آر میتھیو ؍ ایس مورتی
وزیراعظم نریندر مودی کیلئے اول چیلنجر کے طور پر راہول گاندھی ملک بھر میں تیز اور پُرجوش مہم چلا رہے ہیں۔ صدر کانگریس کی کی جدت اُن کے مصروف ترین شیڈول سے میل کھارہی ہے۔ 13 مارچ کو گجرات میں ایک روز گزارنے کے بعد جہاں انھوں نے سابرمتی آشرم میں دعائیہ اجتماع میں شرکت کی، سردار پٹیل نیشنل میموریل میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ منعقد کی، اور میگا ریلی سے خطاب کیا جس میں وہ ڈائس پر اپنی ماں سونیا گاندھی اور بہن پرینکا گاندھی وڈرا کے ساتھ نظر آئے؛ اس کے بعد راہول نے جنوب میں چینائی کیلئے پرواز کی۔
چینائی میں کانگریس ورکرز کی طرف سے والہانہ استقبال کے بعد صدر پارٹی کے دن کی شروعات باوقار اسٹیلا میریس کالج میں جمع ہزاروں اسٹوڈنٹس کے ساتھ طویل اور خوشگوار تبادلہ خیال کے ساتھ ہوئی۔ بعدازاں وہ ملک کے جنوبی کنارے پر واقع ناگرکوائل گئے اور انتخابی ریلی کو خطاب کیا۔ چینائی سے تھرواننتاپورم کو دس نشستی طیارہ کے ذریعے پرواز کے وقت نے لنچ بریک کا موقع فراہم کیا۔ راہول نے روٹی کے ساتھ چکن کا سالن، بریانی، سلاد اور دہی پر مبنی لنچ کیا۔ اس طیارے میں سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم، کانگریس کے صدر ٹاملناڈو یونٹ کے ایس اڑاگیری اور کانگریس جنرل سکریٹری اِنچارج کیرالا مکل واسنک بھی تھے۔ مابعد لنچ راہول نے لوک سبھا انتخابات کیلئے اپنی مہم شروع کرنے کے بعد اپنا پہلا خصوصی انٹرویو ’دی ویک‘ کو دیا۔ انھوں نے چیف اسوسی ایٹ ایڈیٹر اور ڈائریکٹر آر میتھیو اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر ایس مورتی سے وسیع تر مسائل پر بات کی۔ اُن کی باتیں اُن کے زیب تن سفید کرتا پائجامہ کی مانند دو ٹوک اور پُرسکون رہیں۔ انھوں نے مودی کے ساتھ اپنی نظریاتی لڑائی، قومی سلامتی اور دفاعی خریداریوں، کسانوں اور نوجوانوں کو درپیش بحرانوں، سیاست میں پرینکا کا داخلہ اور اپنے حیران کن ویژن برائے ہندوستان کے تعلق سے تفصیلی بات کی۔ اس انٹرویو کے اقتباسات پیش ہیں :
س : انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے اور آپ ملک بھر میں سفر کررہے ہو۔ عوام کا موڈ کیا ہے؟
ج : ملک میں بحران جیسی حالت ہے۔ بیروزگاری ہے اور زراعت شدید بحران میں ہے۔ جب میں ہندوستان کے طول و عرض میں سفر کرتا ہوں تو یہ نمایاں احساس ہوتا ہے۔ یہ دونوں مسائل کا ایک دوسرے سے تعلق ہے۔ نوکریوں کے معاملہ کا زراعت سے راست تعلق ہے، اور زراعت معاشی سسٹم سے مربوط ہے۔ اور جابس کا مسئلہ اس طرح بھی تعلق رکھتا ہے کہ کس طرح آپ لوگوں کو بینکنگ سسٹم میں لاتے ہو۔ اس طرح یہ ایک پہلو ہے جو دیکھنے میں آتا ہے۔دوسرا بڑا پہلو یہ ہے کہ مسٹر مودی نفرت پیدا کرتے ہیں۔ لہٰذا، اُن کا سیاست کا میکانزم کینہ پرور ہے۔ اور اس کے مضر اثرات پڑتے ہیں۔ آپ کا ملک ایسا نہیں ہوسکتا جو منقسم ہو، جس میں نفرت بھری ہو، اور پھر اُس سطح کی معاشی ترقی حاصل کریں جو ہندوستان کو درکار ہے تاکہ بہت بڑی تعداد میں نوکریاں پیدا کی جاسکیں۔اور آخری چیز یہ کہ جمہوری اداروں پر منظم حملہ ہورہا ہے۔ آپ یہ بات سپریم کورٹ میں دیکھ سکتے ہو، آر بی آئی میں، سی بی آئی اور پارلیمنٹ میں مشاہدہ کرسکتے ہیں، جہاں ممبرز میں سے کسی کو بھی بولنے کی اجازت نہیں۔ یہ اس ملک کے ادارہ جاتی ڈھانچے پر بھرپور حملہ ہے۔ یہ تمام کا قوم کے موڈ اور اعتماد پر اثر پڑتا ہے۔
س : ادارہ جات پر حملے اور ان پر بی جے پی حکومت کے کنٹرول حاصل کرنے کے تعلق سے کیا اصلاحی اقدامات ہیں جو کانگریس برسراقتدار آنے کی صورت میں کرے گی؟
ج : اس مسئلہ کی جان یہ ہے کہ ہندوستان نوجوانوں کا ملک ہے، اور ہمارے نوجوانان مستقبل نظر نہیں آرہا ہے۔ انھیں سمجھ نہیں آرہا کہ کس طرح وہ خود کو جابس کے بحران سے نکال پائیں گے، اور ہندوستانی حکومت کو انھیں اس کا جواب دینا پڑے گا۔ کسی بحران کو حل کرنے میں پہلا قدم یہ قبول کرنا ہے کہ مسئلہ پایا جاتا ہے۔ میں اس حقیقت کے تعلق سے واضح موقف رکھتا ہوں کہ جب گزشتہ یو پی اے حکومت کا اقتدار تھا، ہم روزگار کے بحران کی یکسوئی کیلئے معقول کام کرنے سے قاصر رہے۔ تاہم، مسٹر مودی نے یہ کیا کہ صورتحال کو شدید بناتے ہوئے نوٹ بندی اور گبر سنگھ ٹیکس (گڈز اینڈ سرویسز ٹیکس) متعارف کرائے، اور انیل امبانی طرز کے دوستوں کی سرمایہ داری کو پھیل جانے کا موقع فراہم کیا۔ ملک کو قیادت کی تلاش ہے، لیکن عوام کو جو حاصل ہورہا ہے وہ پی ایم کی طرف سے بے مغز، بے معنی جملے بازی۔ میک اِن انڈیا، اسٹارٹپ انڈیا… یہ اُس شخص کی اصطلاحیں ہیں جو خالی الذہن ہوچکا ہے۔
س : وزیراعظم کہتے ہیں کہ 10 کروڑ روزگار تشکیل دیئے جاچکے ہیں۔
ج : میں نہیں جانتا حکومت کس تعلق سے بات کررہی ہے، اور نا ہی بقیہ ملک کو معلوم ہے۔ آپ جہاں کہیں جائیں، لوگ کہتے ہیں بزنس ماند پڑا ہے۔ دیہی ہندوستان اور چھوٹے ٹاؤنس اور شہروں میں نوجوانوں سے پوچھیں کہ وہ کیا کرتے ہیں، اور آپ اکثروبیشتر یہی جواب سنیں گے ، کچھ نہیں۔
چین ہر روز 50,000 روزگار پیدا کرتا ہے۔ ہندوستان حکومتی اعداد و شمار کے مطابق محض 450 نوکریاں پیدا کرتی ہے۔ آج، میں نے اسٹیلا میریس کالج میں 3,000 نوجوان لڑکیوں سے پوچھا، آیا انھیں گرائجویٹ بننے پر جاب حاصل ہونے کا بھروسہ ہے۔ انھوں نے کہا، ’نہیں، ہمیں بھروسہ نہیں ہے۔‘ میں نہیں جانتا کون ہے جس کی بات پی ایم سنتے ہیں۔ شاید اُن کے این ایس اے (نیشنل سکیورٹی اڈوائزر) اجیت ڈوول کے پاس کوئی پلان ہے۔
س : اقل ترین آمدنی کی ضمانت والی اسکیم جس کی آپ نے تجویز پیش کی اسے بڑا بدلاؤ لانے والی چیز قرار دیا جارہا ہے۔ آپ کیوں سوچتے ہو کہ اس میں ہندوستان کو بدلنے کی طاقت ہے؟
