منوہر پاریکر : ’عام آدمی‘ نیتا ۔ خوبیاں زیادہ، خامیاں کم

راج دیپ سردیسائی
یہ ڈسمبر 2013ء کی بات ہے جب سارا نیشنل میڈیا اروند کجریوال اور اُن کے عام آدمی امیج کے بارے میں ہیجانی کیفیت میں مبتلا تھا۔ وہ شخص جو چیف منسٹر دہلی بننے جارہا تھا، جو بھی کام کرے اُسے رجحان ساز اقدام کے طور پر دیکھا جارہا تھا: انھیں ’نئے دور‘ کے ایسے لیڈر کے طور پر پیش کیا گیا جو دارالحکومت کے وی وی آئی پی کلچر سے پرے ہٹ رہا ہے۔ تب میں گوا میں میری سالانہ چھٹی پر تھا اور میں نے چیف منسٹر منوہر پاریکر کو ڈنر پر مدعو کیا۔ جب وہ اپنے روایتی بشرٹ، پتلون اور سینڈل پہنے میرے پاس پہنچے، انھوں نے شکایت کردی: ’’کیوں آپ تمام ٹی وی والے اس کجریوال کی طرف حد سے زیادہ مائل ہوئے جارہے ہو؟ صرف اس لئے کہ وہ دہلی سے تعلق رکھتا ہے؟ ہم میں سے بھی بعض سادہ زندگی ہی بسر کرتے ہیں مگر اسے ٹی وی پر نمائش نہیں بناتے!‘‘
بے شک! اُن کی بات میں مبالغہ آرائی نہیں تھی۔

ایم ایل اے اور بعد میں چیف منسٹر کی حیثیت سے اپنے کئی برسوں میں پاریکر نے ایسے سیاستدان کی حیثیت سے اپنی ساکھ بنائی جو اقتدار کی آسائشوں سے دانستہ بچتا رہا۔ جب ہم نے انھیں 2012ء میں ایک ٹی وی ایونٹ کیلئے مدعو کیا تھا، انھوں نے معاونین کے قافلے کے بغیر اکنامی کلاس میں سفر پر اصرار کیا، ایئرپورٹ پر اپنا بیاگیج خود سنبھالا اور آفیشل کار سے تک استفادہ نہیں کیا۔ ان کا استدلال رہا: ’’ یہ آپ کا پرائیویٹ فنکشن ہے، کیوں مجھے سرکاری رقم کا استعمال کرنا چاہئے؟‘‘ گوا میں بھی سکیوریٹی اور لال بتی والے موٹر قافلے کے بغیر سفر کرنے والے چیف منسٹر کا امیج عوام کے ذہن میں نقش تھا۔ ایک واقعہ ہے جو شاید غیرمستند ہو، کہ کس طرح وہ ایک مرتبہ اسکوٹر پر جارہے تھے کہ ایک کار نے انھیں ٹکر دے دی جو کسی پولیس آفیسر کا بیٹا چلا آرہا تھا۔ جب نوجوان کار سے باہر آیا اور اپنے اثرورسوخ کی دھونس جمانے لگا، پاریکر نے اپنی ہیلمٹ نکالی اور مسکرا کر کہا: ’’ہاں، میں جانتا ہوں تم کون ہو لیکن میں بھی تمہارا سی ایم ہوں!‘‘
چند سال بعد جب مسٹر پاریکر دہلی کو ملک کے وزیر دفاع کی حیثیت سے منتقل ہوئے ، وہ بدستور اپنی ’عام آدمی‘ والی طبیعت کے مطابق ہی نظر آئے۔ کئی ماہ انھیں نیوی گیسٹ ہاؤس میں قیام کرنا پڑا کیونکہ سرکاری بنگلہ ابھی انھیں الاٹ نہیں کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں انھوں نے شکایت نہیں کی۔ بلکہ ان کی شکایت تو مختلف ہی تھی۔ انھیں آرمی ڈے سے لے کر یوم جمہوریہ تک سلسلہ وار رسمی تقریبات میں شرکت کرنا پڑرہا تھا اور فرصت کی اپنی محدود سرگرمی کیلئے تک انھیں بمشکل وقت مل رہا تھا۔ اس صورتحال میں انھوں نے کہا: آپ کو پتہ ہے، مجھے یہ سب رسمی تقاریب پسند نہیں کیونکہ میں واقعی یہ فینسی کپڑے اور جوتے پہننا پسند نہیں کرتا ہوں!‘‘ اس سے جزوی وضاحت ہوسکتی ہے کہ کیوں وہ ’لٹینس دہلی‘ سے فی الواقعی کبھی ہم آہنگ نہیں ہوسکے۔ پاریکر کا تعلق مغربی ساحل سے تھا، جن کی زندگی گوا کے مناظر اور سمندری ہوا کی سریلی آوازوں، پُرسکون پانی اور سورج کی گرماہٹ کے ماحول میں گزری۔ گوا والوں کو اپنا مچھلی کا سالن اور چاول، دوپہر میں قیلولہ اور اپنی ہلکی رفتار والی زندگی پسند ہے۔ اس میں وہ مطمئن رہتے ہیں اور ان کی زندگی میں جلدبازی نہیں ملتی۔ تاہم، دہلی کے اقتدار کی چالوں کا دباؤ گوا کی طرز زندگی کیلئے ناموزوں ہے۔ اپنی مٹی کے سچے سپوت کی حیثیت سے پاریکر دارالحکومت کی سیاسی ہلچل بھری زندگی میں ماہی ٔ بے آب کی مانند تھے۔
اور پھر بھی انھوں نے کبھی حالات کو مسئلہ بناکر پیش نہیں کیا۔

وزیراعظم نے انھیں اہم ذمہ داری سونپی تھی، اور پابند ڈسپلن آر ایس ایس ورکر کی حیثیت سے انھوں نے قیادت کے فیصلے کی تعمیل کی۔ پاریکر کی دانست میں ڈیفنس منسٹری نے ایک چیلنج اور ایک موقع پیش کیا: چیلنج اس طرح کہ دفاعی معاملتوں کے بارے میں افسرشاہی جکڑ کو ختم کرنا ، اور موقع یوں کہ مسلح افواج کی مملکت پر بھروسہ کو بحال کرنا۔ انھوں نے ایک مرتبہ مجھ سے کہا تھا: ’’میں ہمارے جوانوں کیلئے بہترین سازوسامان اور سہولیات فراہم کرنا چاہتا ہوں۔ آفیسرز اپنے لئے کچھ نہ کچھ کرسکتے ہیں لیکن جوانوں کیلئے کون بولے گا؟‘‘
نیشنل میڈیا کے ٹوہ میں رہنے والے مزاج سے چڑنے والے پاریکر کے بیانات ہمیشہ سیاسی طور پر درست نہیں ہوتے تھے اور قومی سلامتی کے سنگین نوعیت کے مسائل کچھ غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کا اُن کا رجحان اکثر انھیں پریشانی میں ڈال دیتا تھا۔ مثال کے طور پر، 2016ء کے سرجیکل اسٹرائک کے بعد انھوں نے آرمی کو ہنومان سے تشبیہہ دی۔ جب میں نے اس تبصرہ کے تعلق سے اُن سے پوچھا، وہ قطعی بے پرواہ نظر آئے: ’’آپ لوگ صرف شہ سرخیاں چاہتے ہو، میں (مسلح افواج کے) دستوں کا حوصلہ بڑھانا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ آپریشن کے وقت پوری رات جاگتے رہے اور صبح 6 بجے سوئے۔ انھوں نے اپنی مخصوص نوعیت کی معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کہا: ’’آئی آئی ٹی میں رات دیر گئے جاگنے کی ہماری تربیت ہوئی۔‘‘
