شادنگر۔17 اکٹوبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) متحدہ آندھراپردیش کے موقع پر سابق آندھرائی قیادتیں علاقہ تلنگانہ کے ساتھ بے تحاشہ ناانصافیاں کی ہیں ۔ آندھراپردیش دو علحدہ ریاستیں قائم ہونے کے باوجود آندھرائی قائدین تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کررہے ہیں ۔ جدید تلنگانہ ریاست ان دنوں برقی مسئلہ سے دوچار ہے جبکہ آندھراپردیش ریاست سے 54 فیصد برقی تلنگانہ ریاست کو فراہم کرنا ہے لیکن آندھراپردیش 54 فیصد برقی سربراہی میں رکاوٹ پیدا کررہی ہے ۔ برقی قلت کو دور کرنے کیلئے تلنگانہ حکومت سنجیدگی کے ساتھ غور کررہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر فینانس ایٹالہ راجندر نے شاد نگر مغل گدہ جونیئر کالج میں منعقدہ تقریب سے مخاطب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت برقی بحران سے نمٹنے کیلئے حال ہی میں بی ایچ ای ایل کمپنی سے معاہدہ کیا ہے ۔ تلنگانہ ریاست کو چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی قیادت میں ترقی کی سمت گامزن کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کرنے کا تیقن دیا ۔ تلنگانہ ریاست کی ٹی آر ایس حکومت سماج میں رہنے والے ہر ایک افراد کو بہتر زندگی اور ترقی فراہم کرنے کیلئے منظم منصوبے کے تحت کام کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ برقی کی قلت ‘ ناکافی بارش ‘ زیرزمین پانی کی سطح کم ہونے کی وجہ سے کسان کئی ایک مسائل سے دوچار ہورہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ تلنگانہ ریاست میں موجودہ تالابوں اور کنٹوں کے تحفظ کیلئے تلنگانہ حکومت ٹھوس اقدامات کررہی ہے ۔ شجرکاری پروگرام کے دریعہ تلنگانہ ریاست کو صاف شفاف آلودگی سے پاک کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ جدید تلنگانہ ریاست پر مرکزی حکومت پر عدم توجہ دینے کا الزام عائد کیا ۔ تلنگانہ ریاست سے عریبی دور کرنے کیلئے منفرد پروگراموں کو روبہ عمل لارہی ہے ۔ تلنگانہ حکومت راشن کارڈ کے نام کو تبدیل کرتے ہوئے فوڈ سیکیورٹی کارڈ فراہم کرنے کیلئے درخواست فام وصول کررہی ہے ۔ فوڈ سیکیورٹی کارڈ کے متعلق بعض اپوزیشن جماعتوں کے قائدین غلط اور گمرہ کن بیان بازی کررہے ہیں ۔ انہوں نے تلنگانہ عوام کو تیقن دیا کہ ہر مستحق افراد خاندان کو راشن کارڈ ( فوڈ سیکیورٹی کارڈ) فراہم کرنے کی پابند ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت تعلیم پر بھی خصوصی توجہ مبذول کی ہے ‘ہر ایک نوجوان کو تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونے کی تلقین کی ۔ تلنگانہ ریاستی وزیر ای راجندر نے قبل ازیں جونیئر کالج میں پروفیسر جے شنکر کے مجسمہ کی نقاب کشائی اور گلہائے عقیدت پیش کرتے ہوئے بھرپور خراج عقیدت پیش کی ۔ قیام تلنگانہ کے جدوجہد کے موقع پر کے سی آر کے مرن برت کے موقع پر مرکزی حکومت کے وزیر چدمبرم نے 9ڈسمبر 2009ء کو پیشرفت کرتے ہوئے علحدہ تلنگانہ قیام کا اعلان کیا تھا ۔ اس موقع پر آنجہانی پروفیسر جئے شنکر نے اپنے قلم سے ایک تحریر مرکز کو روانہ کی تھی ۔ اگر پروفیسر جے شنکر کی قیات قیام تلنگانہ ریاست کے موقع پر باقی رہتی تو وہ مسرت سے سرشار رہتے ‘ ان کے تلنگانہ جدوجہد میں کافی اہم خدمات رہی ہے ۔ رکن اسمبلی شاد نگر وائی انجیا یادو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر کی قیات میں تلنگانہ ریاست ترقی کی سمت رواں دواں ہونے کے قوی امکانات ہیں اور پروفیسر جئے شنکر کی خدمات کو بھرپور خراج عقیدت پیش کی ۔ اس موقع پر مقامی عوام اور قائدین نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور بکثرت گلپوشی کی ۔اقلیتی قائدین ٹی آر ایس پارٹی محمد سراج الدین ‘ شیخ سلیم اور دیگر قائدین تلنگانہ ریاستی ومیر ایٹالہ راجندر کی شال پوشی و گلپوشی کرتے ہوئے مہمان قائدین کو ٹوپی پہنائی اور ایک یادداشت حوالے کی ۔ اس موقع پر محبوب نگر پارلیمنٹ ایم پی اے پی جیتندر ریڈی ‘ جڑچرلہ ایم ایل اے لکشما ریڈی ‘ جوپلی کرشنا راؤ ‘ سرینواس گوڑ ‘ ضلع پریشد چیرمین محبوب نگر بھاسکر ‘ ضلع کلکٹر محبوب نگر شریمتی پریہ درشنی ‘ ڈپٹی کلکٹرمحبوب نگر شرمن آر ڈی او محبوب نگر فرخنگر تحصیلدار بی چندر راؤ کے علاوہ مختلف محکمہ جات سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین ‘ سیاسی قائدین ‘ مقامی عوام اور اسکولی طلبہ بڑی تعداد میں موجود تھے ۔ مغل گدہ میں منعقدہ تقریب سے تلنگانہ ریاستی وزیر ایٹالہ راجندر اور دیگر قائدین کے کاروں کے قافلہ کے واپسی کے موقع پر موضع کے ایک ساکن نے کاروں کے قافلے کے سامنے سیکل رکھ کر احتجاج کیا ۔ پولیس فوری حرکت میں آتے ہوئے مقامی ساکن کو ہٹادیا ۔ مقامی ساکن نے مطالبہ کیا کہ مغل گدہ ایک قدیم موضع ہے یہاں پر ایک آؤٹ پوسٹ پولیس اسٹیشن کی منظوری کا مطالبہ کرتے ہویء قافلہ کو روکنے کی کوشش کی تھی جسے پولیس نے ناکام کردیا ۔ بعد ازاں ریاستی وزیر ایٹالہ راجندر کے ہاتھوں شاد نگر چنا ایلکچرلہ میں 33/11 برقی سب اسٹیشن کا افتتاح عمل میں آیا ۔ 40لاکھ روپیوں کی لاگت سے تعمیر کئے جانے والے اسکول بلڈنگ کا چنچوڈ موضع میں سنگ بنیاد رکھا اور پرائمری اسکول ‘ ڈواکرا بلڈنگ کا افتتاح کیا ۔ اس موقع پر منعقدہ پروگرام سے مخاطب کیا ۔