موصل میں کرد فوج کا حملہ، 200 داعشی دہشت گرد ہلاک

بغداد ، 22 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) عراق کے نیم خود مختار صوبہ کردستان کی مسلح افواج ’’البیشمرکہ‘‘ نے شمالی عراق کے شہر موصل میں ایک بڑے زمینی اور فضائی حملے میں دولت اسلامی (داعش) کے کم سے کم دو سو جنگجو ہلاک کردیئے ہیں۔ کرد فوج نے 2014ء میں داعش کے قبضے میں چلے جانے والے موصل شہر کے کئی اہم علاقوں کو بھی شدت پسندوں سے آزاد کرا لیا ہے۔ میڈیا کے مطابق البیشمرکہ نے موصل ڈیم کے جنوبی علاقہ ’وانکی‘ میں دولت اسلامی کے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر ایک بڑا حملہ کیا جس کے نتیجے میں داعش کو غیر معمولی جانی اورمالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کرد فوج کے حملے کے بعد داعشی جنگجو پسپا ہو گئے ہیں۔ البیشمرکہ کے دھوک گونری کے سیکیورٹی کمانڈر الشیخ علی نے کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کی ویب سائیٹ کو انٹرویو میں بتایا کہ جنوبی موصل میں داعش اور کرد فوج کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ کرد فوجیوں نے چار اہم دیہات داعش کے قبضے سے آزاد کرا لئے ہیں، جہاں عسکریت پسند اپنے پندرہ لاشیں اور کئی زخمی چھوڑ کر فرار ہو گئے ہیں۔ کرد فوج کرمامز، العظیم اور نینویٰ کے دوسرے علاقوں کی طرف فاتحانہ پیش قدمی کر رہی ہیں۔ الشیخ علی نے بتایا کہ کرد فوج نے موصل ڈیم کی دوسری طرف ’کرزیر’ اور ’تل الذھب‘ کو آزاد کرانے کے بعد ڈیم کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیم کے جنوبی علاقوں اور جنوب مغربی علاقہ وانکی کو داعش سے مکمل آزاد کرا لیا ہے۔ ادھر صوبہ کردستان کی سکیورٹی کونسل کے ایڈوائزر مسرور البارزانی نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ کرد فوج نے مغربی دھوک کے سیحیلا علاقہ میں کارروائی کرکے 40 کلو میٹر طویل پٹی پر قبضہ کر لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ علاقہ موصل ڈیم کی مشرقی اور مغربی سمتوں میں پندرہ کلو میٹر چوڑائی میں پھیلا ہوا ہے۔