مودی کی زبان پر بھی گنگا جمنی تہذیب کا ترانہ ،ویڈیو پیغام

نئی دہلی 12 مئی (سیاست ڈاٹ کام )وارانسی میں رائے دہی جاری رہنے کے دوران نریندر مودی نے آج وارانسی میں گنگا جمنی تہذیب کی بات چیت کرتے ہوئے رائے دہندوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے ووٹوں کے ذریعہ اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے جذبہ کی عکاسی کریں ۔ اپنے ویڈیو پیغام میں ’’ماں گنگا ‘‘ کی دہائی دیتے ہوئے بی جے پی کے وزارت عظمی امیدوار نے جو وارانسی سے مقابلہ کررہے ہیں کہا کہ مقصد اس مقدس شہر کی مالا مال روایات کو برقرار رکھنا ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ وہ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ رائے دہی کے آخری مرحلہ میں اسی جوش اور جذبہ کے ساتھ ووٹ دیں جس کا انہوں نے اب تک مظاہرہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کاشی کے میرے بھائیوں اور بہنو ں کاشی کا احترام اس کے اہم ،فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحاد کی وجہ سے ہے ۔ اسی وجہ سے اسے گنگا جمنی تہذیب کہا جاتا ہے ۔ اس کی عکاسی رائے دہی میں بھی ہونی چاہئے ۔ ہم سب ایک ہیں ہمیں ایک دوسرے سے محبت کرنی چاہئے اور ہر ایک کو ساتھ لیکر چلنا چاہئے ۔ ہندوستانی جمہوریت کی ’’حرکیات‘‘کی ستائش کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ مغربی دنیا کو ہندوستانی جمہوریت کی کامیابی کا تجزیہ کرنا چاہئے کہ اس ملک میں کروڑوں عوام نے کس وجہ سے جھلسا دینے والی دھوپ کا مقابلہ کرتے ہوئے رائے دہی میں حصہ لیااور ان میں جوش و خروش بھی پایا جاتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران ہر قسم کی منفی تشہیر کے باوجود عوام نے ظاہر کردیا ہے کہ ان کی دانشمندی ’’درست اور غلط‘‘ میں فرق محسوس کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ایک شخص کی اپنی پسند اور نا پسند ہوتی ہے لیکن وہ سب اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں اور اس کے اور اس کے نوجوانوں کے مستقبل کیلئے رائے دہی میں شرکت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو ملک کے مستقبل کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کرنا چاہئے ۔مودی نے کہا کہ فوج کی کثیر تعداد میں تعیناتی ایک اچھی علامت ہے اس سے صحت مند ،صاف ستھرے اور پرامن انتخابات کو آخری مرحلے میں یقینی بنایا جاسکتا ہے تاہم انہوں نے احساس ظاہر کیا کہ ریاستوں میں مسائل ہیں جن کا مشاہدہ ساتھ ہی ساتھ منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں دیکھا جاسکے گا ۔ یہ ریاستیں اپنی سرحدوں تک محدود ہیں۔ دریں اثناء مودی کے رائے دہی کے دن ویڈیو پیغام کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کانگریس نے آج الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ اس پیغام کا نوٹ لیں اور مودی کے خلاف از خود کارروائی کریں۔ کانگریس قائد و پارٹی کے شعبہ مواصلات کے انچارج اجئے ماکن نے اپنے ٹوئٹر پر تحریر کیا کہ جب وارانسی میں رائے دہی جاری تھی مودی نے اپنے پیغام میں بنارس کی گنگا جمنی تہذیب کا حوالہ دیتے ہوئے رائے دہندوں سے اپیل کی کہ اپنے ووٹوں میں بھی اس کی جھلک دکھائیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اب تک انہوں نے جس جوش و جذبہ کا مظاہرہ کیا ہے رائے دہی میں بھی اس کا اعادہ کریں۔