نرمل میں اسمبلی انتخابات کی گہماگہمی شروع

ادخال نامزدگی کے بعد ہر امیدوار رائے دہندوں کو راغب کرنے کوشاں

نرمل /10 اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) حلقہ اسمبلی نرمل جو ضلع عادل آباد کا مرکزی علاقہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک منفرد مقام اس حلقہ کو حاصل ہے ۔ اس انتخابات کی پرچہ نامزدگیوں کے ادخال کے ساتھ ہی تمام امیدواروں نے بڑے پیمانے پر اپنی اپنی انتخابی مہم کا آغاز کردیا جبکہ پرچہ نامزدگی کی آخری تاریخ 9 اپریل کو کانگریس سے موجودہ رکن اسمبلی مسٹر الیٹی مہیشورا ریڈی ، تلگودیشم سے مسٹر مرزا یسین بیگ بابر ، ٹی آرایس سے کے سری ہری راؤ ، بہوجن سماج پارٹی سے مسٹر اے اندر کرن ریڈی ، وائی ایس آر کانگریس سے اے ملاریڈی نے اپنا اپنا پرچہ نامزدگی داخل کی جبکہ آزاد امیدواروں نے بھی پرچہ نامزدگیاں داخل کی واضح رہے کہ حلقہ اسمبلی نرمل سے لمحہ آحر تک مسٹر اے اندرا کرن ریڈی کانگریس ٹکٹ کیلئے کوشاں رہے جبکہ موجودہ رکن اسمبلی مسٹر شیوا ریڈی پرجا راجیم سے منتخب ہوتے ہوئے پارٹی کو کانگریس میں ضم کردئے جانے کے بعد کانگریسی قائد کہلانے لگے ۔ تاہم مسٹر اندرا کرن ریڈی کے حامیوں کی بڑی تعداد مسٹر اے اندرا کرن ریڈی کو انتخابی میدان میں اترنے پر دباؤ ڈالا اور پرچہ نامزدگی کے وقت بڑی تعدادمیں ان سے رجوع ہوتے ہوئے ان کو حوصلہ بخشا اندرا کرن ریڈی ہاتھی کے نشان سے انتخابی میدان میں اترے ہیں جنہیں چاہنے والے ’’ ہاتھی میرے ساتھی ‘‘ کہہ رہے ہیں۔ دوسری طرف موجودہ رکن اسمبلی کو اس بات کا یقین ہے کہ تلنگانہ کی تشکیل کانگریس کا کارنامہ ہے اور عوام کانگریس کو استحکام بخشیں گے ۔ ٹی آر ایس اس یقین کے ساتھ پرامید ہیکہ تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کی برسوں سے کی گئی جدوجہد کو عوام بھلا نہیں سکتے ۔ تلگودیشم کے امیدوار کی یہ سونچ ہے کہ ہائی ٹیک چیف منسٹر کو زمانہ اب بھی یاد کر رہا ہے ۔ وائی ایس آر کہہ رہی ہے کہ ریاست میں غریب عوام کے علاج اور حکومت کی جانب سے طلباء کی فیس کی ادائیگی سنہری لفظوں میں لکھی جائے گی ۔ تاہم آگے آگے حالات کیا موڑ اختیار کریں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔ فی الحال تمام امیدوار گھر گھر پہونچکر اپنی اپنی کامیابی کیلئے پارٹی کا ساتھ دینے کی اپیل کر رہے ہیں ۔ شدید گرمی کی شدت کے باوجود قائدین رات دیر گئے تک لائحہ عمل کی فکر میں ہیں یاد رہے کہ گذشتہ انتخابات میں حلقہ اسمبلی نرمل سے الیٹی مہیشور ریڈی کو 44261 ووٹ ملے ، دوسرے نمبر پر اے اندرا کرن ریڈی کو 41716 ووٹ حاصل ہوئے جبکہ ٹی آر ایس تلگودیشم مہاکوٹمی کے امیدوار مسٹر کے سری ہری راؤ نے 35458 ووٹ حاصل کئے تھے ۔ اب کی بار ووٹوں میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ دستبرداری کی تاریخ کے بعد پس منظر کے تبدیل ہونے کا مکان ہے ۔