ظہیرآباد۔15 اکٹوبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ظہیرآباد منڈل پرجا پریشد کے آج یہاں منعقدہ سہ ماہی اجلاس میں تمام اراکین منڈل پریشد اور سرپنچوں نے ایک آواز ہوکر دیہی حاملہ خواتین کو ناقص غذائیں سربراہ کئے جانے پر متعلقہ عہدیدار کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ صحت مند بچہ کی پیدائش کیلئے حکومت کی جانب سے شروع کردہ امرت ہستم اسکیم کے تحت دیہی حاملہ خواتین کو تغذیہ بخش عذائیں فراہم کرنے کے بجائے ناقص غذائیں فراہم کی جارہی ہیں جس کی وجہ سے حاملہ خاوتین کی صحت پر مضر اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔ اجلاس میں بعض عہدیداروں کی غیرحاضری اور غیر مجاز افراد کی شرکت کے علاوہ برقی بحران کے سبب زراعت پر پڑنے والے منفی اثرات اور پینے کے پانی کی سربراہی میں ہورہی رکاوٹ کو شریک اجلاس عوامی نمائندوں سے نے موضع بحث بنایا ۔ دریں اثناء منڈل ڈیولپمنٹ آفیسر مسٹر رام بابو نے مخاطب کرتے ہوئے شرکاء اجلاس کو بتایا کہ عوام کے پاس موجودہ تمام راشن کارڈس کی قانونی حیثیت آئندہ ماہ نومبر تک ختم ہوجائے گی جب کہ ماہ ڈسمبر میں تلنگانہ حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے فوڈ سیکیورٹی کارڈس جاری کئے جائیں گے ۔ انہوں نے تمام اراکین منڈل پریشد اور سرپنچوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے حلقہ جات میں مقیم مستحقین کو فوڈ سیکیورٹی کارڈس اور وظائف کے حصول کیلئے 15 اکٹوبر تک درخواستیں متعلقہ گرام پنچایت آفس میں داخل کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 ایکڑ خشک اراضی یا 2.5 ایکڑ تری اراضی رکھنے والے افراد فوڈ سیکیورٹی کارڈ کے حصول کے اہل ہوں گے جب کہ مذکورہ رقبوں سے زیادہ اراضیات کے مالکین کے علاوہ آر سی سی مکانوں کے مالکین فوڈ سیکیورٹی کارڈ کے حصول کے مستحق نہیں ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ خاندان کا ایک ہی فرد جس کی عمر 65 سال ہو وظیفہ پیرانی سالی کا حقدار ہوگا جب کہ بیواؤں اور معذوروں کے وظائف کی منظوری کیلئے اس طرح کا کوئی لزوم نہیں ہے ۔ انہوں نے مواضعات کے راشن کارڈ رکھنے والوں اور وظائف سے استفادہ کرنے والوں کے ساتھ ساتھ تاحال راشن کارڈ اور وظائف سے محروم مستحقین کو بھی درخواستیں داخل کرنے پر زور دیا ۔ انہوں نے گرام پنچایتوں میں سرپنچوں کی موجودگی میں وظائف تقسیم کرنے کی متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت کی ۔ اسسٹنٹ انجنیئر پنچایت راج مسٹر کوٹیشور راؤ ظہیرآباد منڈل کے مختلف مواضعات میں 23.5لاکھ روپئے کی لاگت سے پایہ تکمیل کو پہنچنے والے ترقیاتی کاموں کی تفصیلات سے اجلاس کو واقف کرایا اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی انکشاف کیا کہ مواضعات الگول‘ علی پور ‘ دھناسری ‘ ملچلہ ‘ پستاپور اور رنجہول میں 60لاکھ روپئے کی لاگت سے گرام پنچایت کی عمارتوں کی تعمیر کے لئے ٹنڈرس طلب کئے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ 32 کے منجملہ 8مواضعات میں سڑکیں اور موریاں تعمیر کی جاچکی ہیں جبکہ بقایا مواضعات میں تعمیری کام کا جلد آغاز ہوگا ۔ اجلاس میں اس موقع پر رکن ضلع پریشد ‘ اراکین منڈل پریشد ‘سرپنچس کے علاوہ مختلف محکمہ جات کے عہدیداران موجود تھے ۔