ج : میں نہیں سمجھتا کہ صرف اقل ترین آمدنی کی ضمانت میں ہندوستان کو بدل دینے کی طاقت ہے۔ لیکن موجودہ حالات میں اور جس طرح کا دکھ ہندوستان محسوس کررہا ہے، یہ ایک ضرورت ہے۔ یہ ناقابل قیاس پیمانے پر ڈھالا گیا آئیڈیا ہے جس پر ہم طویل عرصے سے کام کرتے آرہے ہیں۔ نظریہ یہ ہے کہ کوئی بھی ہندوستانی کو ایک مقررہ سطح آمدنی سے نیچے زندگی نہیں گزارنا چاہئے۔ ہندوستانی حکومت اس سطح کے نیچے زندگی گزارنے والوں کو راست طور پر نقدی منتقل کرے گی، تاکہ اس ملک کے ہر شہری کی اقل ترین آمدنی ہوجائے۔ لوگوں کو سکیورٹی کا احساس دلانا اس بدلاؤ کا ایک جزو ہے، لیکن ہمیں اس سے کہیں آگے جانے کی ضرورت ہے۔ اس سے آگے جانے کا مطلب ہوگا کہ جابس کے بحران سے جنگی خطوط پر نمٹا جائے۔مجھے اندازہ ہے کہ زیادہ تر لوگ جن کے این پی ایز ہیں، نہایت صاحب اختیار بزنس مین ہیں، اور ان سے بلاشبہ خالص دوست سرمایہ داروں جیسے نیروو مودی، انیل امبانی، وجئے ملیا اور میہول چوکسی کے مقابل مختلف برتاؤ کیا جانا چاہئے۔ بنیادی مسئلہ ہندوستان کے مالیاتی اداروں پر دوست سرمایہ داروں کا مکمل قبضہ ہے جس میں مسٹر مودی اس قبضہ کی علامت کے طور پر کام کررہے ہیں۔
س : 2018ء میں انتخابی جھٹکوں کے بعد بی جے پی نے کسانوں، غیرمنظم مزدوروں، ملٹری اور پیراملٹری پرسونل اور تنخواہ یاب طبقات کی فکرمندی سے نمٹنے میں جارحانہ تیور دکھائے ہیں۔ کیا انھوں نے عوامی رجحان کو دوبارہ نہیں پایا ہے؟
ج : بی جے پی گزشتہ ایک سال میں جو کچھ کررہی ہے وہ انتخابات پر نظر رکھتے ہوئے کیا جارہا ہے۔ وہ شہریوں کی زبوں حالی پر تب ہی جاگتے ہیں جب انھیں اقتدار کھوجانے کی فکر لاحق ہوجاتی ہے۔ نوجوانان، کسان اور چھوٹے کاروبار کے مالکین جنھیں گزشتہ پانچ سال میں بی جے پی کے تحت بُرے دن دیکھنے پڑے، انھوں نے یہ تاڑ لیا ہے۔
س : آپ نے رافیل مسئلہ پر جارحانہ مہم چلاتے ہوئے بار بار کہا ہے کہ وزیراعظم کرپٹ ہیں۔ لیکن بی جے پی کا کہنا ہے آپ نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔
ج : مسٹر مودی نے یہ بھی کہا کہ وہ کرپشن سے لڑنے والے ہیں، اور اگر مجھے ٹھیک طور پر یاد ہے تو اُن کا بیان تھا، ’’مجھے پردھان منتری مت بناؤ، مجھے چوکیدار بناؤ‘‘۔ ایچ اے ایل (ہندوستان ایروناٹکس لمیٹیڈ) 70 سال سے طیارے تیار کررہا ہے۔ انیل امبانی نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی طیارہ نہیں بنایا۔ امبانی انھیں کنٹراکٹ حاصل ہونے سے 10 روز قبل اپنی کمپنی کھولتے ہیں۔ (یو پی اے) معاملت کے تحت ایک طیارہ کی لاگت 526 کروڑ روپئے آئی؛ مسٹر مودی کی معاملت میں وہی طیارہ کی لاگت 1,600 کروڑ روپئے ہوگئی۔ وزارت دفاع کے دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسٹر مودی نے متوازی مذاکرات کئے اور انیل امبانی کو 30,000 کروڑ روپئے مالیت کے ذیلی کنٹراکٹ حاصل کرنے میں مدد کی۔ سی بی آئی سربراہ کو رات 1:30 بجے برطرف کیا جاتا ہے کیونکہ وہ تحقیقات کرنے والے تھے۔ سپریم کورٹ انھیں بازمامور کرتا ہے اور پھر دوبارہ برطرف کیا جاتا ہے۔ یہ سارا معاملہ بالکلیہ واضح ہے۔
