گمبھی راؤ پیٹ ۔ 23 ۔ اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی
(MANUU) میں فاصلاتی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء میں مایوسی کی لہر پائی جارہی ہے کیونکہ ہزاروں کی تعداد میں طلباء اپنی مصروفیات کی وجہ سے فاصلاتی تعلیم کے ذریعہ اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن جس طرح سے زبان اردو جو کہ مادری زبان ہے جس طرح اس زبان کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جارہا ہے وہ اس یونیورسٹی کے ذریعہ ظاہر ہورہا ہے کیونکہ اب تک بی اے سال اول میں داخلہ لینے کیلئے کوئی بھی نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوا صرف ایم اے اردو ، ایم اے انگلش میں داخلے ہورہے ہیں ۔ ہزاروں کی تعداد میں طلباء بی اے سال اول میں داخلوں کیلئے نوٹیفیکیشن کے انتظار میں ہیں اور ایسے ہزاروں طلباء و طالبات جو گزشتہ ستمبر 2013 ء میں داخلے لئے تھے ان کے سالانہ امتحانات فبروری 2015 ء میں ہوئے جو کہ بہت ہی دیر سے ہوئے اور طلباء کا کہنا ہے کہ انہوں نے ڈسمبر 2014 ء میں بی اے سال دوم اور بی اے سال سوم میں داخلہ کی فیس بذریعے ڈی ڈی فی طالب علم 1700/- ( سترہ سو روپئے ) یونیورسٹی کو روانہ کئے تھے لیکن اب تک ان کی کتابیں بذریعے پوسٹ نہیں پہنچیں ۔ اس طرح یونیورسٹی کے اعلی عہدیداروں کی لاپرواہی کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں طلباء کا مستقبل خراب ہوسکتا ہے ۔ اس لئے اعلی عہدیدار خصوصی توجہ دے کر بی اے میں داخلہ کے نوٹیفیکیشن اور سال دوم بی اے کی کتابیں بذریعے پوسٹ روانہ کریں ۔