نظام آباد:21؍ جولائی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)میونسپل کارپوریشن نظام آباد کے بلدی مسائل میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں برسراقتدار جماعت کے مئیر دلچسپی ناگزیر ہے ۔ سال 2005 ء میں نظام آباد میونسپل کارپوریشن کا قیام عمل میں لایا گیا اور 50 ڈویژن پر مشتمل کارپوریشن میں جملہ 3,11,152 آبادی ہے اور 50ڈویژنوں میں ڈرینج، آبی سہولتیں، اسٹریٹ لائٹس، ٹرافک مسائل کا حل ہونا بے حد ضروری ہے شہر میں ڈرینج کا نظام ابتر ہونے کی وجہ سے معمولی بارش سے بھی سڑکوں پر پانی جمع ہورہا ہے اور جگہ جگہ پر لکیجس کی وجہ سے پانی جمع ہوکر مچھروں کی افزائش میں اضافہ ہوتا جارہا ہے نہ صرف اہم کالونیوں میں بلکہ شہر کے اطراف و اکناف کی نئی بستیوں میں مسائل کا انبار پڑا ہوا ہے ان بستیوں میں ڈرینج نظام مکمل طورپر ناکارہ ہے اور اسٹریٹ لائٹس نہ ہونے کی وجہ سے رات کے اوقات میں سڑکوں سے گذرنا مشکل ہورہا ہے انڈر گرائونڈ ڈرینج کے کاموں کی عدم تکمیل کی وجہ سے عوام کو مسائل پیش آرہے ہیں مرکزی حکومت کے 94 کروڑ روپئے سے شروع کردہ انڈر گرائونڈ ڈرینج کام 240 کروڑ روپئے سے مکمل بھی نہیں ہوسکا اور یہ صرف پائپ لائن کی تنصیب تک ہی محدود ہوگیا ہے مزید کام زیر التواء ہے۔ ان کاموں کو تکمیل کرنے کی ذمہ داری موجودہ ذمہ داروں پر عائد ہوتی ہے اور عوام ان پر امید لگائی بیٹھی ہے۔ گھر گھر آبی سہولتیں پہنچانے کی غرض سے سابق حکومت نے 50 کروڑ روپئے سے 5 واٹر ٹینکس اور ایک فلٹر بیڈ کے کام شروع کیا تھا لیکن فلٹر بیڈکے کام ادھورے ہیں اور اس کی تعمیر بھی ناگزیر ہے۔5 واٹرٹینکس کی تعمیری کے باوجود پائپ لائنس کو کنکشن نہیں دیا گیا اور یہ تجربہ تک ہی محدود رہ گیا ہے۔ شہر کا سب سے مسئلہ صفائی کا مسئلہ ہے شہر کی آبادی میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے لیکن صفائی کے مسائل کو حل کرنے میں کارپوریشن کے عہدیداروں کی جانب سے کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی جارہی ہے عملہ کی کمی کی وجہ سے شہر کے کئی مقامات پر کچرے کے کئی انبار نظر آرہے ہیں اور اس کے حل کیلئے اقدامات ضروری ہے۔ کچرے کی عدم نکاسی کی وجہ سے بھی عوام کی صحت پر اس کا اثر ہوتا جارہے ۔ شہر کا سب سے بڑا مسئلہ ٹرافک کا ہے اور اس کے حل کیلئے ضلع انتظامیہ اور پولیس اور میونسپل کارپوریشن کے مشترکہ تعاون سے اقدامات کرنا ضروری ہے خاص طورپر سے ماہ رمضان کے موقع پر مسلم علاقوں میں کپڑوں کی دکانات پر ہجوم اور سڑک کے کناروں پر چھوٹے کاروبار اور فروٹ کی دکانات پر خرید وفروخت کی وجہ سے ٹرافک کے مسائل پیدا ہورہے ہیں ۔ ٹرافک کے مسائل کے حل کیلئے متبادل انتظامات ناگزیر ہے لیکن ضلع انتظامیہ کی جانب سے متبادل انتظامات نہ کئے جانے کی وجہ سے ہمیشہ کی طرح بسوں کی آمد و رفت اسی علاقوں سے ہونے کی وجہ سے عوام کو مسائل پیش آرہے ہیں۔ شہر میں ٹرافک کے حل کیلئے ارسہ پلی سے مادھو نگر تک 64 کروڑ روپئے سے 10.8 کیلو میٹر بائی پاس روڈ کے کام شروع کئے گئے لیکن ابھی تک یہ کام ادھورے ہیں جس کی وجہ سے ٹرافک مسائل میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ٹرافک مسئلہ کے حل کیلئے بائی پاس روڈ کی تعمیر ناگزیر ہے ۔ اس بارے میں مئیر نظام آباد آکولہ سجاتا سے دریافت کرنے پر بتایا کہ حکومت ٹی آرایس کی ہے اور ضلع کے رکن پارلیمنٹ ، ارکان اسمبلی اور ریاستی وزیر کے تعاون سے کارپوریشن کے مسائل کو حل کرنے کیلئے کوشش کی جائے گی۔