مودی کی تائید کا مطلب بی جے پی کی تائید نہیں : راج ٹھاکرے ۔ الیکشن کے بعد محصول وصولی کے خلاف پھر احتجاج کیا جائے گا

تھانے۔ 18 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی کی تائید ضرور کرتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بی جے پی ان کی (ٹھاکرے) پسندیدہ پارٹی ہے۔ انہوں نے مستقبل قریب میں ایم این ایس کے بی جے پی کے ساتھ انضمام کے امکانات کو مسترد کردیا۔ راج ٹھاکرے نے کہا کہ ایم این ایس یو پی اور بہار کی طرح کوئی سیاسی پارٹی نہیں ہے جسے بی جے پی کے صدر کو یاد رکھنا چاہئے۔ انہوں نے صدر بی جے پی راجناتھ سنگھ پر در پردہ تنقید کی اور کہا کہ مودی نے جو بھی اچھے کام کئے ہیں، انہوں نے (ٹھاکرے) صرف ان کاموں کی ستائش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2011ء میں بھی انہوں نے ایسا ہی بیان دیا تھا اور کہا تھا کہ مودی کو ملک کا وزیراعظم بننا چاہئے اور وہ آج بھی اپنے اس بیان پر قائم ہیں۔ تھانے سے ایم این ایس امیدوار ابھیجیت پھانسے کی تائید میں ایک انتخابی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے راج ٹھاکرے نے یہ بات کہی جہاں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کل بی جے پی مرکز میں برسراقتدار آتی ہے تو اس کے باوجود بھی ایم این ایس کابینہ میں جگہ پانے کیلئے بی جے پی سے کوئی درخواست نہیں کرے گی۔ راج ٹھاکرے نے کہا کہ مراٹھی زبان کو قومی سطح پر مقبول بنانے وہ اپنی پوری کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ محصول یا چنگی وصول کرنے کے سلسلہ کو بند کرنے ان کی پارٹی نے جو احتجاج کیا تھا اسے محض انتخابات کی وجہ سے روکنا پڑا ہے۔ الیکشن کے بعد ہم چنگی وصولی کے خلاف ایک بار پھر احتجاج کا سلسلہ شروع کریں گے۔