مٹ پلی کو اسمبلی حلقہ بنانے کا مطالبہ

مٹ پلی۔7جنوری( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مٹ پلی ریونیو ڈیویژن سادھنا کمیٹی کے صدر جناب نامپلی گٹیا نے مٹ پلی شاستری چوراہے پر منعقدہ بھوک ہڑتال میں حصہ لیتے ہوئے صحافتی بیان میں بتایا کہ مٹ پلی کی ترقی کے بجائے تزولی کی طرف لے جایا جارہا ہے اسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آزادی سے قبل نظام حکومت کے دور میں مٹ پلی کو ضلع کو صدر مقام کی حیثیت حاصل تھی ‘بعد اس کے مٹ پلی کو تعلقہ کا مقام دیا گیا تھا پھر پنچایتی صدر مقام ‘ پھر 1952 سے حالیہ دنوں تک مٹ پلی علحدہ اسمبلی حلقہ تھا ۔50سال قبل مٹ پلی میونسپل بھی تھا جس کے سب سے پہلے میونسپل چیرمین گنگا رام کو اعزاز حاصل ہوا ۔ اس کے باوجود مٹ پلی میں علاقہ تلنگانہ میں شہرت یافتہ کھادی کارخانے اور کئی شہیدان وطن مٹ پلی کے واسیوں نے آزادی تحریک ہند میں حصہ لیا ۔ صنعتی اعتبار سے بیڑی اور شکر کی صنعت اور زیوارت کی تیاری کے ذریعہ علاقہ کافی شہرت یافتہ ہے اور بے روزگاروں کا صنعتوں کے ذریعہ روزگار کے مواقع فراہم ہوئے ۔ علاقہ تلنگانہ شمالی حصہ میں کافی بڑی مٹ پلی زرعی مارکٹ یارڈ اور تین اضلاع کریم نگر ‘ نظام آباد ‘عادل آباد کے درمیان ضلع کی حیثیت پانے کیلئے شہر مٹ پلی سرحدی مقام رکھتا ہے ۔ مٹ پلی کپڑوں ‘ زیورات کی تجارت کیلئے کافی مشہور ہے اور اپنی منفرد حیثیت رکھتا ہے ۔ مٹ پلی سے کئی منڈلس ضلع نظام آباد سے کمرپلی ‘ بھیمگل ‘ مورتاڑ‘ بالکونڈہ ‘ ضلع عادل آباد سے خانہ پور ‘ مامڑہ ‘ کڈیم قریب تر ہیں ۔ ہراعتبار سے مٹ پلی نئے ضلع کا صدر مقام بنائے جانے کی حیثیت رکھتا ہے ۔ چند سیاسی قائدین اور موقع پرست لیڈروں کی وجہ سے مٹ پلی ترقی کی سمت جانے کے بجائے زوال کی سمت جارہا ہے ۔ انہوں نے تلنگانہ حکومت و چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ مٹ پلی کو نئے ضلع کا صدر مقام ریونیوڈیویژن اور علحدہ اسمبلی حلقہ بنایا جائے ۔ حکومت کی جانب سے تیقن ملنے تک بھوک ہڑتال جاری رہے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ حکومت 157 نئے اسمبلی حلقے بنانے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ ان نئے حلقہ جات میں مٹ پلی کو شامل کیا جائے ۔ آج منعقدہ بھوک ہڑتال میں مٹ پلی ریونیو ڈیویژن سادھنا کمیٹی کے قائدین مسٹر نامپلی گٹیا ‘ مسٹر گنٹوکاگنگادھر‘ مسٹر دیسا راجو دیولنگم ‘ مسٹر گنٹوکا پرساد ‘ ناگا سریندرا نرسمہا چاری‘ مسٹر الیٹی راجندر ‘ مسٹر پجاراپو پرساد ‘ جناب محمد صابر ‘ مسٹر گورو متلا سریندر ‘ مسٹر گنٹوکا سداشیوا اور دیگر نے حصہ لیا ۔