نریندر مودی کے بھائی سوما بھائی کا مطالبہ
وارانسی ۔ 9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی کے بڑے بھائی سوما بھائی مودی نے نریندر مودی کی ذات کے بارے میں سوال پوچھنے پر کانگریس سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو ذات پات کا سوال اٹھانے اور عوام کو گمراہ کرنے پر معذرت خواہی کرنی چاہئے۔ ایسا لگتا ہیکہ کانگریس کی یہ سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہے۔ نریندر مودی جب وزیراعلیٰ بھی نہیں بنے تھے اس وقت سے ہی ان کے پاس (Other Backward caste) یعنی او بی سی کا سرٹیفکیٹ ہے۔ سوما بھائی کو کانگریس کے اس ادعا پر اعتراض ہے کہ نریندر مودی ویشیا خاندان میں پیدا ہوئے جو اعلیٰ خاندان تصور کیا جاتا ہے جن کا لقب مودھ ہوتا ہے۔ جیسے مودھ براہمنس اور مودھ بنیا۔ کانگریس کا ادعا تھا کہ مودی کا خاندان مودھ گھانچی ویشیا سب کاسٹ سے تعلق رکھتا ہے۔ مودی کا تعلق اعلیٰ ذات کے خاندان سے ہے اس کے ثبوت کے طور پر کانگریس نے حکومت گجرات کے یکم ؍ جنوری 2002ء کی ایک قرارداد بھی پیش کی ہے جس میں مودی نے ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ بننے کے صرف چار ماہ بعد گجرات میں پائی جانے والی اقلیتی ذات مودھ گھانچی ذات کو دیگر پسماندہ طبقات کے خانے میں درج کیا تھا۔ دوسری طرف گجرات اسمبلی کے سابق اپوزیشن قائد شکتی سنگھ گوہل نے بتایا کہ کانگریس نے حکومت گجرات کی قرارداد قانون برائے حق معلومات (RTI) کے تحت حاصل کی ہے۔ گوہل نے کہا کہ اپنے خودغرضانہ مقاصد کی تکمیل کیلئے مودی نے پسماندہ طبقات کا موقف حاصل کرتے ہوئے حقیقتاً پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والوں کی حق تلفی کی ہے۔ مودی ایک ایسے شخص ہیں جو اعلیٰ ذات کے خاندان میں پیدا ہوئے لیکن سیاست بالکل نچلے درجہ کی کررہے ہیں۔ کسی بھی انسان کے عمل کا تعلق اس کی ذات پات سے نہیں ہوتا جس کی زندہ مثال آنجہانی ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر ہیں۔
وارانسی میں بعض الکٹرانک ووٹنگ مشین مہربند
وارانسی /9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) بعض الکٹرانک ووٹنگ مشین جنھیں یہاں سخت مسابقت والی لوک سبھا نشست کے لئے انتخابی لڑائی میں پولنگ کے لئے استعمال کیا جانا ہے، مقررہ وقت سے قبل آج جانچ پڑتال کے دوران مہر بند پائے گئے۔ ای سی کے عہدہ داروں نے کہا کہ بی جے پی نے الیکشن کمیشن کے پاس یہ مسئلہ اٹھایا اور مہر دوبارہ کھولی گئی۔ یہ مشینیں چیکنگ کے کئی راؤنڈ سے گزاری جاتی ہیں اور مختلف امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں مہربند کی جاتی ہیں، تاہم بعض مشینیں مقررہ وقت سے قبل ہی مہر بند پائی گئیں۔