نمائش میدان میں جاب میلہ ، ہزارہا امیدواروں کو مایوسی

سخت احتجاج ، ہلکی لاٹھی چارج ، توڑ پھوڑ کے واقعات ، کئی کمپنیوں کی عدم شرکت
حیدرآباد ۔ 26 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : نمائش میدان میں ٹریڈ حیدرآباد ڈاٹ کام کے زیر اہتمام تین روزہ جاب میلہ جس کو مہا ادیوگ میگا کے نام سے آج آغاز ہوا ۔ اس کے اشتراک میں این جی او پارٹنر پداگری فاونڈیشن اور نمائش سوسائٹی کا بھی اشتراک شامل ہے ۔ اس جاب میلہ کی گذشتہ ایک ماہ سے سوشیل میڈیا پر خوب تشہیر کی گئی ۔ 11 ممالک 365 کمپنیاں اور 35 ہزار جاب کا چرچا کیا گیا اور 26 اکٹوبر کو صبح سے ہزاروں کی تعداد میں بے روزگار لڑکے / لڑکیوں کی آمد نمائش کا منظر پیش کررہا تھا ۔ ٹریفک بھی متاثر رہی لیکن متلاشیان روزگار جو دور دراز مقامات اور مختلف اضلاع سے امیدواروں کے ساتھ انہیں کس کمپنی میں ملازمت ملے گی سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیوں کہ کوئی بھی بیرونی ملک کی کمپنی نہیں تھی ۔ 365 میں کوئی نامور یا ملٹی نیشنل کمپنی نہیں تھی صرف گروپ IV ڈیلیوری بوائے اور مارکیٹنگ کے شعبہ کے لیے اسٹالس میں کاونٹرس تھے ۔ مایوسی کی کیفیت غصے میں بدل گئی اور شرکاء احتجاج پر اتر آئے ۔ اور پہلے ہمیں انصاف چاہئے کہ نعرے لگائے گئے ۔ نمائش میدان کے جاب میلہ میں لگائے گئے ہال میں احتجاجیوں نے کرسیوں کو تھوڑ پھوڑ کیا اور مختلف جتھوں کی شکل میں احتجاج کرے ۔ ایک مرحلہ میں احتجاجی گاندھی بھون سے نامپلی کی طرف جلوس کی شکل میں آگے بڑھنے لگے وہاں موجود پولیس نے انہیں روک دیا اور ہلکا لاٹھی چارج کا استعمال کیا ۔ بدنظمی کو دیکھتے ہوئے ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی آرگنائزر ہے یا نہیں ، نمائش سوسائٹی کے دفتر سے کوئی پرسان حال نہیں تھا ۔ جاب میلہ میں صبح دس تا دو بجے تک زائد از 50 ہزار سے زائد امیدواروں نے شرکت کی اور مایوس واپس لوٹیں ۔ اس موقع پر حالات کو قابو میں رکھنے پولیس کے زائد فورس کو طلب کرلیا گیا اور موقع پر ڈی سی پی ساوتھ زون نے شخصی طور پر حالات کا جائزہ لیتے ہوئے بے روزگار نوجوان کی زبانی اور تحریری شکایات سماعت کی اور انہیں تلقین کی کہ آرگنائزر ٹریڈ حیدرآباد ڈاٹ کام کے خلاف انکوائری کی جائے گی ۔ اور احتجاج کے بجائے تحریری شکایات کریں ۔ اس کے لیے نہ ہی محکمہ پولیس سے اجازت اور نہ الیکشن کمیشن سے اجازت طلب کی گئی۔ ایسے حالات میں بے روزگار نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد طلب کرنا غیر درست عمل ہے ۔ ڈی سی پی نے آرگنائزر ٹریڈ حیدرآباد ڈاٹ کام کو ٹوئیٹر پر حالات کے بگڑنے کی اطلاع دی اور ان کے خلاف انکوائری کی جائے گی ۔ اب یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ کیا آئندہ دوران 27 اکٹوبر اور 28 اکٹوبر کو رہے گا یا نہیں ؟ ۔۔