مہلک امراض کے شکار غریبوں کا مفت علاج حکومتوں کی ذمہ داری

دہرہ دون 18 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر کے مریضوں کا پتہ چلا کر اس مرض کے انسداد کیلئے ٹھوس کوشش کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے گورنر اترا کھنڈ عزیز قریشی نے کہا کہ حکومتوں کو چاہئے کہ وہ مہلک امراض کا شکار غریبوں کا علاج خود کرے ۔ مہلک مرض جیسے کینسر سے متاثرہ غریب افراد کے علاج کے مصارف حکومت کی جانب سے ادا کئے جانے چاہئے ۔ عزیز قریشی کل یہاں راج بھون کے اڈیٹوریم میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ کینسر کو شکست دینے کے موضوع پر یہ کانفرنس منعقد کی گئی تھی۔ انہوں نے تجویز رکھی کہ پارلیمنٹ میں ایک قانون بنانا چاہئے اور غریبوں کو مفت علاج فراہم کیا جائے ۔ اس سلسلہ میں کمیٹیاں تشکیل دی جائیں اور پنچایت و میونسپل سطح پر کمیٹیوں کے ذریعہ غریبوں کی مدد کی جائے ۔ غریب مریضوں کے معائنہ کراتے ہوئے انہیں بروقت طبی امداد پہونچائی جائے ۔ اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر ہریش راوت نے کہا کہ گورنر کی تجویز پر غور کیا جانا چاہئے اس کے ساتھ ایک تجویز تمباکو اشیاء پر ۔۔۔ عائد کرنے کی بھی دی جارہی ہے کیونکہ تمباکو اشیاء ہی کینسر کی اصل وجہ بن رہی ہیں۔ انہو ںنے یہ بھی وکالت کی کہ تمام اضلاع میں کینسر کا پتہ چلانے والے مراکز کو قائم کیا جائے ۔ عوام میں بیداری مہم پیدا کی جائے ۔ اگر عوام کو شعوری طور پر بیدار کیا جائے تو کینسر کے 80 تا 90 فیصد کیس قابل علاج ہوں گے ۔