گلبرگہ7؍جنوری(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ملک کے موجودہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانوں کو اسوہ حسنہٰ کی اتباع کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز قومی رہنما الحاج قمرالاسلام صدر مرکزی سیرت کمیٹی ضلع گلبرگہ و وزیر بلدی نظم و نسق پبلک انٹر پرائزس وقف و اقلیتی بہبود حکومت کرناٹک نگران وزیر گلبرگہ ضلع ، نے کیا ہے ۔ وہ کل رات نہایت عظیم الشان پیمانے پر تاریخی میدان ہفت گنبد گلبرگہ میں منعقدہ 36ویں جلسہ میلاد النبیؐ میں صدارتی تقریر کر رہے تھے ۔ہر سال جلوس میلاد النبیؐ کے اختتام پر جلسہ میلاد النبیؐ کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے ، الحاج قمرالاسلام نے مزید کہا کہ نبی کریم ؐ نے غیر مسلموں سے خوشگوار روابط کرنے کے لئے بہترین حکمت عملی اختیار فرمائی جس کے نتیجہ میں اسلام کو عالمی مقبولیت حاصل ہوئی ،اور فتح مکہ کا تاریخ ساز واقعہ پیش آیا۔ الحاج قمرالاسلام نے مزید کہا کہ سیرت طیبہؐ کا ہر پہلو ہمارے لئے نمونہ عمل ہے لیکن افسوس ہم نے سیرت طیبہؐ کے اُس روشن پہلو کو فراموش کردیا جو ہندوستان میں ہمیں اپنے برادران وطن سے دوستانہ روابط قائم کرنے میں رہنمائی کرتا ہے ۔ الحاج قمرالاسلام نے مزید کہا کہ قرآن مجید نے مذہب کے معاملہ میں جبر نہ کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی کریمؐ نے شدت کو سخت ناپسند فرمایا ہے ۔ ملک میں ہوئی حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد فرقہ پرستوں کے حوصلے نہایت بلند ہوئے ہیں ۔ پالن پور گجرات میں میلاد النبی ؐ کا جلوس نکالنے کے لئے گجرات پولیس نے 12ایسی شرائط عائد کیں جن سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ملک میں فرقہ پرستی کے رحجان کو کس قدر غلبہ حاصل ہوا ہے ۔ الحاج قمرالاسلام نے مزید کہا کہ مسلمانوں کو فرقہ پرستی کا مقابلہ کرنے کے لئے سیکولر ذہن رکھنے والے برادران وطن کو اعتماد میں لینے کی حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے اور اس کے لئے سیرت طیبہؐ میں بہترین رہنمائی موجود ہے ۔ الحاج قمرالاسلام نے مزید کہا کہ ملک کے موجودہ حالات کا تقاضہ ہے کہ مسلکی اور دیگر تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسلمانوں کے مابین میں کلمہ کی بنیاد پر اتحاد قائم ہونا چاہئے اور ملک بھر میں اسلام اور سیرت طبیہؐ کے حقیقی پیام کو عام کیا جانا چاہئے۔ قبل ازیں کارروائی کا آغاز قرأ ت کلام پاک سے ہوا، الحاج سید طیب علی یعقوبی، الحاج اسد علی انصاری، الحاج انجینئر سخی سرمست، الحاج ساجد نظامی ، ڈاکٹر معین منظر، الحاج بابو میاں متولی نے نعت خوانی کا شرف حاصل کیا ۔ محمد عمر صاحب نے بزبان کنڑا نعت پڑھی۔ محمد اصغر چلبل صدر استقبالیہ و نائب صدر مرکزی سیرت کمیٹی ضلع گلبرگہ نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا ۔ مولانا مفتی حبیب الرحمن فاروقی ندوی سیکریٹری علوم شریعہ مراٹھواڑہ نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے صحابہ کرام کے مابین پائے گئے اختلافات کو امت کے لئے رحمت سے تعبیر کرتے ہوئے بتایا کہ عصر حاضر میں مسلمانوں کوکس طرح اختلافات کے باوجود کلمہ کی بنیاد پر اپنے اتحاد کا ثبوت دینا چاہئے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ صحابہ کے مابین اختلافات نظریاتی اور علمی ہوا کرتے تھے لیکن ان اختلافات کی وجہ سے صحابہ کے مابین کبھی انتشار کی نوبت نہیں آئی ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ آج ہم نے فوری ردِ عمل ظاہر کرنے اور اپنے موقف میں شدت پیدا کرنے کا رحجان بہت زیادہ پایا جاتا ہے جبکہ یہ عمل صحابہ سلف صالحین کے طریقہ اور سنت رسول کے منافی ہے ۔ شیخ شاہ ڈاکٹر افضل الدین جنیدی سراج بابا جانشین بارگاہ شیخ دکن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محبت رسول ؐ کے بغیر سیرت طیبہؐ پر عمل بے فیض ہے ۔ مولانا افضل برکاتی مبلغ سنی دعوت اسلامی ممبئی نے قرآن مجید کی مختلف آیات کے حوالے سے عظمت مصطفی بیان کی۔ محترم سید شاہ حسام الدین حسینی سجادہ نشین تیغ برہنہؒ، الحاج اقبال احمد سرڈگی ایم ایل سی اور مرکزی سیرت کمیٹی کے عہدیداران شہ نشین پر موجود تھے ۔