مودی کے دورہ کشمیر پر جزوی ہڑتال

سرینگر 23 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کے دورۂ جموں و کشمیر کے خلاف علیحدگی پسند گروپس نے عام ہڑتال کی اپیل کی تھی جس پر وادیٔ کشمیر میں جزوی ردعمل دیکھا گیا۔ لال چوک کے اطراف و اکناف بیشتر دوکانیں بند تھیں۔ یہ علاقہ سرینگر کا تجارتی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ تاہم کشمیر کے دیگر اضلاع میں تجارتی ادارے کھلے تھے۔ لال چوک میں بازاروں میں تباہ کن سیلاب کے بعد ہنوز کام کرنا شروع نہیں کیا ہے۔ صرف چند دوکاندار اپنا کاروبار شروع کرچکے ہیں۔ سرکاری عہدیداروں کے بموجب سرکاری ٹرانسپورٹ بہت کم نظر آیا۔ خانگی کاریں، ٹیکسیاں اور آٹو رکشا معمول کے مطابق چل رہے تھے۔ تعلیمی ادارے، سرکاری دفاتر اور بینک دیوالی کی تعطیل کی وجہ سے بند تھے۔ وزیراعظم آج دیوالی تہوار متاثرین سیلاب کے ساتھ منانے کیلئے وادیٔ کشمیر کا دورہ کررہے ہیں۔ وہ آج دوپہر یہاں پہونچے اور سیلاب سے متاثر بدقسمت بہنوں اور بھائیوں کے ساتھ دیوالی منائی۔ یہ مودی کا چوتھا دورۂ کشمیر ہے۔ حریت کانفرنس کے دونوں گروپس نے عام ہڑتال اور پرامن احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی تھی۔ حکومت ہند کشمیر میں تباہ کن سیلاب کی خاموش تماشائی بنی رہی اور متاثرین کے مصائب دور کرنے کیلئے کچھ بھی نہیں کیا، اِسی لئے ہم کسی کو بھی ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ سخت گیر حریت کانفرنس کے صدر سید علی شاہ گیلانی نے کل اپنے ایک بیان میں یہ بات کہی تھی۔ شبیر احمد شاہ زیرقیادت حریت کانفرنس نے بھی عام ہڑتال کی اپیل کی ہے اور عوام سے خواہش کی ہے کہ وزیراعظم کے دورہ پر پرامن احتجاج کریں۔