ڈاکٹر مجید خان
گو کہ یہ بیماری بہت پرانی ہے مگر گذشتہ چند برسوں میں اس پر خاص توجہ دی جارہی ہے ۔ اس کو بہتر طریقے سے سمجھا جارہا ہے ۔ سائنسی تحقیقات کافی ہورہی ہیں اور مختلف علاجوں کی صورتیں نظر آرہی ہیں ۔
میں اس مضمون میں خاص طور سے امریکہ میں بسے ہوئے خاندانوں سے مخاطب ہوں ۔ عام لوگوں میں اسکے متعلق کافی معلومات مہیا ہوگئی ہیں ۔ تعلیمی میڈیا کی وجہ سے لوگ پریشان بھی ہورہے ہیں کہ کہیں ان کی اولاد Autist تو نہیں ہے ۔ اسکے تعلق سے امریکہ میں ضرورت سے زیادہ ہی تشہیر ہورہی ہے اور ایسے مریضوں کیلئے خصوصی سہولتیں اور مدارس مہیا کئے جارہے ہیں ۔ یہ باور کیا جارہا ہیکہ یہ مرض جس کو میں سمجھتا تھا کہ عام نہیں ہے بڑھتا ہی جارہا ہے ۔ مجھے بھی اپنی رائے بدلتی پڑرہی ہے ۔
میرے پاس بھی زیادہ تر امریکہ میں بسے ہوئے ہندوستانی خاندانوں کے بچوں کو لایا جاتا ہے جن کی تشخیص امریکہ میں اس مرض کی ہوچکی ہو ۔ امریکہ کی ڈاکٹری کا رونا یہ ہیکہ کافی تحقیقات کے بعد جب کسی بیماری کی تشخیص ہوجاتی ہے تو عمر بھر یہ دھبہ برقرار رہتا ہے ۔
امریکی لوگ تو بآسانی اس ڈاکٹری فیصلے کو قبول کرلیتے ہیں اور ان بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے کیونکہ ایسے مسائل کے بچوں کو خصوصی مدارس میں تعلیم و تربیت دی جاتی ہے مگر ہندوستانی امریکی اس عمر بھر کے دھبے کو پسند نہیں کرتے اور اکثر وبیشتر ان کو ہندوستان علاج کیلئے لے آتے ہیں ۔ یہاں پر ڈاکٹری مشوروں سے لیکر ہر قسم کے عقیدوں کے متعدد طور طریقے اختیار کئے جاتے ہیں ۔
مگر سب سے پہلے اس نئی وباء کو پہچاننا چاہئے اور اس کے لئے میں ابتدائی علامتیں پیش کررہا ہوں ۔ اس موضوع پر بے شمار تعلیمی ویڈیوز اور گوگل میں معلومات حاصل ہیں اور اس کی ابتدائی مرحلوں میں پہچان کی اہمیت پر زور دیا جاتا ہے ۔ 3 سال کی عمر سے پہلے اور بعض وقت 18 ماہ کی عمر سے ہی علامتیں ظاہر ہونے لگتی ہیں ۔ ان ابتدائی مرحلوں میں علاج نسبتاً زیادہ کامیاب ہوتا ہے ۔ اب نیچے لکھی ہوئی علامتوں پر غور کیجئے ۔
ہر مرتبہ جب ماں بچے کو پکارتی ہے تو کیا وہ پلٹ کر ماں کی طرف دیکھتا ہے جیسا کہ عام بچے کرتے ہیں ، دوسرے بچوں کی طرح کیا آپ کا بچہ آنکھ میں آنکھ ملاتا ہے ۔
