مہاراشٹرا میں ذبیحہ گاؤ پر امتناع ’ووٹ بینک سیاست‘

ممبئی ؍ پاناجی ۔ 5 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا میں ذبیحہ گاؤ پر امتناع کے قانون کو صدارتی منظوری کے بعد تاجروں کی اسوسی ایشن نے بی جے پی زیرقیادت ریاستی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ’’ووٹ بینک سیاست‘‘ کیلئے ان سے روزگار چھین رہی ہے۔ صدر بیف ٹریڈرس اسوسی ایشن عبدالقریشی نے کہا کہ دنیا کی ہر حکومت کا فرض ہیکہ اپنے شہریوں کو روزگار فراہم کرے لیکن اس حکومت نے ہمارے روزگار کا ذریعہ چھین لیا ہے۔ کئی نسلوں سے ہم نے اس کاروبار کو ترقی دی تھی جسے ایک ہی لمحہ میں ووٹ بینک سیاست کی خاطر تباہ کردیا گیا۔ ملک بھر کے بازاروں میں مہاراشٹرا سے 25 فیصد بھینس کا گوشت سربراہ کیا جاتا ہے۔ پونے میں ایک ہزار سے زیادہ جانوروں کا روزانہ ذبیحہ ہوتا ہے۔ ہر مویشی سے تقریباً 200 کیلو گرام گوشت حاصل ہوتا ہے۔ اسوسی ایشن کے صدر نے سوال کیا کہ حکومت اب ہم سے اپنے خاندانوں کی پرورش کیلئے کیا کام کرنے کی توقع رکھتی ہے۔

گذشتہ ماہ بیف کے تاجروں نے دائیں بازو کے گروپ کی جانب سے مویشیوں پر قبضہ کرلینے کے خلاف بطور احتجاج غیرمعینہ مدت کی ہڑتال کی تھی جو چیف منسٹر مہاراشٹرا کے اس تیقن پر ختم کی گئی تھی کہ ان کے کاروبار کو متاثر ہونے نہیں دیا جائے گا۔ پاناجی سے موصولہ اطلاع کے بموجب گوا میں بیف کی قلت کا ازالہ کرنے کیلئے ریاست کی بی جے پی زیرقیادت حکومت امکان ہیکہ اپنے طور پر بیف کی فروخت شروع کردے گی۔ ایک سرکاری عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ گوشت کی قلت کیلئے تاجروں کا مافیا ذمہ دار ہے۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر گوا میٹ کامپلکس منڈن مانٹیرو نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری محکمہ جو گوا میں قانونی خدمات فراہم کرنے والا واحد محکمہ ہے۔ کہہ چکا ہیکہ بیف کی قلت مصنوعی ہے اور اس نے مویشیوں کے مافیا پر الزام عائد کیا ہے۔ حکومت ان قواعد و ضوابط کو قطعیت دے رہی ہے جن کے تحت حکومت خود بیف فروخت کرے گی۔