جڑچرلہ /21 اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) تخلیقی ادب کے ذریعہ ادارہ ادب اسلامی اخلاقی اقدار کے فروغ و ارتقاء کیلئے پچھلے 65 برسوں سے مسلسل جدوجہد کر رہی ہے ساتھ ہی اس کا مقصد ادب کو منفی رحجانات ، فکری پراگندگی اور غیر اخلاقی میلانات سے پاک کرنا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار سید ریاض تنہاء صدر ادارہ ادب اسلامی ہند تلنگانہ ، آندھرا و اڑیسہ نے جڑچرلہ میں ادارہ ادب اسلامی کے ادبی اجلاس سے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میں تعمیری ادب کو پروان چڑھانا وقت کا اولین تقاضہ ہے ۔اس موقع پر انہوں نے ادارہ ادب اسلامی کی رفتار کار پر سرسری رپورٹ پیش کی ۔ حلیم بابر سرپرست ادارہ ادب اسلامی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ معاشرے میں نوجوانوں میں ادبی شعور کو بیدار کیا جائے اور معاشرے کو صحیح سمت پر لیجانے کیلئے تعمیری ادب سے مدد لی جائے اور نئی نسل میں مثبت اور تعمیری فکر کیلئے کام کرنا اس عہد کی ضرورت ہے ۔ اس موقع پر ظہیر ناصری نے اپنے خطاب میں علامہ اقبال کے فکری پہلوؤں پر روشنی ڈالی ۔ اس اجلاس کو ڈاکٹر عزیز سہیل لکچرار ، محمد علی دانش اور سلطان چشتی مرزائی نے بھی مخاطب کیا ۔ محمد مصطفی کی تلاوت سے اجلاس کا آغاز عمل میں آیا ۔ ڈاکٹر عزیز سہیل نے ادارہ ادب اسلامی جڑچرلہ کی تشکیل کردہ کمیٹی کا اعلان کیا ۔ سرپرست جناب جلال الدین عارف ، حافظ سید جعفر علی ، محمد غوث ربانی ، محمد یوسف ، سلطان چشتی ، مشیر اعلی مظہر شریف ، علی اکبر ، ظہیر ، محمد فرید ، صدر محمد علی دانش ، نائب صدر محبت علی منان ، محمد نیاز الدین ، جنرل سکریٹری جلیل رضا ، شریک معتمد محمد عبدالمقیت ، عرفان شاہد ، خازن محمد مصطفی نائب خازن اظہرالدین امتیاز کنوینر عظیم راناؔ تقی احمد تقی نشر و اشاعت محمد معز الدین ، ستار عاشق ، محمد خلیل اراکین ، خواجہ معین الدین خوشترؔ ، ممتاز حسینؔ نقشبندی ، باسط مظہریؔ محمد عبدالحسیب ، محمد عقیل ، سلطان پاشاہ رمزہؔ حبیب الدین حبیبؔ ضیاء سلطانیؔ ، جعفر کاظمی ۔ کمیٹی کی تشکیل کے بعد نعتیہ مشاعرہ مسٹر جلیل رضاؔ کی نظامت میں منعقد ہوا جس میں جعفر کاظمی ، ممتاز حسینؔ ، سلطان پاشاہ رمزؔ ، خواجہ معین الدین خوشترؔ ، باسط مظہریؔ ، جلیل رضاؔ ، محب علی منانؔ ، تقی احمد تقیؔ ، عظیم راناؔ ، محبوب نگر کے شعراء میں جامی وجودیؔ ، انجم برہانیؔ ، صادق فریدیؔ ، ظہیر ناصریؔ نور آفاقی ، حلیم بابر اور مہمان سید ریاض تنہاؔ نے اپنا کلام پیش کیا ۔ محمد علی دانش کے شکریہ پر مشاعرہ کا اختتام عمل میں آیا ۔