نریندر مودی نے وزارت عظمیٰ کے عہدہ کا وقار مجروح کیا

نئی دہلی 17 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) جیسے کو تیسا رویہ اختیار کرتے ہوئے کانگریس نے آج انتباہ دیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی مستقبل میں جب کبھی کسی بیرونی سرزمین سے سابقہ حکومتوں کو نشانہ بنائیں گے ان پر بھی جوابی تنقید کی جائیگی ۔ کانگریس نے کہا کہ مودی کو چاہئے کہ وہ آر ایس ایس کے پرچارک کی طرح کا نہیں بلکہ ملک کے وزیر اعظم جیسا رویہ اختیار کریں۔ واضح رہے کہ نریندر مودی نے کناڈا میں کل ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابقہ حکومتوں پر ملک میں گندگی پھیلانے کا الزام عائد کیا تھا ۔ اس بیان پر وزیر اعظم سے معذرت کا مطالبہ کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ مودی کو چاہئے کہ وہ یہ حقیقت قبول کرلیں کہ وہ جب کبھی بیرون ملک جاتے ہیں ایک ملک کی نمائندگی کرتے ہیں بی جے پی یا آر ایس ایس کی نمائندگی نہیں کرتے ۔ کانگریس ترجمان آنند شرما نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس بیان سے ان کی بیمار ذۃنیت کا پتہ چلتا ہے ۔ انہوں نے ایک بار پھر گھریلو سیاست کو بیرون ملک نہ لیجانے کی روایت سے انحراف کیا ہے اور ایک بار پھر سابقہ حکومتوں پر ناذیبا ریمارکس کئے ہیں۔ آنند شرما نے کہا کہ ہم اس طرح کے رویہ کو مزید برداشت نہیں کرسکتے ۔ ایسے میں جب کبھی وہ مستقبل میں کسی بیرونی سرزمین پر سابقہ حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنائیں گے کوئی کانگریس لیڈر یا ترجمان بھی اس ملک میں موجود رہے گا اور فوری جوابی بیان دیا جائیگا ۔ اس سوال پر کہ آیا اس سے حالات مزید خراب نہیں ہوجائیں گے مسٹر شرما نے نفی میں جواب دیا اور کہا کہ اس سے توازن پیدا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ان ریمارکس پر وزیر اعظم کو معذرت خواہی کرنی چاہئے ۔ انہوں نے روایات سے انحراف کیا ہے ۔ نریند رمودی کو چاہئے کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرلیں جب وہ بیرون ملک جاتے ہیں تو وزیر اعظم کی حیثیت میں جاتے ہیں آر ایس ایس یا بی جے پی کے پرچارک کی حیثیت میں نہیں ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی نے بیرون ملک ایسی تصویر پیش کی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان صرف کرپشن اور اسکامس کی وجہ سے ہی جانا جاتا تھا ۔ وزیر اعظم نے ان ریمارکس کے ذریعہ اپنے عہدہ کا وقار متاثر کیا