میونسپل نندیال کا اجلاس، 25کونسلرس کا واک آؤٹ

نندیال۔/ 4 فبروری ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نندیال بلدیہ کا ماہانہ اجلاس چیرمین محترمہ دیشم سلوچنا کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سبھی پارٹیوں کے 41 کونسلرس حاضر رہے ان میں 29تلگودیشم ، 9وائی سی پی اور تین کو آپٹیڈ ممبرس تھے۔ محترمہ دیشم سلوچنا نے ایجنڈہ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے جلسہ کاآغاز کرنے کو کہتے ہی تلگودیشم کے وائس چیرمین گنگی شیٹی وجے کمار نے مداخلت کرتے ہوئے پہلے ایجنڈہ میں غلطیوں کی بھرمار کی وجہ بتانے کے بعد ہی اجلاس کا آغاز کرنے کو کہا۔ تلگودیشم پارٹی کے وائس چیرمین اور ان کے ساتھ 13تلگودیشم کے کونسلرس بھی ایجنڈہ کے خلاف آواز اٹھائی لیکن چیرمین سلوچنا نے ان کی ایک نہ سنی اور ایجنڈہ کو پیش کرنے کا حکم دیا لیکن تلگودیشم کے وائس چیرمین اور 13کونسلرس اور تین کوآپٹیڈ ممبرس ایجنڈہ پر گرما گرم مباحث کے بعد واک آوٹ کیا۔ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپوزیشن وائی سی پی کے 9کونسلرس بھی ایجنڈے میں سرزد غلطیوں کو گنوانے کے بعد واک آؤٹ کیا۔ واک آؤٹ کے بعد تلگودیشم اور وائی سی پی کے کونسلرس نے الکٹرانک میڈیا کے سامنے سلوچنا کی تانا شاہی کی مذمت کرتے ہوئے سلوچنا کے استعفی کی پرزور مانگ کی۔ بلدیہ اجلاس میں اور 15کونسلرس موجود تھے ان کی مدد سے چیرمین نے اپنی من مانی ایجنڈہ کو پاس کرواکر اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئی۔ اس طرح واک آؤٹ کرتے ہوئے کونسلرس اپنے مقصد میں ناکام ہونے کے بعدکونسل کے باہر احتجاج کیا۔ اس اجلاس کے بعد شہر کی دوسری پارٹیوں جیسے سی پی ایم، کانگریس اور کئی تنظیمیں میونسپل چیرمین کے تانا شاہی کی مذمت کے ساتھ فی الفور استعفی دینے کا مطالبہ کیا۔

نندیال بلدیہ میں تلگودیشم کے 29کونسلرس اور تین کوآپٹیڈ ممبرس ہونے کے باوجود تلگودیشم کے باہری جھگڑوں کی وجہ نندیال کے ترقی کاموں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہورہا ہے۔ اس کے چلتے نندیال تلگودیشم پارٹی میں تین گروپس ہونے کی چرچا زوروں پر ہورہی ہے۔ ایک گروپ جو تلگودیشم کے سینئر قائد سابق وزیر این محمد فاروق، کانگریس سے تلگودیشم ٹکٹ پر انتخاب لڑ کر ہارنے والے شلپا موہن ریڈی اور وائی سی پی ٹکٹ پر رکن پارلیمان کی حیثیت سے کامیاب ہونے والے ایس پی وائی ریڈی کے گروپس مانے جاتے ہیں۔ ایک پارٹی میں تین گروپوں کے لیڈروں کے درمیان ہونے والے جھگڑوں سے تلگودیشم کے کارکن بیزار ہورہے ہیں۔ ان جھگڑوں کے بیچ نندیال شہر کی ترقی کی کوئی گنجائش کی امید نہیں۔ شہر کے لوگوں کا ماننا یہ ہے کہ اپنے جھگڑوں کو چھوڑ کر شہر کی ترقی میں لگ جائیں ورنہ آئندہ تلگودیشم پارٹی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ لوگوں کا کہنا یہ بھی ہے کہ تلگودیشم کا ایک گروپ جو اپنے ہی گروپ کے چیرمین کو ہٹاکر اس گروپ کا دوسرا کونسلر بلدیہ نندیال کے چیرمین کی کرسی چھیننے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ شہر کے لوگ نتیجہ کے انتظار میں ہیں۔