محمد نعیم وجاہت
حلقہ پارلیمان میدک کا ضمنی انتخاب تمام سیاسی جماعتوں کے لئے وقار کا مسئلہ بنا ہوا ہے، جب کہ فی الحال انتخابی مہم میں تمام جماعتوں پر حکمراں ٹی آر ایس کو سبقت حاصل ہے۔ کانگریس اور بی جے پی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں اور رائے دہندوں کو راغب کرنے کے لئے تمام جماعتوں کے قائدین گھر گھر پہنچ کر انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ 2014ء کے عام انتخابات اور میدک کے ضمنی انتخاب میں کافی فرق نظر آرہا ہے۔ صدر وائی ایس آر کانگریس نے اپنے کسی امیدوار کو انتخابی مقابلہ میں نہیں اتارا ہے۔ عام انتخابات میں سی پی آئی نے کانگریس سے اور سی پی ایم نے وائی ایس آر کانگریس سے اتحاد کیا تھا، تاہم ضمنی انتخاب میں دونوں کمیونسٹ جماعتیں ٹی آر ایس امیدوار کی تائید کر رہی ہیں۔ عام انتخابات کے دوران تلگودیشم اور بی جے پی اتحاد میں حلقہ لوک سبھا میدک کی نشست بی جے پی کے حصہ میں گئی تھی، جب کہ اس مرتبہ تلگودیشم نے نہ صرف بی جے پی کی تائید کا فیصلہ کیا ہے، بلکہ بی جے پی امیدوار کی تائید میں انتخابی مہم بھی چلا رہی ہے۔ بی جے پی نے عام انتخابات میں حلقہ اسمبلی سنگاریڈی سے بحیثیت کانگریس امیدوار شکست کھانے والے جگاریڈی کو لمحۂ آخر میں اپنا امیدوار بناکر کانگریس کو بہت بڑا دھکا دیا ہے، جب کہ کانگریس نے انھیں دو ہفتہ قبل ہی ضلع میدک کانگریس کا صدر نامزد کیا تھا۔ اس انتخاب میں کانگریس پارٹی تنہا مقابلہ کر رہی ہے اور سابق وزیر مسز سنیتا لکشما ریڈی کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔
انتخابی مہم عروج پر پہنچ گئی ہے۔ میدک میں ٹی آر ایس، کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سہ رُخی مقابلہ ہے۔ انتخابی مہم کا جائزہ لیا جائے تو حکمراں ٹی آر ایس کی انتخابی مہم نے تمام جماعتوں کو کافی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ریاستی وزیر آبپاشی ہریش راؤ ٹی آر ایس کی انتخابی مہم کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں اور پارلیمانی حلقہ میدک کے تمام اسمبلی حلقہ جات میں طوفانی دورہ کرکے پارٹی کے لئے عوامی تائید حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔
دراصل میدک لوک سبھا کا ضمنی انتخاب صرف ضابطے کی کارروائی ہے۔ رائے دہی سے قبل ٹی آر ایس کی کامیابی یقینی نظر آرہی ہے، اس کی توجہ صرف اکثریت پر مرکوز ہے۔ عام انتخابات میں صدر ٹی آر ایس کے چندر شیکھر راؤ نے تقریباً 4 لاکھ ووٹوں کی اکثریت سے کامیاب حاصل کی تھی، اب ٹی آر ایس اس سے زیادہ ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے لئے انتخابی مہم چلا رہی ہے۔ ٹی آر ایس کی انتخابی مہم انتہائی منظم اور پارٹی قائدین میں اتحاد ہے۔ پارٹی کے تمام ارکان اسمبلی میدک میں کیمپ کرتے ہوئے عوام سے رجوع ہو رہے ہیں، جس سے پارٹی قائدین و کارکنوں میں کافی جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔ ضلع کے سینئر کانگریس قائد و سابق ریاستی وزیر محمد فرید الدین کی ٹی آر ایس میں شمولیت سے کافی فائدہ ہوا ہے۔ ان کی شمولیت سے مسلمانوں کا جھکاؤ ٹی آر ایس کی طرف بڑھ گیا ہے، جب کہ دوسری طرف کانگریس قائدین کے درمیان اتحاد اور تال میل کا فقدان ہے۔
ضلع میدک سے کانگریس کے ایک ہی مسلم لیڈر محمد فاروق حسین رکن قانون ساز کونسل ہیں، تاہم پارٹی میں ان کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ حلقہ اسمبلی دوماٹ سے ماضی میں محمد فاروق حسین کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کرچکے ہیں اور پڑوسی حلقہ اسمبلی سدی پیٹ کے رہنے والے ہیں، مگر سدی پیٹ کے انتخابی جلسہ میں فاروق حسین کی تصاویر اور پوسٹرس کو یکسر نظرانداز کردیا گیا، جس کی وجہ سے ان کے حامیوں نے جلسہ میں ہنگامہ آرائی کی اور شہ نشین پر قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی اور فاروق حسین کے درمیان بحث ہو گئی۔
بی جے پی امیدوار جگاریڈی کو مسلمان ہرگز نہیں پسند کرتے، انھیں حلقہ اسمبلی سنگاریڈی میں شکست سے دو چار کرنے میں مسلمانوں نے اہم رول ادا کیا ہے، کیونکہ ان کے دور میں سنگاریڈی کے فساد میں مسلمانوں کا کافی مالی نقصان ہوا، اسی وجہ سے مسلمان ان سے سخت ناراض ہیں۔ اب بی جے پی کے ٹکٹ پر مقابلہ کرتے ہوئے انھوں نے اپنے پیروں پر خود ہی کلہاڑی مارلی ہے۔ علاوہ ازیں تلگودیشم نے بی جے پی سے اتحاد کرکے خود کو اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے دُور کرلیا ہے۔ بی جے پی کو تلگودیشم کی تائید ضرور حاصل ہے، مگر تلگودیشم سے وابستہ مسلمان بی جے پی امیدوار کی تائید کے لئے تیار نہیں ہیں۔
