مواضعات کی سطح پر بجٹ مختص کرنے کا منصوبہ

ضلع پریشد کریم نگر میں خصوصی اجلاس سے وزیر پنچایت راج کے ٹی آر کا خطاب
کریم نگر۔/10اگسٹ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مواضعات، منڈل، ضلع سطح پر مرتب کردہ منصوبوں میں جن کاموں کو کروانے کیلئے شامل کیا گیا ہے اس کے مطابق ریاستی بجٹ ہوگا۔ آئی ٹی پنچایت راج شعبہ وزیر کلوا کنٹلہ تارک راما راؤ نے اس بات سے واقف کروایا۔ ضلع پریشد اسٹینڈنگ کمیٹی چناؤ کے خصوصی اجلاس میں انہوں نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ مختص کئے جانے کے لئے خصوصی اجلاس منعقد کیا جارہا ہے، منصوبہ میں 90فیصد سڑکوں، پینے کے پانی کے لئے ہی درخواستیں آئی ہیں، انہوں نے کہا کہ مواضعات میں پینے کے پانی کے مسئلہ کے حل کیلئے ملک میں پہلی مرتبہ اتنا بڑے واٹر گرڈ پراجکٹ کا چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کریم نگر میں اعلان کیا ہے۔ تلنگانہ ریاست میں ہر گھر کو پینے کے پانی کی سربراہی ہمارا مقصد و منصوبہ ہے جسے چیف منسٹر نے ایک چیلنج کے طور پر قبول کرلیا ہے۔ واٹر گرڈ اسکیم میں ضلع کریم نگر کو پہلی ترجیح دی جائے گی۔ ستمبر کے پہلے ہفتہ میں بجٹ اجلاس کے انعقاد کا امکان ہے۔ سرپنچ، ایم پی ٹی سیز، زیڈ پی ٹی سیز کے اعزازی معاوضہ میں اضافہ کیلئے چیف منسٹر کے علم میں بات لانے کا انہوں نے تیقن دیا اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس میں ضرور اضافہ کیا جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 66دنوں سے کئی رکاوٹوں کو پھلانگتے آرہے ہیں، ایک طرف بدعنوانی کے انسداد کیلئے کوشش کرتے ہوئے دوسری جانب ترقیاتی پروگراموں کی تیزی سے عمل آوری کیلئے چیف منسٹر دن رات کوششیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو ترغیب دیتے ہوئے یہاں صنعتوں کے جال بچھانے کیلئے مختلف وفود سے بات چیت کی جارہی ہے۔ میڈمانیر پراجکٹ کو اندرون ایک سال مکمل کرلیا جائے گا، اس دوران معاوضہ کی ادائیگی متاثرین کی بازآبادکاری جیسے مسائل کو حل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ایک ہی دن میں جامع ہمہ مقصدی سروے کے ذریعہ ملک میں کسی نے بھی نہ ہمت کی ہے اور نہ اس طرح کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس سروے سے کئی فائدے ہوں گے، اس لئے 19اگسٹ کو کئے جانے والے سروے کو مکمل کامیاب بنائیں اور کسی بھی قسم کی تنقیدیں نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ دلتوں میں اراضی کی تقسیم سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔ 15اگسٹ کو ہر اسمبلی حلقہ کے ایک گاؤں میں زمین کی تقسیم ہوگی۔حیدرآباد کی ترقی اور خوبصورتی کے لئے آندھرائی حکمرانوں نے کوشش نہیں لیکن اب کے سی آر نے شہر کی خوبصورتی و ترقی کے لئے 450کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ پولیس محکمہ کو بھی عصری طور پر ترقی دینے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ عوام کی جان و مال کی حفاظت ہو اور کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ بیرونی افراد کے لئے بھی حیدرآباد ایک پرسکون شہر ثابت ہو۔ حیدرآباد کے امن وامان نظم و ضبط کو گورنر کے دائرہ اختیار میں دیئے جانے کے مرکز کے فیصلہ کی ہم سخت مخالفت کرتے ہیں، انہوں نے مرکز کے اس فیصلہ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ ضلع پریشد اجلاس میں قرارداد منظور کی گئی۔