ورکرس کی گھر گھر جاکر مہم، اختتام میں صرف دو روز باقی
وارانسی ۔ 8 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اب جبکہ مندروں کے اس شہر میں 12 مئی کو رائے دہی کی تاریخ جیسے جیسے قریب آرہی ہے یہاں کا ماحول بالکل سیاسی رنگ میں رنگ چکا ہے کیونکہ مقابلہ بھی تین اہم پارٹیوں کانگریس، بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے درمیان ہے۔ انتخابی مہم میں حصہ لینے کیلئے ہر پارٹی کے ورکرس کی کثیر تعداد یہاں پہنچ رہی ہے۔ عام آدمی پارٹی ورکرس گھر گھر جاکر رائے دہندوں سے ملاقات کررہے ہیں جس کا سلسلہ گذشتہ ایک ماہ سے جاری ہے اور اب کانگریس اور بی جے پی ورکرس کی کثیر تعداد بھی اپنے اپنے طریقہ سے انتخابی مہمات میں حصہ لے رہے ہیں۔ بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی کو عام آدمی پارٹی کے اروند کجریوال سے سخت مقابلہ درپیش ہے جبکہ کانگریس کے اجے رائے بھی مودی کے لئے چیلنج ثابت ہوسکتے ہیں۔
اجے رائے چونکہ مقامی لیڈر ہیں اور پندرہ نامی اسمبلی نشست پر کانگریس کے ایم ایل اے ہیں اس لئے یہ کہا جاسکتا ہیکہ وارانسی کے مقامی مسائل سے جتنی واقفیت اجے رائے کو ہوگی، مودی اور کجریوال کو نہیں ہوگی۔ انتخابی مہم اختتام پذیر ہونے صرف دو روز باقی ہیں لہٰذا کانگریسی اور بی جے پی ورکرس کی ٹرینوں اور بسوں کے ذریعہ آمد کا سلسلہ جاری ہے تاکہ مؤثر مہم چلاتے ہوئے اپنے اپنے امیدواروں کی کامیابی کو یقینی بنایا جاسکے۔ بھوپال سے تعلق رکھنے والے بی جے پی ورکر رمیش سریواستو نے بتایا کہ وہ مودی جی کی تائید میں انتخابی مہم چلانے یہاں آئے ہیں کیونکہ ملک کو آج مودی کی قیادت کی ضرورت ہے۔ مودی کی تصویر والے ٹی شرٹ پہنے ہوئے
سریواستو نے کہا کہ انہوں نے اپنی ملازمت سے 15 دنوں کی رخصت حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش سے ہزاروں بی جے پی ورکرس یہاں پہنچے ہیں۔ دوسری طرف 60 سالہ امام چھایانی جو گجرات کے راج کوٹ کے شہری ہیں، نے کہا کہ ہم عرصہ دراز سے کانگریس حامی رہے ہیں۔ یہ بات صحیح ہیکہ گذشتہ کچھ سال سے کانگریس عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتری ہے لیکن پارٹی نے کبھی بھی مذہب کی بنیاد پر ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش نہیں کی لہٰذا ہم کانگریس کی ہی تائید کریں گے۔ امام چھایانی وارانسی کے نواحی علاقوں کا دورہ کررہے ہیںجہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے اوران سے اپیل کررہے ہیں کہ وہ کانگریس کو ووٹ دیں۔ علاوہ ازیں پنجاب، ہریانہ اور راجستھان سے بھی یوتھ کانگریس ورکرس کی بڑی تعداد یہاں پہنچی ہے اور پارٹی آفس کے وسیع میٹنگ ہال میں شب بسری کررہے ہیں۔ یاد رہے کہ 2009ء کے انتخابات میں بی جے پی لیڈر مرلی منوہر جوشی نے مختار انصاری جو اس وقت ایک قتل معاملہ میں جیل کاٹ رہے ہیں، کو 17000 ووٹوں سے شکست دی تھی۔