپتان وسیم اکرم نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ونڈے کپتان مصباح الحق کی قیادت پر سوالیہ نشان کو مزید گہرا کردیا ہے جیسا کہ انھوں نے کہا ہے کہ پی سی بی کو چاہئے کہ آئی سی سی ونڈے ورلڈ کپ 2015 کیلئے ٹیم کو ایک جارحانہ کپتان فراہم کرے ۔ سابق کپتان نے یہاں میڈیا نمائندوں سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مصباح الحق کے بیٹنگ مظاہروں پر کوئی سوال ہی نہیں اُٹھتا لیکن ان کی قیادت پہلے جیسی نہیں رہی ہے ۔ وسیم اکرم کے اس بیان کے بعد مصباح الحق کی قیادت پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے ۔ وسیم اکرم سے جب استفسار کیا گیا کہ کیا ورلڈ کپ 2015 ء کیلئے شاہد آفریدی کو پاکستانی ٹیم کا کپتان بنایا جانا چاہئے تو اس پر اکرم نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کام بورڈ کا ہے ۔ وسیم اکرم کے بموجب کچھ بھی ہو ٹیم کو ایک جارحانہ اور دلیر کپتان کی ضرورت ہے تاکہ ٹیم مثبت کرکٹ کھیل سکے۔ وسیم اکرم نے کہا ہے کہ ایشیا کپ کے فائنل میں سری لنکا کے خلاف پاکستان کو جو شکست ہوئی وہ دراصل ناقص طرز رسائی کا نتیجہ رہی ۔
وسیم اکرم نے مزید کہا کہ ٹاس جیتنے کے بعد مصباح الحق کی جانب سے پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ غلط تھا کیونکہ ٹورنمنٹ میں ہم جس فارمولے کے ذریعہ کامیابی حاصل کررہے تھے اُسی کو فائنل میں بھی برقرار رکھا جانا چاہئے تھا۔ فائنل میں پاکستان مثبت کرکٹ نہیں کھیلی جس کے نتیجہ میں ہمیں ایشیاء کپ خطاب سے محروم ہونا پڑا ۔ بنگلہ دیش میں منعقد شدنی ورلڈ کپ سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے وسیم اکرم نے ہندوستان ، پاکستان اور ویسٹ انڈیز کو خطاب کے لئے پسندیدہ قرار دیا ہے ۔ اکرم کا ماننا ہے کہ مذکورہ ٹیمیں ان کے حساب سے خطاب کے لئے مضبوط دعویدار ہیں کیونکہ ان ٹیموں کی طاقت جارحانہ اور مثبت کرکٹ ہے ۔ وسیم اکرم نے ٹیم انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستانی فاسٹ بولروں کا بہتر استعمال کرے جیسا کہ ایشیا کپ میں ٹیم جنید خان کو بہتر استعمال کرنے میں ناکام رہی کیونکہ جنید فی الحال ٹیم کے سب سے بہترین بولر ہیں۔