نصرت الہیٰ کیلئے گھر کے ماحول کو دینی بنانے کی تلقین

مدرسہ عربیہ کوہیر نورالعلوم کا سالانہ جلسہ، علماء کا خطاب

حیدرآباد8جون( پریس نوٹ) ۔ علم ِ دین کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے اور اس علم سے استفادہ بھی ضروری ہے۔ حضور پاک ؐ کے ذمہ بہت سے کام رہے لیکن سب سے اہم وہ ایک معلم بنا کر بھیجے گئے ۔ وہ معلم اور ہم متعلم یہی رشتہ ہمارا اور آپ ؐ کے بیچسب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ امت اپنے اس رشتے کو مضبوط کرلیں تو سارے حالات خود بخود بہتر ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار امیرِ ملتِ اسلامیہ سید شاہ حضرت مولانا حافظ محمد جمال الرحمن مفتاحی نے کل رات مدرسہ عربیہ نورالعلوم کوہیر کے 30ویں سالانہ جلسہ میں صدارتی تقریر میں کیا موصوف نے کہا چند چیزیں انسان کو ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں بخل‘ دنیا کی محبت ‘ یقین کی کمی اور اپنے آپ کو اچھاو بہتر اور دوسروں کو کم ترجاننا۔ آج پوری امت میں یہ ہلاکت خیز بیماریاں عام ہوگئی ہیں اسی وجہہ سے ساری دنیا میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف حالات ابتر ہوتے جارہے ہیں۔ملکی سطح پر اور عالمی سطح پر ہم غور کریں ہر جگہ مسلمانوں کے لئے حالات نازک اور خطرناک ہوتے جارہے ہیںاور ہم اپنی ان بیماریوں کی جانب توجہ دینے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا ہر گھر میں دین کی باتوں کا تذکرہ ہونے کے بجائے TVاور دیگر غیر شرعی عادات ہمارے معاشرے میں داخل ہوگئے ہیں۔ ہمارے دلوں میں دنیا کی محبت و چاہت بڑھ گئی ہے اور موت کا ڈر آگیا ہے۔ جس کی وجہ سے دنیا کی دیگرقومیں ہمیںآسانی سے اپنا شکار بنا رہی ہیں اور ہم ہر سطح پر پریشان و برباد ہورہے ہیں ۔ مولانا جمال الرحمن نے کہا ان حالات میں بھی ہمیں مایوس ہونا نہیں چاہئیے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور حضور پاکؐ کے عمل کو اپنے اندر جاری کرلیں تو یہ حالات بدل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا دینی مدارس کی قدر کریں، ان کا ہر لحاظ سے تعاون کریں اپنے بچوں کو ان میں شریک کروائیںعصری علوم کے ساتھ دینی تعلیم کی بھی اپنے بچوں کیلئے فکر کریں۔ اپنے گھر کے ماحول کو دین کا ماحول دیں اور خاص طور پر لڑکیوں اور خواتین کی اصلاح پر خصوصی توجہ دیں۔مولانا احمد ومیض ندوی نے اپنی تقریر میں کہا آج پوری دنیا میں ظالم حکمران مسلط ہورہے ہیں انہوں نے مصر‘ شام اور خود بھارت کی حکومتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ظالم حکمران ہمارے اعمال کا نتیجہ ہیں۔ مسلمانوں کے اعمال بگڑھ جاتے ہیں تو انہیں سدھارنے کیلئے اللہ پاک ظالم حکمرانوں کو مسلط فرمادیتے ہیں۔ ہمیں اپنے اعمال کاجائزہ لینا ہوگا تب ہی یہ حالات بہتر ہوںگے۔ حضرت مولانا مفتی تجمل حسین قاسمی نے اپنی تقریر میں کہا‘ سن لینا باتوں کا اہمیت نہیں رکھتا سن کر اس پر عمل کرنا اہمیت رکھتا ہے۔ آج امت کا حال یہ ہے کہ جلسوں میں سنتے تو بہت ہیں لیکن اس پر عمل نہیں ہوتا۔ ہم نے دعوت کا کام چھوڑدیا ہے اچھا ئی کا حکم اور برائی سے روکنا والاعمل ختم کردیا ہے گھر میں ہم اپنے اہل خاندان سے تک لاپرواہ ہوچکے ہیں تو ایسے میں حالات کے بگڑتے اور ماحول کے خراب ہونے کا موقع ملاہے۔اپنے اور اپنے گھر والوں کی سدھار کی فکر کریں اور پورے معاشرہ کی اصلاح کی فکر یں کریں تو اللہ پاکؐ کی نصرت آئے گی اور ملکی اور عالمی حالات بہتر ہوں گے۔ جلسہ کی کاروائی کا آغاز قاری محمد عبداللہ کلیمی کی قراء ت کلام پاک سے ہوا۔ قاری ڈاکٹر طیب پاشاہ قادری نے نعت پاک کا ہدیہ پیش کیا مولانا محمد عبدالرحیم صدیقی نے مدرسہ کا اجمالی تعارف پیش کیا۔ مولانا محمد اسرائیل قاسمی صدر مدرس نے افتتاحی تقریر کی جناب ولی تنویر نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا مدرسہ کے طلباء نے تعلیمی مظاہرہ پیش کیا۔ ڈاکٹر ایم اے رفیق‘ ڈاکٹر رزاق شریف‘ جناب محمد اسمائیل مینیجر یس بی ایج ‘ جناب شمشاد محمد خان ‘ جناب محمد عبدالشکور و محمد زبیر بلڈر نے مہمانانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ حافظ و مفتی سید مدثر احمد قاسمی نے جلسہ کی کاروائی چلائی جناب سید مقصود احمد معتمد مدرسہ نے شکریہ ادا کیا۔