س : بی جے پی کا کہنا ہے کہ اسے ووٹ نہ دیکر اقتدار سے بے دخل کرنا افراتفری، معاشی انحطاط اور قومی سلامتی میں کمزوریوں کا موجب بنے گا۔
ج : یہ خیال کہ مسٹر مودی ہندوستان کیلئے متاثرکن اتھارٹی ہیں مضحکہ خیز ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ کس طرح نوٹ بندی متاثرکن اقدام ہوا۔ یہ بالکلیہ مسخرہ پن ہوا۔ کوئی بھی ماہر معاشیات آپ کو بتائے گا کہ وہ شخص جس نے نوٹ بندی کی تجویز پیش کی اسے کچھ اندازہ نہیں کہ وہ کس تعلق سے بات کررہا ہے۔ پانچ سلاب والا جی ایس ٹی ہندوستان پر مسلط کرنا، یہ کس قسم کا نظام ہے جس کی آپ بات کررہے ہو؟ ہم ایسا نظام نہیں چاہتے ہیں۔مسٹر مودی ہندوستان کے سب سے زیادہ منفی پہلوؤں پر دھیان دیتے ہیں… خوف، نفرت اور غصہ… اور انھیں بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، جبکہ مہاتما گاندھی نے ہمارے سب سے زیادہ طاقتور پہلوؤں جیسے محبت، رحم دلی اور عدم تشدد کو چن کر انھیں پھیلایا۔
س : اس دلیل کے تعلق سے کیا موقف ہے کہ صرف مودی حکومت ہی دہشت گردی کا طاقتور جواب دے سکتی ہے؟
ج : دیکھئے! میرا خیال ہے کہ پاکستان ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوستان میں دہشت گردی کو بڑھاوا دے گا۔ لیکن کیا یہ ہماری حکومت کی ذمہ داری نہیں کہ انھیں روکیں؟ وزیراعظم تب کہاں تھے جب وہ 40 سی آر پی ایف جوان مارے گئے؟ وہ ایک ویڈیو بنا رہے تھے! اس شخص کی بے حسی دیکھئے۔ انھوں نے اس واقعہ (پلوامہ حملہ) کے بعد ویڈیو بنانے میں ساڑھے تین گھنٹے لگائے!اس حملہ کا سرغنہ کون ہے؟ مسعود اظہر۔ کس نے اسے رہا کیا، حفاظت کے ساتھ قندھار تک پہنچایا اور اسے پاکستان کے حوالے کیا؟ بی جے پی نے، کیونکہ وہ قندھار میں دہشت گردوں کا سامنا نہیں کرسکے۔ برائے مہربانی ان لوگوں کی تعداد پر نظر ڈالئے جو 2004-14ء اور 2014-19 ء کے درمیان جموں و کشمیر میں ہلاک ہوئے، اور کس طرح تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار خود اپنی کہانی بیان کرتے ہیں۔
س : اگر کانگریس کو اقتدار ملتا ہے تو وہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے کیا کرے گی؟
ج : ہم نے 2004ء اور 2014ء کے درمیان دکھایا ہے کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی سے کس طرح نمٹا جائے۔ جب ہم نے 2014ء میں حکومت چھوڑی، کشمیر میں اموات کی تعداد میں کافی کمی ہوگئی تھی۔ امن بحال ہوگیا تھا۔ ہم نے یہ کس طرح کیا؟ ہم نے یہ کام پاکستان کے ساتھ سخت بن کر، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو یکا و تنہا کرکے، ان پر زبردست دباؤ ڈال کر، جب کبھی انہوں نے غلط رویہ اپنایا انھیں سزا دیتے ہوئے کیا ہے۔ ہم نے یہ کام جموں و کشمیر میں خود ہمارے اپنے لوگوں کی سلامتی کو یقینی بناتے ہوئے بھی کیا ہے؛ انھیں گلے لگایا، انھیں ویژن دیا، انھیں دکھایا کہ ہندوستان کو ان کی فکر ہے، انھیں دکھایا کہ درحقیقت ہندوستان ہی ان کیلئے آگے بڑھنے کا بہتر راستہ ہے، انھیں دکھایا کہ انھیں ہندوستان میں روزگار حاصل ہوسکتے ہیں، اور دکھایا کہ آپ کو پنچایتی راج سسٹم کے ذریعے ہندوستان میں سیاسی مرکوزیت حاصل ہوسکتی ہے۔
