کریم نگر /17 نومبر ( ذریعہ فیاکس ) امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم پیدائش تقاریب کے سلسلے میں مولانا آزاد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیر سوسائٹی کریم نگر کے زیر اہتمام ’’اردو کنونشن و کل ہند مشاعرے ‘‘ کا انعقاد محمد ریاض علی رضوی جرنلسٹ و صدر مولانا آزاد سوسائٹی کریم نگر کی صدارت میں SBS فنکشن پیالیس میں عمل میں لایا گیا ۔ پروفیسر مجید بیدر نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا آزاد کی زندگی اور ان کے کارنامے ملک اور قوم بالخصوص مسلمانوں کیلئے مشعل راہ ہیں ۔ جنہوں نے اپنی عملی زندگی میں ایسے انمول نقوش چھوڑے ہیں جبکہ ہم ان کی 126 ویں یوم پیدائش منارہے ہیں ۔ پروفیسر مجید بیدار نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی تعلیمات و خدمات کو دیگر برادران نے عام کرنے کیلئے تلگو ، انگریزی میں لیٹریچر کی فراہمی ناگزیر ہے ۔ ڈاکٹر مسعود جعفری ریاستی صدر تلنگانہ مسلم انٹلکچول فورم نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کی ہمہ گیر شخصیت ہندوستان کی سیاسیات سماجیات پر کم و بیش نصف صدی تک چھائی رہی ۔ جن کے مقام کا تعین کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے ۔ وہ اپنے وقت سے آگے چل رہے تھے ۔ 20 ویں صدی کے ایک عظیم تفکر اور متحدہ ہندوستان کے علمبردار تھے ۔ محمد ریاض علی رضوی صدر مولانا آماد سوسائی کریم نگر نے مخاطب کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد کو ہمہ گیر شخصیت قرار دیا ۔ وہ جید عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کے مدبر سیاستداں تھے ۔ مولانا آزاد سوسائٹی کریم نگر 2009 سے نوجوان نئی نسل میں مولانا آزاد کی تعیمات و خدمات سے واقف کروانے کیلئے ہر سال پابندی سے مولانا آزاد تقاریب کے ضمن میں تحریری ، تقریری کوئیز مقابلے جات ، ہائی اسکول ، انٹرمیڈیٹ ، ڈگری پی جی سطح پر منعقد کرتے ہوئے طلباء و طالبات میں مولانا آزاد کے کار ہائے نمایاں خدمات سے واقف کروانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے ۔ اور اسی مشاعرہ میں ان طلباء و طالبات اردو تلگو انگریزی میڈیم سے تعلق رکھی ہوں انعامات و توصیفی اسناد پیش کئے جاتے ہیں ۔ اس موقع پر ڈاکٹر مجید بیدار ، ڈاکٹر مسعود جعفری نے کامیاب طلباء و طالبات میں انعامات تقسیم کئے اور اس کے بعد ڈاکٹر محمد خواجہ عرفان حسین ڈینٹل سرجن ولد مقبول حسین مرحوم کو ان کی نمایاں خدمات کے عوض بیسٹ ڈاکٹر کا ایوارڈ پیش کرتے ہوئے شال پوشی و گلپوشی و مومنٹکو پیش کیا گیا ۔ بعد ازاں کل ہند مشاعرہ شروع ہوا ۔ جس میں ڈاکٹر مجید بیدار ، ڈاکٹر مسعود جعفری ، مظہر رضی ، تسنیم جوہر ، معین امربمبو ، صابر کاغذنگری نے اپنا کلام پیش کرتے ہوئے زبردست داد و تحسین حاصل کی ۔ بالخصوص صابر کاغذنگری ، مظہر رضی ، تسنیم جوہر نے مشاعرہ کو لوٹ لیا ۔ مقامی شعراء افضل علی افضل واڑی ، فیصل واڑی ، نصیرالدین ، اشفاق درانی ، منصور توکلی نے بھی اپنا اپنا کلام پیش کیا ۔ مشاعرہ کا اختتام رات دیر گئے عمل میں آیا ۔ مہمانان میں سید محی الدین سیلز جرنلسٹ و صدر تحریک ترقی اردو ادب کریم نگر محمد عباس سمیع سابق ڈپٹی چیرمین کریم نگر ، الحاج عابد حسن صدر سنٹرل سٹیزن کریم نگر ، ایس اے محسن ، صدر وقف بورڈ کریم نگر ، سید اکبر حسن صدر ٹی آر ایس اقلیتی سیل کریم نگر ، سید اشتیاق احمد ، جنرل سکریٹری تلنگانہ مسلم انٹیلکچول فورم کریم نگر شامل تھے ۔ پروگرام کا آغاز جناب حافظ وسیم صاحب خطیب و امام مسجد زم زم کی قرات سے ہوا ۔ نعت پاک کا نذرانہ صابر کاغذنگری نے اپنے مخصوص انداز میں پیش کرتے ہوئے سامعین کو دم بخود کردیا ۔ مسعود علی اکبر جنرل سکریٹری مولانا آزاد سوسائٹی نے کارروائی چلائی ۔ بشیر الدین صدر نائب صدر سوسائٹی محمد فیاض علی رضوی سکریٹری محمد اکرم علی سکریٹری بشیر ، محمد ظفر خان ، ساجد علی صدیقی ، محمد ارشد علی اور دیگر مولانا آزاد سوسائٹی کے عہدیداروں اور کارکنوں نے مہمانوں کا استقبال کیا ۔ عوام کی سیکڑوں تعداد اس میں شریک تھی ۔