نتیش کمار کا استعفی ’’نوٹنکی ‘‘چیف منسٹر مہاراشٹرا سے بھی استعفی کا مطالبہ

ممبئی 20 مئی (سیاست ڈاٹ کام ) پارٹی کی انتخابی ناکامی پر چیف منسٹر بہار کے عہدہ سے نتیش کمار کے استعفی کو صرف ’’نو ٹنکی‘‘قرار دیتے ہوئے شیو سینا نے کہا کہ اگر وہ این ڈی اے میں برقرار رہتے تو ان کی پارٹی کو ایسی شرمناک شکست نہ ہوتی ۔ شیو سینا نے کہا کہ چیف منسٹر مہاراشٹرا پرتھوی راج چوان کو ریاست میں کانگریس کی ناکامی کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدہ سے استعفی دے دینا چاہئے ۔ پارٹی کے ترجمان سامنا میں شائع اداریہ کے بموجب مودی کی آندھی بہار میں اتنی شدید تھی کہ صرف جے ڈی یو ہی نہیں بلکہ آر جے ڈی اور کانگریس بھی راکھ کا ڈھیر بن گئیں۔ نریندر مودی کو بی جے پی کا وزارت عظمی امیدوار نامزد کرنے کے بعد نتیش کمار نے اندیشہ کرتے ہوئے کہا کہ بہار کے مسلم دلت پارٹی کی تائید ترک کردیں گے این ڈی اے سے ترک تعلق کرلیا تھا۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ بہار کے مسلم غالب آبادی والے علاقوں میں بی جے پی کو فائدہ پہنچا اور اس نے زبردست اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی۔ مودی کی مخالفت سے نتیش کمار کو آخر کیا ملا۔ اگر وہ این ڈی اے میں برقرار رہتے تو انہیں ایسی اہانت کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔ بی جے پی نے حالیہ لوک سبھا انتخابات میں 18 نشستیں حاصل کرلی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نتیش کمار کا سیاسی فیصلہ غلط تھا جس کی وجہ سے وہ آج مایوسی کا شکار ہیں۔ حالانکہ انہوں نے استعفی دینے کا ناٹک کیا ہے لیکن انہوں نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش نہیں کی کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ بہار سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوجائے ۔

وہ اب لالو پرساد یادو سے ملاقات کر کے مودی کے مقابلے میں ان سے اتحاد کی باتیں کررہے ہیںحالانکہ انہوں نے اخلاقی بنیادوں پر استعفی دیا ہے لیکن غیر اخلاقی طور پر لالو پرساد سے اتحاد کررہے ہیں۔ کانگریس زیر قیادت جمہوری محاذ حکومت برائے مہاراشٹرا کو اسی مسئلہ پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شیو سینا نے کہا کہ نتیش کمار نے کم از کم استعفی کا ناٹک تو کیا ہے لیکن کانگریس ۔این سی پی حکومت مہارشٹرا میں ایسا بھی نہیں کررہی ہے ۔ مہاراشٹرا سے کانگریس کا صفایا ہوچکا ہے ۔ اشوک چوان نے اپنی شخصیت کی وجہ سے ہنگولی میں حادثاتی طور پر کامیابی حاصل کرلی۔ سامنا کے اداریہ میں کہا گیا ہے کہ مستعفی ہونے کیلئے پرتھوی راج چوان پر دباؤ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ پارٹی میں داخلی طور پر ہی ان پر دباؤ بڑھ رہا ہے ۔ اترا کھنڈ ،آسام اور دیگر کانگریس زیر قیادت ریاستوں کے چیف منسٹر س بھی انتخابی شکست کے باوجود اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے تیار نہیں ہیں۔عام آدمی پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے شیو سینا نے کہا کہ دہلی کی عام آدمی پارٹی نے اخلاقی بنیادوں پر استعفی دے کر لوک سبھا انتخابات میں حصہ لیا تاہم ان انتخابات میں ناقص کارکردگی کے بعد وہ دہلی واپس ہوگئی ہیں اور تشکیل حکومت کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے ۔ عام آدمی پارٹی سمجھتی ہے کہ عوام کا عطا کردہ اقتدار ’’بچوں کا کھلونا‘‘ ہے۔