واجپائی یااڈوانی کو اسپیکر بنانے پر غور و خوض

نئی دہلی ۔ 14 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کے سابق صدر نتن گڈکری نے آج ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا کہ وہ ایک بار پھر پارٹی کی صدارت کے خواہاں ہیں اور کہا کہ پارٹی کی قیادت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی ۔ یاد رہے کہ ایک تجارتی گروپ کی جانب سے گڈکری پر بے قاعدگیوں کا الزام عائد کئے جانے کے بعد موصوف بی جے پی کی صدارت سے مستعفی ہوگئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی کے حکومت تشکیل دیئے جانے کے بعد بھی راج ناتھ سنگھ ہی پارٹی کے صدر برقرار رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی سے انہوں نے کبھی کوئی عہدہ طلب نہیں کیا اور نہ ہی پارٹی نے ان سے کوئی وعدہ کیا تھا ۔ انہیں مستقبل میں جو بھی رول ادا کرنا ہوگا ، اس کا فیصلہ پارٹی کرے گی ۔ یاد رہے کہ نتن گڈکری کو حال ہی میں انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی جکانب سے بھی کلین چٹ دی گئی ہے ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سیاست دراصل سماجی و معاشی اصلاحات کا نام ہے

اور اگر اس منطق پر غور و خوض کیا جائے تو میرا نظریہ یہ ہے کہ پہلے ملک بعد میں پارٹی اور تیسرے نمبر پر میں خود ! انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ یہ فیصلہ پارٹی اور پارٹی کے سینئر قائدین کریں گے کہ انہیں کیا رول ادا کرنا ہے ۔ انہوں نے پر یقینی لہجہ میں کہا کہ راج ناتھ سنگھ اور نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کی تشکیل کے بعد بھی پارٹی کی قیادت میں تبدیلی نہیں ہوگی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سینئر قائد ایل کے اڈوانی کو اسپیکر کا عہدہ دیا جائے گا جس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اڈوانی اور واجپائی پارٹی کے سینئر ترین لیڈر ہیں اور ان کے بعد آنے والے تمام لیڈروں نے ان دونوں قائدین سے تحریک حاصل کی ۔ اس معاملہ پر دونوں قائدین سے تبادلہ خیال کیا جائے گا اور اس کے بعد قطعی فیصلہ پارٹی کرے گی ۔ پارٹی کے دیگر پارٹیوں سے اتحاد کے بارے میں پوچھے جانے پرنتن گڈکری نے کہا کہ این ڈی اے کو واضح اکثریت حاصل ہوگی لیکن اس کے باوجود دیگر پارٹیاں اس میں شامل ہونے کی خواہاں ہیں، تو پارٹی کے دروازے ان کیلئے کھلے ہیں۔