جئے پور ، 9 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سابق آئی پی ایل کمشنر للت مودی کو آج صدر راجستھان کرکٹ اسوسی ایشن (آر سی اے) کی حیثیت سے برخاست کردیا گیا جبکہ اُن کے خلاف یہاں ’اکسٹرا آرڈینری جنرل باڈی میٹنگ ‘ (ای جی ایم) میں حریف امین پٹھان گروپ کے عہدے داروں کی پیش کردہ تحریک عدم اعتماد منظور کرلی گئی۔ اس میٹنگ میں جس کی صدارت اسپورٹس کونسل چیرمین جے سی مہانتی نے کی، افراتفری کے مناظر دیکھنے میں آئے جہاں مودی گروپ نے الزام عائد کیا کہ اُن کے ووٹروں کو لانے والی گاڑیوں پر حریف گروپ کے مسلح غنڈوں نے حملہ کیا ہے۔ کئی ضلعی حکام کو کافی چوٹیں آئیں اور انھیں اس میٹنگ میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ وہ اس مقام پر تاخیر سے پہنچے تھے۔ دوسری طرف مہانتی جو ہیلت سکریٹری اور راجستھان کے اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کے انچارج بھی ہیں، انھوں نے کہا کہ یہ ای جی ایم ہائی کورٹ کے حکمنامہ مورخہ 11 فبروری کی مطابقت میں منعقد کی گئی اور یہ کہ اجلاس کی شروعات طئے شدہ وقت 11 بجے دن ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ اُس وقت 33 یونٹس میں سے صرف 23 ڈسٹرکٹس کے نمائندے موجود تھے لیکن 5 متنازعہ ہوئے اور 17 نے تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ ڈالے جبکہ ایک نے مخالفت میں ووٹ ڈالا۔ ای جی ایم میں جو کچھ ہوا، اس پر احتجاج کرتے ہوئے راجیندر سنگھ راٹھوڑ نے جو مودی گروپ کے سینئر ممبر اور جھنجھنو ڈسٹرکٹ اسوسی ایشن کے سکریٹری بھی ہیں، کہا کہ یہ سوچا سمجھا اقدام ہوا۔ ’’ہمارے پاس 17 ڈسٹرکٹس کی تائید تھی لیکن ہماری بسوں پر دانستہ حملہ کیا گیا۔ ای جی ایم میں شرکت کیلئے کوئی وقت مقرر نہیں تھا جسے صبح 11 بجے تا دوپہر 2 بجے طئے کیا گیا تھا۔ اسپورٹس کونسل کی مصرحہ شرائط میں ہے کہ ووٹنگ دوپہر 12 بجے ہونا تھا لیکن ہمیں اس بہانے سے داخلہ نہیں دیا گیا کہ ہم تاخیر سے پہنچے اور نتیجہ کا اس حقیقت کے باوجود اعلان کردیا گیا کہ ہم ٹھیک مقام اجلاس کے باہر موجود تھے۔‘‘ مودی گروپ کے الزامات کے تعلق سے پوچھنے پر مہانتی نے کہا کہ میٹنگ صبح 11 بجے شروع ہوگئی اور اس کے بعد کسی کو بھی داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ڈسٹرکٹ ممبرس کی بعض گاڑیوں پر حملے کے بارے میں استفسار پر مہانتی نے جواب دیا کہ اس طرح کی چیزیں اُن کے دائرۂ کار میں نہیں ہیں۔