کھلونے دکھانے پر کیا وہ متوجہ ہوتا ہے ۔ جب آپ بچے سے کھیلتے ہیں تو کیا وہ ہنستا ہے ۔ کیا وہ اپنی خواہش کا اشارہ سے اظہار کرتا ہے اور اس وقت کیا وہ آنکھ سے آنکھ ملاتا ہے یا نہیں ۔ کیا وہ آنکھوں کے علاوہ جسمانی حرکات وغیرہ سے آپ کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے ۔ ماں باپ اور بچوں میں کیا اشاروں سے یا آوازوں سے ماں سے مخاطب ہونے کی کوشش دیکھی جاتی ہے یا نہیں ۔ ایک سال کا بچہ بھی ماں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے ۔اگر یہ علامتیں اس میں ہوں یعنی وہ ایسی حرکات کرنے سے قاصر ہے یعنی ماں سے ربط و ضبط جس طرح سے اسکی عمر کے دوسرے بچے کرتے ہیں وہ نہیں کرتا یا کرتی ہو تو یہ بیماری کے شروع ہونے کی پہلی علامت ہے ۔
اس کے علاوہ ان بچوں میں ایک ہی ڈھنگ سے کام کرنے کی عادت ہوجاتی ہے ۔ یہ لوگ بچپن ہی سے لکیر کے فقیر بن جاتے ہیں ۔ روزمرہ کے معمولات میں چاہے وہ کھانے پینے کے تعلق سے ہوں یا صاف صفائی وہ کسی قسم کی تبدیلی پسند نہیں کرتے ۔ ان کی سوچ سے لچک غائب ہونا شروع ہوجاتی ہے اور اپنے خیالات میں کسی قسم کی تبدیلی کیلئے تیار نہیں ہوتے ۔ اندازہ کیجئے جب وہ بڑے ہوجاتے ہیں تو ان کے اس سخت رویے کو ایک ماحول میں ڈھالنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ خاموشی اور علحدگی پسندی رفتہ رفتہ ان کا شیوہ بن جاتی ہے ۔ حلقہ احباب ٹھٹھرنے لگتا ہے اور سوشیل میڈیا انکا رازدار بن سکتا ہے ۔
یہ بچے دراصل دوسروں سے جسمانی طور پر دور رہا کرتے ہیں ۔ پیار و محبت سے بغل گیر ہونا ، گلے ملنا ان بچوں کو ناگوار محسوس ہوتا ہے اور وہ پسند نہیں کرتے۔ اس طرح سے وہ عام بچوں سے بھی دوری اختیار کرنے لگتے ہیں ۔ یہی وہ مرحلہ ہے جب ایک چاہنے والی اور محبت کا برسرعام اظہار کرنے والی ماں لوریاں گا گا کر اور بچوں کو ستاتے ہوئے جو ربط ضبط کا سلسلہ برقرار رکھتی ہے اس کی موجودگی میں بچوں میں دوریوں کی عادت پیدا نہیں ہوتی ۔
وہ ماں جو بذات خوف برف کی طرح ٹھنڈی ہو وہ کیا مثبت نفسیاتی ماحول ان معصوم بچوں کیلئے پیدا کرسکتی ہے ۔ قابل غور مسئلہ ہے ۔
ان علامتوں پر غور کرنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آتی ہیکہ ایسے بچے دوسروں سے تعلقات قائم نہیں کرسکتے ۔ انگریزی میں اس کو communication کہا جاتا ہے جس کا مطلب میل ملاپ ، میل جول ،گفتگو اور دوستی کے راستے صحیح طریقے سے بڑھ نہیں پاتے اور ٹھٹھر کر رہ جاتے ہیں ۔ کئی طریقے دوسروں سے میل ملاپ کے ہوا کرتے ہیں ۔ بچپن میں دوسرے بھائی بہن اور والدین ہی اس کو ایک پسندیدہ عمل بناسکتے ہیں ورنہ یہ عادت ثانی بن جائے تو ناقابل علاج ہے ۔ کھیل کود میں شرارت بہترین میل ملاپ کا ذریعہ ہے ۔
