منوہر پاریکر پر چیف منسٹر برقرار رہنے کیلئے دباؤ

پاناجی 25 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) آر ایس ایس گوا یونٹ کے سابق صدر سبھاش ویلنگ کر نے الزام عائد کیاکہ بی جے پی ہائی کمان کی جانب سے چیف منسٹر منوہر پاریکر پر ان کی خراب صحت کے باوجود اس عہدہ پر برقرار رہنے کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے تاکہ ریاست میں اقتدار برقرار رہے۔ تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان کے اس الزام کو مسترد کردیا اور کہاکہ پاریکر کو چیف منسٹر برقرار رہنے پر مجبور نہیں کیا جارہا ہے اور ان کی صحت میں بہتری ہورہی ہے۔ ویلنگ کر نے چیف منسٹر کی صحت سے متعلق ایک اپ ڈیٹ دینے کا ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا۔ انھوں نے الزام عائد کیاکہ وہ (حکومت) عوام کو بیوقوف بنارہی ہے۔ پاریکر کو مناسب آرام کی ضرورت ہے۔ دہلی میں بی جے پی ہائی کمان گوا میں اپنا اقتدار رکھنا چاہتی ہے۔ اسی لئے وہ انھیں آرام کرنے نہیں دے رہے ہیں۔ وہ اقتدار کے بھوکے ہیں‘‘۔ وہ کل شام منڈایم اسمبلی حلقہ میں ان کے حامیوں کی ایک میٹنگ سے خطاب کرنے کے بعد اخباری نمائندوں سے بات کررہے تھے۔ اس حلقہ اسمبلی میں گزشتہ سال یہاں سے کامیابی حاصل کرنے والے دیانند سوپٹے کے استعفیٰ دینے اور بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد ضمنی چناؤ ہونے والا ہے۔ ویلنگ کر کو پاریکر کے خلاف ان کے تنقیدی ریمارکس کے بعد 2016 ء میں آر ایس ایس گوا یونٹ صدر کے عہدہ سے ہٹادیا گیا تھا۔ بعد میں انھوں نے ایک سیاسی جماعت گوا سرکشا منچ کے نام سے قائم کی جس نے گزشتہ سال منعقدہ گوا اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے خلاف مقابلہ کیا تھا۔ ویلنگ کر نے کہاکہ ریاستی حکومت کو پاریکر کے صحت یاب ہونے تک کسی دوسرے شخص کو چیف منسٹر مقرر کرنا چاہئے تھا۔ انھوں نے کہاکہ وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس حکومت کو تحلیل کردیا جائے گا اور گوا اسمبلی انتخابات لوک سبھا کے انتخابات کے ساتھ منعقد کئے جائیں گے۔ انھوں نے کہاکہ بی جے پی اب نظریات کی پارٹی نہیں رہی۔ انھوں نے کہاکہ منتخب نمائندوں کو پارٹی کے نظریات سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ وہ دوسری پارٹیوں سے آئے ہوئے لیڈرس ہیں۔ وفادار کیڈر میں مایوسی ہے۔ آئندہ انتخابات میں ریاست سے بی جے پی کا مکمل صفایا ہوجائے گا۔