بودھن۔6فبروری( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) براعظم ایشیا کے مشہور شکر سازی کے کارخانہ نظام شوگر فیاکٹری کے زوال بننے کا سبب بننے والے مقامی قائدین اور سیاسی جماعتیں زوال پذیر ہوگئے ۔تلگودیشم حکومت نے کسانوں ‘ فیکٹری ملازمین اور عوام کی جانب سے این ایس ایف کو خانگی انتظامیہ کے حوالے کرنے کے خلاف ٹی ڈیپی کے منصوبے کو ناکام بنانے سخت احتجاج منظم کرنے کے باوجود 2002ء کے دوران این ایس ایف کے تینوں یونٹس شکر نگر ‘ میدک ‘ مٹ پلی کو اس وقت کی برسراقتدار حکومت نے خانگی انتظامیہ کے حوالے کردیا تھا جس کا خمیازہ سال 2004ء کے عام انتخابات میں ٹی ڈی پی حکومت کو بھگتنا پڑا ۔ ٹی ڈی پی اقتدار سے محروم ہوگئی ‘ کانگریس حکومت نے اپنے انتخابی وعدوں میں این ایس ایف کو حکومت کے زیرانتظام لینے کا وعدہ کیا تھا لیکن کانگریس پارٹی نے برسراقتدار آتے ہی فیکٹری کے مسئلہ کو طویل دیتے ہوئے ارکان مقننہ پر مشتمل کُل جماعتی کمیٹی تشکیل دی اور اس کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کرنے کی بجائے کمیٹی کی رپورٹ کو سردخانے کے حوالے کردیا تھا ‘ پھر اچانک عین عام انتخابات سے ایک سال قبل سال 2008ء کے دوران این ایس ایف کے مسئلہ کو عوام میں زیربحث لاتے ہوئے بعد انتخابات فیکٹری کو حکومت کے زیرانتظام لینے کا وقت کی کانگریس حکومت نے عوام کو تیقن دیا تھا ۔ سال 2009ء میں کانگریس پارٹی پھر ایک مرتبہ برسراقتدار آئی لیکن حسب سابق این ایس ایف کے مسئلہ کو فراموش کردیا تھا لیکن سال 2014ء کے عام انتخابات سے قبل این ایس ایف کو حکومت کے زیرانتظام لینے کا کانگریس پارٹی نے عوام سے وعدہ کیا لیکن حلقہ اسمبلی بودھن کی عوام کانگریس پارٹی کے جھوٹے وعدوں سے عاجز آچکے تھے اور ٹی آر ایس پارٹی پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے حلقہ اسمبلی بودھن و ضلع نظام آباد کی تمام نشستوں پر ٹی آر ایس پارٹی کے امیدواروں کو بھاری اکثریت سے منتخب کیا ۔ انتخابات سے قبل ٹیآر ایس کے بانی قائد مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے دورہ بودھن کے موقع پر اعلان کیا تھا کہ ان کی پارٹی برسراقتدار آتے ہی اندرون 100دن این ایس ایف کوحکومت کے زیرانتظام لے لیگی لیکن ٹی آر ایس نے بھی اس مسئلہ کو چھ مہینوں تک جوں کا توں رکھنے کے بعد چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے این ایس ایف کو حکومت کے زیرانتظام لینے کے بجائے اس قدیم شکر سازی صنعت کو کوآپریٹیو سیکٹر کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا جس کے باعث مقامی کسانوں اور سابق ملازمین کے علاوہ عوام میں مایوسی پائی جاتی ہے ۔ ٹی آر ایس کی جانب سے سرکاری اراضیات پر مقبوضہ اہل افراد کو ان کی مقبوضہ اراضیات 150گز تک مفت قابض کے نام منتقل کرنے کے اعلان کے بعد یہاں شکر نگر کالونی میں مقیم سابق ملازمین ٹی آر ایس حکومت سے درخواست کررہے ہیں کہ ان کے مقبوضہ کوارٹرس جن کی قیمت سابق کانگریس حکومت نے جبراً ملازمین سے ان کے بقایاجات سے منہا کرلی ہے انہیں واپس ملازمین میں تقسیم کرتے ہوئے کوارٹرس ان کے نام منتقل کرنے کے احکامات صادر کریں ۔