خیر ان سب معلومات کو بہم پہنچانے کے بعد میں میرے اپنے تجربے کی بنا پر جو رائے میں نے قائم کی ہے اس کو پیش کرنا چاہوں گا ۔ اس بڑھتی ہوئی دماغی بیماری میں مادری زبان کے استعمال کی اہمیت ہے ۔ امریکہ میں بچے بچپن ہی سے اگر مادری زبان سے بے بہرہ ہوں تو یہ communication gap ہے ۔ میرے ایک پرانے مریض کے والدین پابندی سے آیا کرتے ہیں مگر مریض نے آنا بند کردیا ہے ۔ گوکہ اچھی ملازمت کررہا ہے مگر دوسروں سے رابطوں کے تمام راستے کسی نہ کسی عذر سے مسدود کردیا ہے۔ مجھ سے تعلقات اچھے تھے وہ بھی قطعی طور پر منقطع کردیا ہے ۔ سب کو شک کی نظروں سے دیکھتا ہے ۔ خیر انکی بات کو چھوڑیئے ان کا علاج ممکن نہیں ۔ اس کی ایک بہن ہے جو امریکہ میں رہتی ہے اور وہاں پر اس کے دس سالہ بچے کو Autistic قرار دیا گیا ہے اور اب وہ خصوصی اسکول کو جاتا ہے ۔ اس کے نانا جو میرے پاس اپنے لڑکے کے مشورے کیلئے آتے ہیں اکثر اپنے امریکہ کے Autistic نواسے کا ذکر کرتے ہیں اور فکرمند رہتے ہیں ۔ یہ لوگ کٹر برہمن ہیں ۔ گھر میں تلگو زبان ہی بولی جاتی ہے ۔ میں نے بہانے سے کریدنا شروع کیا ، ان کا نواسہ امریکہ ہی میں پیدا ہوا ۔ گھر کی روزمرہ کی زبان انگریزی ، اور ایک بیٹی ہے جو نہ صرف تلگو نہیں جانتی بلکہ اس زبان میں بات کرنے سے بھی اس کو نفرت ہے ۔
میرے پاس جتنے بھی ایسے بچے امریکہ سے لائے گئے ان میں یہ چیز میں نے نوٹ کی ہے ۔ پیڑھیوں سے سب گھر میں اردو زبان بولا کرتے تھے اور شادی کے بعد جب امریکہ منتقل ہوئے تو روزمرہ کی زبان انگریزی ہوگئی ۔ مادری زبان بالائے طاق ۔
ہمارا یہ تجربہ ہیکہ بچوں کی ابتدائی تعلیم مادری زبان ہی میں ہونا چاہئے جس کے تعلق سے بے حساب سائنسی تحقیقات ہوچکی ہیں ۔
وہ بچے جن میں دماغی امراض کے ہونے کا احتمال ہوتا ہے ان کے لئے تو مادری زبان کا استعمال بہت فائدہ مند ہے ۔
گوکہ یہ میرا اپنا بھی تجربہ ہیکہ مادری زبان کو بچوں کی ابتدائی تعلیم میں نظر انداز نہ کیا جائے مگر اس پر اب پھر سے غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ Autism جیسی بیماری بڑھ رہی ہے ۔
ماحول بدل گیا ہے ۔ مشترکہ خاندان ٹوٹ رہے ہیں ۔ فلیٹس میں زندگیاں گذرتی ہیں تو دوسروں سے میل ملاپ کے مواقع کم ہوگئے ہیں ۔ ایسے میں اگر انگریزی زبان مادری زبان ہوجائے تو ربط ضبط کے راستے اور بھی بند ہوجائیں گے ۔
ہمارے مریض کے والدین اس بات کو بھانپ گئے اور افسوس کرنے لگے کہ اگر وہ اس پر توجہ دیئے ہوتے تو یہ نوبت نہیں آتی ۔
مجھے امید ہے کہ مستقبل میں اس پر اور ریسرچ ہوگی اور وہ Autism کے علاج میں مدد کریگی ۔ ویسے ہندوستانی بچوں کو بہترین موقع دو زبانوں کے استعمال کا ملتا ہے مگر اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