مودی، امیت شاہ کی شاندار جیت نیا سیاسی سبق

راج دیپ سردیسائی
وزیراعظم نریندر مودی انتخابی سیاست میں تاریخ رقم کراتے ہوئے اندرا گاندھی کے بعد سے دو متواتر اکثریتی حکومت فراہم کرنے والا الیکشن جیتنے والے پہلے لیڈر بن گئے۔ انھیں شاید شکریہ کے چند کارڈز اُن لوگوں کو بھیجنے چاہئیں جنہوں نے اُن کی غیرمعمولی سیاسی فتح میں اپنا حصہ ادا کیا۔
امیت شاہ : بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ہر قیمت پر جیت کیلئے کسی نے بھی ایسی نظیر قائم نہیں کی جیسا اس کے صدر پارٹی نے کیا ہے۔ محض ایک مثال کافی ہوجانا چاہئے۔ گزشتہ پانچ سال میں امیت شاہ کا بنگال کو 91 مرتبہ سفر کرنے کا دعویٰ ہے، ایسی ریاست جو کبھی بی جے پی کی پہنچ سے لگ بھگ دور سمجھی جاتی تھی۔ شدید خواہش کی جرأت نے غیرمحدود وسائل اور تنومند کاریاکرتا (والنٹیئر) مشین کے ساتھ امیت شاہ کو مودی کے دوبارہ انتخاب میں غالب شخصیت بنایا۔ وہ کسی معاملے میں مفاہمت کیلئے تیار نہ تھے۔ یوں سمجھئے کہ ’سام۔دام۔دنڈ۔بھید‘ (اپنے منصوبہ پر بہرصورت عمل آوری کرنا) طرز کی نیتاگری دکھائی دی لیکن کبھی جارحانہ مسابقتی جذبہ میں کچھ کمی نہ ہونے دی، جو انتخابات جیتنے میں مددگار ہوتی ہے۔

راہول گاندھی: صدر کانگریس نے توانائی سے بھرپور مہم چلائی لیکن مربوط حکمت عملی کا فقدان نظر آیا۔ رافیل سے نوٹ بندی سے گڈس اینڈ سرویسس ٹیکس پر تنقیدوں تک کانگریس قیادت مسلسل ایسے مسئلہ کی تلاش میں دکھائی دی کہ خود اپنے قابل بھروسہ جوابی نعرے کو پیش کئے بغیر مودی حکومت کو چوٹ پہنچائی جاسکے۔ جب راہول نے پُرکشش ’نیائے‘ کو پیش کرتے ہوئے اپنے ویژن کی تشریح کی، ایسا لگا کہ یہ اسکیم مشکوک ہے اور عوام کی توجہ حاصل کرنے کیلئے پیش کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں، راہول گاندھی کا خاندان مسٹر مودی کو کامدار (محنتی) بمقابلہ نامدار (خاندانی) کا طنزیہ نعرہ لگاتے ہوئے فائدہ اٹھانے کا مؤثر موقع فراہم کرتا ہے، بالخصوص بوجہ نوجوان نسل جو موروثیت کے مقابلہ میرٹ کی خواہش کرتی ہے۔

علاقائی اپوزیشن: ممتا بنرجی سے مایاوتی سے این چندرابابو نائیڈو تک سب نے صرف مودی کی مخالفت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ناسمجھ اپوزیشن ہونے کا ثبوت دیا۔ 1977ء کی طرز پر مہاگٹھ بندھن (عظیم اتحاد) کا آئیڈیا کبھی اُبھر نہیں پایا کیونکہ داخلی تضادات اتنے زیادہ رہے کہ وہ مودی کو اقتدار سے ہٹانے کی مشترکہ خواہش پر غالب آگئے۔ واحد مضبوط لیڈر کی باتیں امکانی مہاملاوٹ مخلوط کے اعداد و شمار کیلئے بہت طاقتور ثابت ہوئیں۔
مسعود اظہر اور پاکستان میں قائم دہشت گردی کی فیکٹری: مودی کی سیاست ہمیشہ کوئی ’’دشمن‘‘ کی مسلسل تلاش کے بل بوتے پر پھلتی پھولتی رہی ہے۔ 2002ء میں جب وہ گجرات میں پہلی بار الیکشن جیتے تھے، تب قوم دشمن مسلم اور میاں مشرف تھے جو گودھرا ٹرین آتشزدگی کے بعد اُن کے اصل ٹارگٹس رہے۔ سترہ سال بعد مابعد پلوامہ اور بالاکوٹ صورتحال میں مودی نے جیش کے سربراہ اور جہادی مشین پر توجہ مرکوز کردی۔ ’’گھر میں گھس کر مارا‘‘ اس دعوے کے ساتھ انھوں نے سخت قوم پرستانہ، مخالف پاکستان لہر پیدا کردی۔ اس کی مدد سے انھوں نے الیکشن کو نیم صدارتی قیادت کی لڑائی کا پیش منظر بنادیا۔
میڈیا: سالِ نو سے لے کر جب مسٹر مودی نے ایک ٹی وی نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیا، پھر ایکٹر اکشے کمار کے ساتھ ’غیرسیاسی‘ انٹرویو منعقد کیا، یہاں تک کہ الیکشن کے فوری بعد کیدارناتھ کو روحانی یاترا کی، ان سارے معاملوں میں میڈیا کا کوریج اس انداز میں ہتھیا لیا گیا کہ اپوزیشن عملاً اوجھل ہوگیا۔ درحقیقت، 2019ء ہندوستان کا سب سے زیادہ سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق ترتیب شدہ الیکشن کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس میں میڈیا کے بعض گوشوں نے جانبدارانہ رول ادا کرتے ہوئے برسراقتدار پارٹی اور مودی کی مدد کی۔ ٹی وی کا مشاہدہ کرنے والوں پر ریسرچ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپریل میں مودی کو نیوز چیانلوں پر زائد از 722 گھنٹے دکھایا گیا جبکہ راہول گاندھی 252 سے کچھ کم گھنٹے نمودار ہوئے۔

