نورخان بازار میں خالہ اور بھانجی کے قتل کی سنسنی خیز واردات

حیدرآباد ۔ /11 جون (سیاست نیوز) میرچوک کے علاقے کالی قبر نورخاں بازارکے آغا ٹاورس میں پیش آئے سنسنی خیز دوہرے قتل واردات میں خاتون اور اس کی بھانجی کو بے دردانہ طور پر قتل کردیا گیا ۔ تفصیلات کے بموجب 45 سالہ ثمینہ فاطمہ خاتون زوجہ علی اسالت اپنی بھانجی 17 سالہ سیدہ نازیہ عرف آنم کے ساتھ اپنے فلیٹ واقع آغا ٹاورس میں محو خواب تھیں کہ نامعلوم افراد نے عقبی دروازے سے فلیٹ میں داخل ہوکر دونوں کا گلا کاٹ کر قتل کردیا ۔ ذرائع نے بتایا کہ ثمینہ فاطمہ کی ماں سکینہ فاطمہ اپنی نواسی سنگھاڑی کو پنجہ گٹہ میں واقع ویلامیری کالج کو چھوڑنے کیلئے آج صبح 8 بجے مکان سے روانہ ہوئی تھیں ۔

سکینہ فاطمہ 8.50 پر فلیٹ پر واپس پہونچنے پر دیکھا کہ ثمینہ فاطمہ اور سیدہ نازیہ کی نعشیں خون میں لت پت پڑی ہوئی ہے ۔ سکینہ نے اپنے ڈرائیور کو طلب کیا اور بعد ازاں آغا ٹاورس میں مقیم دیگر افراد کو طلب کیا ۔ اس بات کی اطلاع ملنے پر میرچوک پولیس کی ٹیم ڈاگ اسکواڈ کے ہمراہ وہاں پہونچ گئی ۔ ڈپٹی کمشنر پولیس ساؤتھ زون مسٹر سرواسریش ترپاٹھی اور انسپکٹر میرچوک مسٹر وائی یادگیری ریڈی بھی موقع واردات پر پہونچ کر وہاں کا تفصیلی معائنہ کیا ۔ کلوز ٹیم جو موقع واردات کا معائنہ کرنے کیلئے پہونچی تھی دیکھا کہ ثمینہ فاطمہ کا گلا کاٹنے کے علاوہ اس کے سر پر بھی وزنی ہتھیار سے حملہ کیا گیا جس کے سبب بھیجا سر سے باہر نکل آیا ۔

ڈاگ اسکواڈ نے تحقیقاتی عہدیداروں کو یہ اشارہ دیا کہ قاتل عقبی دروازے سے فرار ہوئے ہیں ۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں یہ معلوم ہوا ہے کہ لاکھوں روپئے کا رقمی لین دین کے سبب یہ قتل ہوا ہے اور پولیس کو شبہ ہے کہ پرانا شہر کے ساکن الطاف نے یہ سنگین واردات انجام دی ہوگی ۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ اس قتل میں 3 سے زائد افراد شامل ہوسکتے ہیں اور قاتلوں نے سکینہ بیگم کے مکان سے باہر جانے سے متعلق تفصیلات پہلے سے ہی معلوم کئے تھے اور قتل میں مکان میں ہی موجود گھریلو چاقوؤں کا استعمال کیا گیا ہے۔ میر چوک پولیس نے اس سلسلے میں قتل کا مقدمہ درج کرتے ہوئے دو خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ پولیس نے ثمینہ فاطمہ کے شوہر علی اسالت جو نادر اشیاء کا بھی کاروبار کرتے ہیں اور وہ سعودی عرب میں مقیم ہیں کو قتل کی اطلاع دیدی گئی ۔