رافیل معاملت سے سرکاری خزانہ کو 40,000 کروڑ روپئے کا نقصان ، سیلاب پر حکومت کے سیاسی کھیل کا الزام
نئی دہلی۔ 18 اگست (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے بشمول رافیل جیٹ معاملت مودی حکومت کے مختلف مبینہ اسکامس اور رشوت ستانی کے واقعات کو بے نقاب کرنے کے لئے ایک ماہ طویل ملک گیر مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ رافیل معاملت کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ کانگریس کے صدر راہول گاندھی کی صدارت میں آج یہاں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ایک ماہ طویل ایجی ٹیشن کے منصوبہ کو قطعیت دی گئی۔ اجلاس میں کانگریس کے جنرل سیکریٹریز، مختلف ریاستوں میں تنظیمی اُمور کے انچارج اور پردیش کانگریس کمیٹیوں کے صدور اور دیگر سرکردہ قائدین نے بھی شرکت کی۔ بعدازاں کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ فیصلہ کیا گیا کہ مودی حکومت کے مختلف اسکامس بالخصوص رافیل اسکام سے ہندوستان کے عوام کو واقف کروایا جائے۔ آئندہ 30 دن کے دوران کانگریس کے کارکن اضلاع و ریاستی سطح پر مظاہرہ کریں گے۔ ہم اس کی آزادانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں گے۔ ہم اس کی آزادانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں گے۔ فی الفور ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جانی چاہئے۔ ہم اس مطالبہ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے‘‘۔ سرجے والا نے کہا کہ ان کی پارٹی نے رافیل معاملت کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور ادعا کیا کہ اس اسکام سے سرکاری خزانہ کو 41,000 کروڑ روپئے کا نقصان پہونچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 35,000 کروڑ روپئے مالیتی یہ کنٹراکٹ ہندوستان ایروناٹکس لمیٹیڈ (ایچ اے ایل) سے چھین کر وزیراعظم نریندر مودی کے ایک دوست کو دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے کیرالا کے سیلاب کو ’’قومی سانحہ‘‘ قرار دینے کا مطالبہ کیا اور وزیراعظم سے کہا کہ اس مسئلہ پر سیاسی کھلواڑ نہ کیا جائے۔ سرجے والا نے کہا کہ مرکزی حکومت صرف 100 کروڑ روپئے امداد کا اعلان کی ہے جبکہ سیلاب سے 2,000 تا 3,000 کروڑ روپئے کی حد تک نقصانات کا تخمینہ ہے۔ سرجے والا نے کہا کہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ امداد کی فراہم کے معاملے میں مودی جی کو اب بی جے پی اور غیربی جے پی حکومتوں کے درمیان فرق ختم کردینا چاہئے۔ کیرالا میں بدترین تباہی پر صرف 100 کروڑ روپئے منظور کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں کی کانگریس حکومتوں بھی کیرالا کو امداد دے رہی ہیں۔ پنجاب اور کرناٹک کی حکومتیں بھی کیرالا کو امداد دے رہی ہیں۔ پنجاب اور کرناٹک کی حکومتیں فی کس 10 کروڑ روپئے اور حکومت پڈوچیری ایک کروڑ روپئے کا عطیہ دے گی۔