ہر سیاسی جماعت آپسی خلفشار کا شکار ہے، ایک قائد دوسرے قائد کا احترام نہیں کرتا، بلکہ علحدہ علحدہ گروپس میں تقسیم ہیں، جو ان کی سب سے بڑی کمزوری اور ٹی آر ایس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ضلع میدک کے چند علاقوں میں کمیونسٹ جماعتوں کا اچھا خاصا اثر ہے۔ ٹی آر ایس کی اب تک کی حکمت عملی کامیاب رہی ہے، جو مختلف جماعتوں کے قائدین کو پارٹی میں شامل کر رہی ہے اور اپوزیشن جماعتوں کی کمزوریوں کا بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے۔ ایک وہ بھی دَور تھا، جب ضلع میدک کو کانگریس کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ ایمرجنسی کے بعد جب ملک میں کانگریس کی حالت انتہائی خستہ تھی تو آنجہانی اندرا گاندھی نے میدک سے مقابلہ کرکے کامیابی حاصل کی تھی، تاہم اس مضبوط قلعہ کو کانگریس نے اپنی غلطیوں سے مسمار کردیا۔ 2014ء کے عام انتخابات میں حلقہ اسمبلی اندول سے ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا کی شکست سے یہ اندازہ ہوتا ہے کانگریس کس نازک دَور سے گزر رہی ہے۔
صدر کانگریس سونیا گاندھی نے سیما۔ آندھرا میں کانگریس کی قربانی دیتے ہوئے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دی، تاہم تلنگانہ کے کانگریس قائدین اس کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے۔ ہر قائد خود کو چیف منسٹر تصور کرنے لگا تھا، عوام تو عوام پارٹی قائدین و کارکنوں تک کو اہمیت نہیں دی، یعنی دولت اور سیاسی طاقت کے نشے میں چور ہونا ان کی شکست کی وجہ بنی۔ کانگریس نے اپنی شکست سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا، جب کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے اہم قائدین کو ٹیلیفون کرکے پارٹی کے لئے متحدہ طورپر انتخابی مہم چلانے کا مشورہ دیا ہے۔بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے اپنے دورۂ حیدرآباد کے موقع پر جنوبی ہند میں بی جے پی کو مضبوط بنانے اور میدک کے ضمنی انتخاب پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے پارٹی قائدین و کارکنوں کو مشورہ دیا، اس کے باوجود کانگریس، بی جے پی اور تلگودیشم قائدین میں جوش و خروش کم دکھائی دے رہا ہے۔
چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ابھی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیا، جب کہ ان کے حصہ لینے کے بعد ٹی آر ایس کا موقف مزید مستحکم ہوگا۔ بی جے پی کے صدر، چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو اور تلگو فلموں کے اداکار پون کلیان کو انتخابی مہم میں اُتارنا چاہتے ہیں۔ بی جے پی کی قومی قیادت دونوں کے ساتھ رابطہ میں ہے، اگر نائیڈو اور پون کلیان انتخابی مہم میں حصہ لیں گے تو بی جے پی کے لئے مقابلہ میں رہنے جیسا موقف حاصل ہوسکتا ہے، جب کہ تلنگانہ کے کانگریس قائدین اپنی انتخابی مہم سے خود بھی مطمئن نہیں ہیں۔
ٹی آر ایس اپنے دور اقتدار کے تقریباً 100 دن مکمل کر رہی ہے، مگر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی کار کردگی کا جائزہ لیا جائے تو اطمینان بخش قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ ان 100 دنوں میں ٹی آر ایس کے انتخابی منشور میں کئے گئے وعدوں میں سے کسی ایک وعدہ کو بھی عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔ ایک کابینی اجلاس میں 44 موضوعات کو منظوری تو دی گئی، مگر ان پر عمل آوری نہیں ہوئی۔ ناکافی بارش اور برقی قلت کے سبب کسان پریشان ہیں، سو سے زائد کسان خودکشی کرچکے ہیں۔ دوسری ریاستوں سے برقی کی خریدی یا مرکز سے تعاون کے لئے اقدامات نہیں کئے گئے، کسانوں کے قرضہ جات معاف نہیں کئے گئے، جب کہ چیف منسٹر کے آبائی ضلع میدک میں پولیس نے کسانوں پر لاٹھی چارج کی۔ جب کنٹراکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کے مسئلہ پر عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ نے احتجاج کیا تو ان پر بھی لاٹھی چارج ہوئی، تاہم اپوزیشن جماعتوں کانگریس، تلگودیشم اور بی جے پی نے کسانوں اور طلبہ کا ساتھ نہیں دیا اور نہ ہی ان کی تائید میں حکومت کے خلاف پیدا ہونے والی عوامی لہر سے کوئی فائدہ اٹھا سکیں، جب کہ مسائل سے دو چار ٹی آر ایس قائدین عوام کے درمیان رہ کر ان کا اعتماد حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