نئی دہلی۔15مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) بی بی سی کے سابق صحافی لانس پرائس نے گذشتہ سال جولائی میں لوک سبھا انتخابات کیلئے کجریوال کو فیصلہ کن نہ سمجھنے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران مودی سے چار مرتبہ بات کی تھی ۔ مختلف مسائل پر مودی نے جو جوابات دیئے تھے ان کا تذکرہ ’’ ہندوستان میں انقلابی تبدیلی پیدا کرنے مودی کی مہم پر مودی کا اثر ‘‘ نامی کتاب میں کیا گیا ہے ۔ اس میں مودی اور کجریوال کے وارناسی لوک سبھا نشست کیلئے مقابلہ کا بھی ذکر ہے ۔ کجریوال نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایک سیاسی زلزلہ لائیں گے جبکہ مودی نے خاموش رہنے کو ترجیح دی تھی ۔ اس کے بارے میں سوال پر پرائس کو جواب دیتے ہوئے مودی نے کہا تھا کہ اُن کی خاموشی ہی ان کی طاقت ہے ۔ کجریوال وارناسی میں مودی کے خلاف ہار گئے تھے لیکن بعد ازاں دہلی اسمبلی انتخابات میں انہوں نے زبردست کامیابی حاصل کی ۔ پرائس نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ رائے شماری کے دن نریندر مودی بالکل تنہا تھے ۔ انہوں نے ٹی وی بھی بند کر رکھا تھا ‘ وہ مذہبی سرگرمیوں میں مصروف تھے اور ٹیلی فون کالس کے بھی دوپہر تک جواب نہیں دیئے ۔ مودی نے کہا کہ انہوں نے 12بجے دن سے ٹیلی فون کالس کے جواب دیئے ‘ نتائج کے بارے میں سب سے پہلے اُس وقت کے صدر بی جے پی راجناتھ سنگھ نے انہیں بتایا کہ جیسا کہ پہلے ہی سے اندازہ تھا بی جے پی نے لوک سبھا انتخابات میں دیگر تمام سیاسی پارٹیوں کا صفایا کردیا ہے ۔