’’مودی کریسی‘‘ کے خاتمہ کیلئے ’’ڈیموکریسی‘‘ کے استحکام پر زور

ملک کی صورتحال پر قابو پانے جمہوریت پسند عوام کو متحدہ جدوجہد کا مشورہ ، حیدرآباد میں جے این یو لیڈر کنہیا کمار کا پرجوش خطاب
حیدرآباد۔ 31 جولائی (سیاست نیوز) ملک سے ’’ڈیموکریسی‘‘ ختم ہوتی جارہی ہے اور ’’مودی کریسی‘‘ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اسی لئے مودی کریسی کے خاتمہ کو یقینی بناتے ہوئے ڈیموکریسی کا استحکام ضروری ہے۔ جے این یو طلبہ قائد کنہیا کمار نے آج حیدرآباد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں جو صورتحال پیدا ہورہی ہے، اسے روکنے کیلئے ضروری ہے کہ تمام طبقات اور جمہوریت پسند عوام متحدہ طور پر حکومت کی پالیسیوں کے خلاف جدوجہد کا آغاز کریں۔ کنہیا کمار نے روہت ویمولہ ایکٹ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک روہت ویمولہ ایکٹ روشناس نہیں کروایا جاتا، اس وقت تک طلبہ مختلف ہم خیال تنظیموں کے ہمراہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے آج حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی پہنچ کر گزشتہ برس خودکشی کرنے والے روہت ویمولہ کو خراج عقیدت پیش کیا۔ بعدازاں یونیورسٹی کیمپس میں جس مقام سے طلبہ کو حراست میں لیا گیا تھا، وہاں علامتی دھرنا منظم کیا۔ انہوں نے ملک کی جامعات میں پیدا کئے جارہے خوف کے ماحول کو طلبہ کی آزادی پر کاری ضرب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹیز پر حکومت کی جانب سے نگاہ رکھتے ہوئے طلبہ کی آزادی کو متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو کہ اظہار خیال کی آزادی کے حق کی صریح خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ جے این یو طلبہ قائد کے ہمراہ اس موقع پر جناب سید ولی اللہ قادری صدر آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور دیگر موجود تھے۔ کنہیا کمار نے بتایا کہ قومی سطح پر دلتوں کے علاوہ دیگر پسماندہ طبقات اور مظلوم طبقات کے ہمراہ انصاف کے عمل کو یقینی بنانے کے لئے روہت ویمولہ ایکٹ کی حمایت میں مہم چلائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ جمہوریت پسند عوام کی اس مہم کو مکمل حاصل ہونے کی امید ہے کیونکہ جو لوگ مظلوم و دلت طبقات کو کچلنا چاہتے ہیں ان کی تعداد بہت کم ہے لیکن وہ اپنے اقتدار کے نشہ میں ایسی حرکتوں کے مرتکب بن رہے ہیں۔ کنہیا کمار نے ملک کے دفاعی بجٹ اور تعلیمی بجٹ کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہندوستان میں دفاعی بجٹ، تعلیم کے بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہے جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیا جائے، لیکن برسراقتدار طبقہ نے جاریہ سال تعلیمی بجٹ میں 14% کی تخفیف کے ذریعہ یہ ثابت کردیا ہے کہ حکومت کو تعلیمی ترقی سے زیادہ دفاعی نظام پر خرچ کرنے میں دلچسپی ہے۔ انہوں نے مقدس گائے کے نام پر کئے جانے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں غذائی آزادی بھی چھینی جارہی ہے لیکن قانون کی پاسداری ہر کسی کی ذمہ داری ہے۔ کنہیا کمار نے گائے کا گوشت کے نام پر کئے جانے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کر بھی رہا ہے تو دوسرا شخص انصاف کرنے کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے کا اختیار نہیں رکھتا۔ کنہیا کمار نے واضح طور پر کہا کہ غذائی آزادی ہر کسی کا حق ہے اور کوئی کسی کو کسی چیز کے استعمال سے روک نہیں سکتا۔ اسی لئے یہ ضروری ہے کہ ہمیں پرامن اور بہتر انداز میں ہر طرح کے حالات کا سامنا کرتے ہوئے قانون کی پاسداری کو یقینی بنانا چاہئے۔ جے این یو طلبہ قائد نے کہا کہ گاؤکشی کے نام پر کئے جانے والے حملے ناقابل برداشت ہیں کیونکہ اس طرح کے حملوں سے نہ صرف پرامن فضاء مکدر ہوسکتی ہے بلکہ نفرت کا ماحول پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے تمام مظلوم طبقات سے اپیل کی کہ ملک کے ہر گوشے میں مظلوموں کی حمایت اور انہیں انصاف دلانے کی غرض سے مہم کا آغاز کرتے ہوئے روہت ویمولہ ایکٹ کی تائید کریں۔ اس سلسلے میں بہت جلد قومی سطح پر ایک کنونشن کے انعقاد کا بھی انہوں نے اشارہ دیا۔