س : پرینکا (کے سیاست میں داخلہ) کا کیا معاملہ ہے؟ کیوں آپ نے مشکل کام اپنی بہن کو دیا ہے؟
ج : یہ سب ٹھیک وقت پر اقدام کی بات ہے! مختصر مدت میں دیکھیں تو اترپردیش، لوک سبھا انتخابات کے نقطہ نظر سے واقعی مشکل معاملہ ہے۔ لیکن اگر آپ ودھان سبھا انتخابات پر نظر ڈالیں تو یہ اتنا زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ یو پی میں وہ حالات اب پنپ رہے ہیں۔ کانگریس آنے والے اسمبلی انتخابات میں بہت اچھا مظاہرہ کرے گی۔ یو پی ایک زبردست موقع ہے اور وہ قابلیت رکھتی ہیں۔ وہ وہاں گزرتے وقت کے ساتھ کامیاب ہوں گی۔ وہ رحم دل ہے، وہ دیانتدار ہے، اور وہ فی الواقعی دوسروں کیلئے کچھ کرنا چاہتی ہیں۔ وہ خود اپنے لئے بہت زیادہ فکرمند نہیں رہتی۔
س : کیا کانگریس آنے والے انتخابات میں اکثریت سے جیتے گی؟ اگر سب کچھ ٹھیک رہے تو کیا آپ وزیراعظم بنوگے ؟
ج : یو پی اے مخلوط کیلئے اکثریت یقینی بات ہے۔ میرے خیال میں کانگریس توقع سے بہتر مظاہرہ کرے گی۔ جہاں تک وزارت عظمیٰ کا معاملہ ہے، اس پر لب کشائی کرنا میرا کام نہیں۔ یہ معاملہ ہندوستان کے عوام طے کریں گے۔ میرا کام سردست یہی ہے کہ جاریہ نظریاتی لڑائی میں متحد کرنے والوں کی جیت کو یقینی بناؤں، یعنی وہ لوگ جو اس ملک کو متحدہ دیکھنا چاہتے ہیں۔
س : ہندوستان بھر میں مخلوط کا منصوبہ نہیں۔ آپ بنگال میں لیفٹ کے ساتھ دوستی رکھتے ہو لیکن کیرالا میں ان کی سخت مخالفت کرتے ہو۔
ج : وسیع تناظر میں دیکھیں تو سارا مخلوط مسٹر مودی اور بی جے پی کے خلاف کھڑا ہے۔ اور ہم نے مہاراشٹرا، ٹاملناڈو، بہار، جھارکھنڈ، جموں و کشمیر اور آسام میں ہمارے پارٹنرز کے ساتھ اتحاد کررکھا ہے۔ یہ مضبوط اتحاد ہوچکے ہیں۔ اپوزیشن کی بعض ایسی قوتیں بھی ہیں جن کے ساتھ ہمارا اتحاد نہیں لیکن نظریاتی طور پر ہم ان کے ساتھ ہیں اور یہ چیز یقینی بنائے گی کہ بی جے پی دہلی میں اقتدار پر واپسی نہ کرنے پائے۔
ہاں، بنگال میں ہم لیفٹ کے ساتھ کام کررہے ہیں، جبکہ کیرالا میں ہم ان کے مخالف ہیں۔ یہ غیرمربوط باتیں ہیں۔ ہر اسٹیٹ میں مقامی یونٹس کا اتحادوں کی تشکیل میں اہم رول ہوتا ہے۔ جہاں تک سی پی آئی (ایم) کی کانگریس زیرقیادت حکومت میں شمولیت کا تعلق ہے، بلاشبہ ایسا ہوسکتا ہے۔ ساری اپوزیشن مسٹر مودی کے خلاف کھڑی ہے۔ حتیٰ کہ بی جے پی پارٹنرز بھی خوش نہیں ہیں۔ میں اُن کا نام نہیں لوں گا، لیکن ہمیں اُن کے پارٹنرز کی طرف سے وقفے وقفے سے اشارے ملتے رہتے ہیں۔