الیکشن کمیشن : ای سی نے اس جیت سے ماحول میں خود کو چھپا نہیں پایا۔ اس نے اسے وقت بھی غفلت و سستی کا مظاہرہ کیا جب سیاسی پارٹیوں نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کی خصوصیت سے نشاندہی کی۔ اس کے نتیجے میں ایسی فکرمندی پیدا ہوئی کہ اس دستوری ادارہ نے غیرجانبدارانہ انداز میں کماحقہ کام نہیں کیا۔ حتیٰ کہ کیدارناتھ کا سفر بھی سیاسی اخلاقیات کی حدود کو تجاوز کرگیا: کیا کسی لیڈر کو ووٹنگ کے دن مذہبی تمثیل کا استعمال کرنا چاہئے؟
ووٹر جو خاموش نہ رہا: تلاش و تجسس سے عاری ہندوستانی ووٹر نے اپنے موقف کا بے باکانہ انداز میں اظہار کیا۔ انتخابی مہم کے دوران ہم نے لگ بھگ تواتر سے ’’مودی، مودی‘‘ کے نعرے سنے، جو حامیوں کی سیاسی آرمی کی مسلسل ذہن سازی کا نتیجہ ہے، جس میں طاقتور قوم پرستی اور تقسیم پسند مذہبی جنون کے امتزاج کا بڑا دخل رہا۔ لیکن ہندو متوسط طبقہ سے کہیں آگے بڑھتے ہوئے ایسے ووٹرس بھی رہے جنھوں نے قطعیت سے کوئی ذہن نہیں بنایا تھا، جنھوں نے مودی کے حق میں اس لئے ووٹ دیا کہ وہ انھیں مطمئن کرنے میں کامیاب ہوئے کہ وہی بنیادی بہبود کا کام کرسکتے ہیں۔ جب ٹائلٹ، ایل پی جی سلنڈر یا کم لاگتی مکان بااختیاری کی علامت بن جائیں، تب حکمرانی کے ایک اور موقع کی پیشکشی کیلئے ووٹروں میں آمادگی پیدا ہوجاتی ہے۔ ’’نیو انڈیا‘‘ کا یہی ووٹر ہے جو ذات اور زمرہ کی خامیوں (ماسوائے دوراُفتادہ جنوبی ہند اور اقلیتیں) سے قطع نظر مودی کو یادگار کامیابی تک پہنچانے میں معاون ہوا ہے۔
اختتامی تبصرہ : چونکہ مودی سیلفی کے دلدادہ ہیں، اس لئے شاید انھیں خود کو اور اپنی کلیدی ٹیم کو تھینک یو کارڈ بھیجنے کی ضرورت ہے۔ بالاکوٹ سے وارانسی سے کیدارناتھ تک مودی اور اُن کے کلیدی گروپ نے برانڈ کو خوبی سے بڑھاوا دینے کا کوئی موقع نہیں گنوایا ہے۔ وزیراعظم کے سب پر مقدم امیج نے اپوزیشن کو بونا بنادیا ہے: ٹھیٹ سیاسی مارکیٹنگ اور رابطے کے معاملے میں اور بے تکان مہم چلانے میں انھوں نے اپنے آپ میں مثال قائم کی ہے۔ شاید آخرکار وہ کچھ سستانے کے متحمل ہوسکتے ہیں اور تازہ آموں سے محظوظ ہوسکتے ہیں۔
rajdeepsardesai52@gmail.com