سلواڈور(برازیل)۔6 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) نیدرلینڈز نے کوسٹاریکا کو پنالٹی شوٹ آؤٹ میں 4-3 سے شکست دے دی جبکہ 120 منٹ تک بھی کوئی گول نہیں بنایا جاسکا تھا، اس طرح نیدرلینڈز نے فٹبال ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرلی تھی۔ ایک اور مقابلے میں ارجنٹائن نے بلجیم کو 1-0 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں مقام حاصل کیا۔ نیدرلینڈز کے گول کیپر ٹم کرل نے پنالٹی شوٹ آؤٹ میں دو گول روک کر ٹیم کی کامیابی میں اہم رول ادا کیا۔ دوسرے سیمی فائنل میں نیدرلینڈز کا مقابلہ ارجنٹائن سے ہوگا۔ کوسٹاریکا نے ٹیم میں بعض تبدیلیوں کے باوجود گزشتہ ہفتہ سے اب تک کوئی گول نہیں بنایا۔ آسکر ڈیوریڈ کو یونان کے خلاف میچ میں ریڈ کارڈ دکھانے کے بعد جانی اکوسٹا کو شامل کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک اور تبدیلی لاتے ہوئے جارج لیوئس کو بھی ٹیم میں شامل کیا گیا۔ ٹم کرل نے کہا کہ ہم نے اب تک جو محنت کی ہے، اس کا نتیجہ سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیم شروع ہونے سے قبل یہ امکان دکھائی دے رہا تھا کہ پنالٹی شوٹ آؤٹ کا مرحلہ آئے گا اور وہ اس کے لئے پوری طرح تیار تھے۔ انہوں نے کئی پنالٹیز کا مشاہدہ کیا اور گول کیپرس کے ساتھ ساتھ گول کیپر کوچ نے انہیں کافی ٹریننگ دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ٹیم میں وان گال اور ڈرٹ کیوٹ کو ڈیفنس میں رکھا گیا تھا اور یہ حکمت عملی کامیاب رہی۔ کوسٹاریکا کے کوچ جارج لیوئس پنٹو نے کہا کہ ان کے کھلاڑی آخری مرحلے میں کرل کے سامنے بے بس ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی قدر مایوس بھی تھے کیونکہ گول کیپر وہ نہیں تھا جو ابتداء سے میچ میں شریک تھا۔ انہوں نے 2 پینالٹیزروکے ، لیکن اس میں قسمت کا زیادہ دخل رہا۔ ورلڈ کپ کوارٹر فائنل کے ایک اور مقابلے میں بلجیم کے ارجنٹائن کو 1-0 سے شکست دیا۔ بلجیم کے کوچ مارک ولمرٹس نے ارجنٹائن کو ’’ایک عام ٹیم جس میں ایک غیرمعمولی کھلاڑی‘‘ تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ارجنٹائن سے زیادہ متاثر نہیں رہے۔ یہ ایک عام ٹیم ہے جس میں صرف ایک غیرمعمولی کھلاڑی ہے، ان کا اشارہ ارجنٹائن کے کپتان لائیونل میسی کی جانب تھا۔ بلجیم کو 8 ویں منٹ میں گنزیالو ہیگوین کے بنائے گئے گول کے بعد پھر کوئی موقع نہیں ملا۔ ولمورٹس مقابلے کے اس نتیجہ پر اپنی مایوسی کو چھپا نہیں سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ارجنٹائن کا تجربہ دیکھ لیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے بعض غلطیاں کی ہیں ، لیکن ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ انہیں کافی مایوسی ہوئی کیونکہ ہر کھلاڑی نے ویسا مظاہرہ نہیں کیا جیسی توقع تھی ، اس کے باوجود وہ اپنے کھلاڑیوں پر فخر محسوس کرتے ہیں۔