لیہہ 14 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وزیر اعظم نریندر مودی یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ ملک سے بد عنوانیوں کو جڑ سے ختم کرنا اُن کی چند اہم ’’قراردادوں‘‘ میں شمار کی جاتی ہے لہذا اس سلسلہ میں انہو ںنے ایک منفرد خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر اس پارٹی سے وابستہ شخص کی خدمات حاصل کی جائیں گی جو بد عنوانیوں کے خلاف نبرد آزما ہے ۔ پولو گراونڈ پر ایک ریالی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بد عنوانیوں نے ہمیں پریشان کر رکھا ہے اور عوام ناراض ہیں لہذا میں عوام ا س بات کا یقین دلاتا ہوں کہ بدعنوانیوں سے لڑنے کیلئے ہم اپنی تمام تر توانائیاں جھونک دیں گے جس نے ملک کو کھوکھلا کردیا ہے۔ انہو ںنے ایک بار پھر کہا کہ بد عنوانیوں کے خاتمہ کیلئے حکومت بد عنوانیوں کے خلاف نبرد آزاد سیاسی پارٹیوں کے قائدین اور ایماندار افسران کی خدمات حاصل کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم بد عنوانیوں کے خلاف اپنی جنگ جیت گئے تو سمجھ لیجئے کہ غربت کے خلاف بھی ہم نے جنگ جیت لی ۔ نریندر مودی اس وقت روایتی لداخی لباس زیب تن کئے ہوئے تھے۔ انہو ںنے واضح کردیا کہ جموں و کشمیر میں وہ زعفرانی انقلاب لانے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی طور پر کسانوں پر زائد توجہ دی جائے گی جہاں تک شمسی توانائی کے شعبہ میں پیشرفت کا سوال ہے تو لداخ کے گوشہ گوشہ کو توانائی سے مربوط کیا جائے گا جس میں ریل،روڈ اور ٹیلی مواصلات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی ایسی ہونی چاہئے جس سے عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی آئے ۔ انہوں نے انگریزی کے حرف ‘P’ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تین”Ps” پر توجہ دینی ہے پرکاش (روشنی)،پریاورن (ماحولیات) اور یربٹن (سیاحت ) اور تینوں شعبہ جموں و کشمیر کی ریڑھ کی ہڈی ہیں جن کی ترقی کیلئے تمام تر اقدامات کئے جائیں گے ۔
نریندر مودی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کا اکثر دورہ کیا کرتے تھے اور وہ یہاں کی عوام کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں ۔ اس موقع پر جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ بھی موجود تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ لداخ دنیا کے چند خوبصورت ترین مقامات میں سے ایک ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اسے کچھ مسائل کا بھی سامنا ہے ۔ یہاں کے عوام انتہائی مہمان نواز ہیں اور اُن کے چہروں پر ہمیشہ مسکراہٹ بکھری رہتی ہے۔ 2010 میں یہاں بادل پھٹنے کا واقعہ رونما ہوا تھا لیکن اس بلا ئے ناگہانی کا بھی انہوں نے خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا ۔ قبل ازیں نریندر مودی نے کہاتھا کہ ہمارے پاس لداخ کیلئے 1000 کروڑ روپئے مالیت کے مختلف پراجکٹس ہیں جن کے بعد لداخ ’’اُدھار کی توانائی‘‘ پر انحصار نہیں کرے گا۔ انہو ںنے کہا کہ ہمالیائی ریاست کی ترقی کیلئے اور اس کے مسائل کو سمجھنے کیلئے نئی سوچ کی ضرورت ہے۔