نئی دہلی /9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) نریندر مودی نے آج کانگریس اور اس کی سربراہ سونیا گاندھی کو مورد الزام ٹھہرایا کہ انھیں اقتدار سے روکنے کی کوشش میں ان کی شخصی زندگی اور ان کی ذات سے متعلق مسائل اٹھاتے ہوئے گھٹیا سیاست چلائی جا رہی ہے۔ 3D ہولو گرام ریلیوں کے بارہ راؤنڈس کے منجملہ اپنے آخری مرحلہ کو مخاطب کرتے ہوئے، جن کے ذریعہ وہ ملک بھر کے 1300 مقامات کا احاطہ کرچکے ہیں، انھوں نے الیکشن کمیشن سے آخری مرحلہ کی پولنگ میں سنٹرل فورسس کو تعینات کرنے کی اپیل کی،
تاکہ آزادانہ، منصفانہ اور پرامن رائے دہی کو یقینی بناتے ہوئے لاء اینڈ آرڈر برقرار رکھا جاسکے۔ مودی نے کہا ’’گزشتہ دو ماہ سے مجھے لگاتار گھٹیا حملوں کا سامنا رہا ہے۔ میں بھگوان اور عوام کی مہربانی سے اس کا بخوبی سامنا کرتا آیا ہوں۔ انھوں (اپوزیشن) نے اس الیکشن کو فرقہ وارانہ رنگ دے دیا اور میرے بچپن سے لے کر میری نجی زندگی سے متعلق مسائل اٹھائے۔ آپ اس الیکشن میں اس قدر پستی تک آگئے کہ آپ نے میری ذات کے بارے میں ریمارکس کئے اور جھوٹے الزامات عائد کئے۔ آپ مودی کو گالی دیں یا اسے سولی پر لٹکادیں، لیکن ایک چھوٹی ذات کو کیوں نشانہ بناتے ہو، جو آبادی کا نصف فیصد بھی نہیں ہے‘‘۔
’’مودی لہر، آر ایس ایس، وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کی ذہنی اختراع‘‘
مہاراج گنج میں اکھیلیش یادو کا انتخابی ریالی سے خطاب
مہاراج گنج (یو پی) ۔ 9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعلیٰ یوپی اکھیلیش یادو نے آج ترقیاتی موضوع پر بی جے پی اور بی ایس پی دونوں کو تنقیدوں کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صرف ان کی سماج وادی پارٹی ہی ریاست میں ترقی کی ضامن ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی کا نام لئے بغیر کہا کہ ابتداء میں ان لوگوں نے گجرات ماڈل کے نام پر مودی لہر پیدا کرنے کی کوشش کی جو دراصل آر ایس ایس، وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کی ذہنی اختراع تھی لیکن جب عوام نے اس میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اور لہر اپنا اثر دکھاتی نظر نہیں آئی تو بی جے پی نے ’’مودی سرکار‘‘ کا نعرہ دیا۔ مہاراج گنج میں ایک انتخابی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے عوام کو خبردار کیا
کہ وہ زعفرانی ٹولے کے افواہیں پھیلانے کے ہتھکنڈے سے ہوشیار رہیں۔ اکھیلیش نے بی ایس پی سربراہ مایاوتی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ترقی کے نام پر انہوں نے صرف مجسموں کی تنصیب میں پیسہ بہایا۔ انہوں نے مایاوتی کے اس ریمارک کا بھی تذکرہ کیا جہاں مایاوتی نے کہا تھا کہ اگر بی آر امبیڈکر نہ ہوتے تو ملائم سنگھ اور اکھیلیش کسی چراگاہ میں مویشیوں کو چرا رہے ہوتے اور کہا کہ انہوں نے ہمیشہ مایاوتی کا احترام کیا ہے اور مجسموں کو نقصان پہنچائے جانے کے واقعہ کے بعد ان کی درستگی کرواکر انہیں دوبارہ نصب کروایا۔