ونپرتی /3 فروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) تلنگانہ ریاست کے چیف مسنٹر کے چندرا شیکھر راؤ واستو کے نام پر خمانے کو خالی کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار رکن اسمبلی ونپرتی اے آئی سی سی ریاستی سکریٹری ڈاکٹر جی چناریڈی نے کیا ۔ مستقر ونپرتی کے پنچایت راج گیسٹ ہاوز میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چیسٹ ہاسپٹل کو وقارآباد منتقل کرکے اس کے احاطہ میں سکریٹریٹ کی تعمیر کرنا مضحکہ خیز ہے ۔ ریاست تلنگانہ کا خزانہ فی الوقت دو ہزار چھ سو کروڑ کا خسارہ ہے ۔ آگے اور بھی مزید بڑھنے کے امکانات ہیں۔ ایسے وقت میں اس طرح کے فیصلے لینا بے وقوفی کی بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش کے وزراء اور عہدیادر بہت جلد اپنے دفاتر کو ان کے نئی راجدھانی تعمیر کرکے وہاں منتقل کرنے کیلئے بہت تیزی سے اقدامات کر رہے ہیں۔ اگر وہ آندھرا کو منتقل ہوجائیں گے تو پورا سکریٹریٹ تلنگانہ کے دفاتر کیلئے کافی ہوجائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو فیس ریمبرسمنٹ کیلئے فاسٹ اسکیم کی تشہیر تو ٹی آر ایس پارٹی کے وزراء اور چیف منسٹر بہت زور شور سے کی ۔ لیکن آخر وہ کانگریس پارٹی کے دور اقتدار میں عمل آوری کی طرح اس اسکیم کو عمل آْوری کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر منت کو پورا کرنے کیلئے اجمیر شریف میں عمارت کی تعمیر کیلئے 5 کروڑ اور دیگر منادر میں چڑھاوانے کیلئے رقم دینیکا اعلان کیا ہے ۔ مگر منت کو پورا کرنے کیلئے اپنی ذاتی رقم ادا کرنا ہوگا لیکن کے سی آر کو عوام کے روپیوں سے منت کو پورا کرنے کا حق کس نے دیا ہے اور یہ قابل مذمت ہے ۔ اگر حقیقت میں کے سی آر اپنی منت کو پورا کرنا چاہتے ہیں تو ٹی آر ایس پارٹی کو کانگریس پارٹی میں ضم کرنے کا سونیا گاندھی سے وعدہ کیا تھا ۔ یہ بھی منت پوری کی جائے ۔ اس طرح تلنگانہ ریاست کے پہلے چیف منسٹر دلت طبقہ سے متعلق رکھنے والوں کو بنانے کا اعلان کیا تھا ۔ یہ بھی ایک منت ہے ۔ اس کو بھی پورا کیا جائے ۔ کے سی آر کے 8 ماہ کے دور اقتدار میں صرف وعدے ہی وعدے ہیں ۔ لیکن اس پر عمل آوری نہیں ہو رہی ہے ۔ اس موقع پر کاگنریس پارٹی سینئیر قائدین سرینواس گوڑ ، ٹاون کانگریس پارٹی صدر شنکر پرساد ، ایم پی پی شنکر نائیک اور دیگر موجود تھے ۔