مودی حکومت کاشتکار دشمن: آر ایس ایس کے سابق نظریہ ساز

لکھنو ۔ 16 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کو آج اپنے سابق نظریہ ساز کے این گوئند آچاریہ کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے نریندر مودی زیر قیادت مرکزی حکومت کو حصول اراضی قانون کی بناء پر ’’کاشتکار دشمن‘‘ قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ اس حکومت کی پالیسیاں غریب دشمن اور امریکہ حامی ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکرٹیک پارٹی کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اتحاد کو ’’مختصر مدتی فائدہ اور طویل مدتی نقصان‘‘ کیلئے کیا ہوا اتحاد قرار دیا۔ انہوں نے ریاستی سطح پنچایت راج کے نمائندوں کی ایک کانفرنس کے دوران علحدہ طورپر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حصول اراضی قانون سے دستبرداری کا مطالبہ کیا اور کہا کہ مرکز کی پالیسیوں سے اس کا کاشتکار دشمن چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے۔ جس انداز میں آبپاشی کیلئے بجٹ میں ر قم مختص کی گئی ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس رقم کو بہت کم کردیا گیا ہے اور یہ ان کی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ حکومت کاشتکار دشمن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کی حکمت عملی کا فیصلہ مختلف مخلص افراد کے اجلاس کے انعقاد کے بعد کیا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکز کی پالیسیاں امریکہ حامی اور دولت مند حامی ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ تو یہ کہنے کیلئے بھی تیار ہے کہ اس حکومت کی پالیسیاں عوام دشمن اور غریب دشمن ہے لیکن ان پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہمیں حکومت کے ارادوں پر فی الحال شک نہیں کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی کے بموجب بی جے پی نے صرف ان کی وجہ سے کامیابی حاصل کی، تنظیم کی وجہ سے نہیں۔ بی جے پی سابق نظریہ ساز نے کہا کہ عوام سب سے برتر ہوتے ہیں، اگر کوئی پارٹی غلط فہمی کا شکار ہوجائے تو وہ زیادہ عرصہ تک بر قرار نہیں رہتی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی نے 6000 کروڑ روپئے کا قرض ایک کارپوریٹ گھرانہ کو دیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں کیا حکومت نے عوام کو دھوکہ دیا ہے۔ گوئند آچاریہ نے کہا کہ اس پر بحث کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت نے تمام سیاسی پارٹیوں سے بات چیت کے بعد آرڈیننس جاری کیا تھا تاہم اس نے ان افراد سے کوئی مشورہ نہیں کیا جن کے مفادات زمین سے وابستہ ہیں۔ جموں و کشمیر میں بی جے پی۔پی ڈی پی اتحاد کو انہوں نے غیر اخلاقی اور موقع پرستانہ اتحاد قرار دیا اور کہا کہ اس اتحاد سے وقتی فائدہ تو ممکن ہے لیکن طویل مدتی بنیاد پر نقصان پہنچے گا۔ کسی شخص کے نقصان سے زیادہ یہ پورے ملک کا نقصان ہوگا۔