پاریکر کی پیدائش شمالی گوا کے چھوٹے ٹاؤن ماپوسا میں ہوئی، وہ آر ایس ایس شاکھا کی سخت تربیت سے گزرے، خالص میرٹ پر آئی آئی ٹی بمبئی تک پہنچے (جہاں اِنفوسیس کے شریک بانی نندن نلیکانی اُن کے بیاچ کے ساتھی رہے)، اور پھر اپنا ذاتی چھوٹا بزنس قائم کیا۔ وہ ذاتی محنت سے آگے بڑھنے والے شخص رہے، اور بنیاد سے جڑے لیڈر کا عہد اور اعتماد لے کر آگے بڑھے، جس کی شناخت مراعات نہیں بلکہ اُن کی سخت محنت رہی۔ وہ اپنے طرزِ قیادت میں کبھی اٹل ہوجاتے حتی کہ آمرانہ ۔ گوا میں نقاد کبھی کبھی انھیں ’چھوٹا مودی‘ کہتے کہ وہ اسٹیٹ بی جے پی کو ’ون مین شو‘ بنارہے تھے، لیکن بدتمیزی یا جارحیت سے عاری رہے۔ بیوروکریسی اور وزارتی رفقاء اُن سے خائف رہتے کیونکہ وہ کام کی انجام دہی کے معاملے میں سخت تھے، لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ہر چیز کی حد ہونی چاہئے۔ اُن کا فلسفہ تھا: ’’ہمیں حکومت میں کام کی انجام دہی ٹکراؤ کے ساتھ نہیں بلکہ توجہ کے ساتھ کرنی ہوگی۔‘‘ اور جس کام کا انھوں نے بیڑہ اٹھایا وہ تکمیل تک پہنچایا، چاہے دہلی میں مسلح افواج کا دیرینہ ’ون رینک ون پنشن‘ معاملہ ہو، گوا میں چند ماہ کے وقت میں سالانہ فلم فسٹیول کا اہتمام ہو یا ریاست میں بڑے انفراسٹرکچر پراجکٹس کی شروعات۔ اُن کے ’کرم یوگی‘ امیج نے انھیں تنازعہ سے دور رکھا حتیٰ کہ متنازعہ رافیل معاملت نے ان پر داغ نہیں لگایا۔ گوا میں کسینو کی شخصیتوں سے اُن کی بڑھتی قربت اور سرکاری اراضی معاملتوں کے بارے میں پریشان کن سوالات پر الزام آرائی ہوئی، لیکن کسی چیز نے کبھی انھیں پسپا نہیں کیا۔ تنقیدوں پر اُن کا مختصر جواب رہتا کہ ’’کچھ تو لوگ کہیں گے‘‘۔
سچائی ہے کہ گوا کے بدعنوان سیاسی منظر پر جہاں سیاست اکثر محض معاملتیں طے کرنے کا نام ہے، منوہر پاریکر دیگر سے کہیں مختلف اور برتر تھے، گوا کے دہا 1990ء کے بدنام زمانہ ’’آیا رام ، گیا رام‘‘ کلچر کو اشد ضروری استحکام دیا۔ وہ ایک اور وجہ سے خاص تھے، شاکھا کلچر میں تربیت کے باوجود وہ کبھی انتشارپسند ہندوتوا سیاست کے اسیر نہیں بنے۔ رام جنم بھومی تحریک نے بی جے پی کے دن بدل دیئے اور گوا میں پاریکر اُبھر آئے لیکن وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ کیتھولک آبادی کی بڑی اقلیت والی ریاست میں انھیں سب کی شمولیت والا نظام حکومت فروغ دینا ہوگا۔ کبھی اُن کے ڈپٹی چیف منسٹر رہے فرانسیس ڈی سوزا جو گزشتہ ماہ ہی چل بسے، ہندو۔ کیتھولک سیاسی خلیج کو پاٹنے میں اُن (پاریکر) کی کامیابی کو ایک مرتبہ یوں بیان کیا تھا: ’’منوہر کی دنیا میں چرچ اور مندر ہمیشہ ہم آہنگ و یکجا رہیں گے۔‘‘ عجیب بات ہے کہ حالیہ برسوں میں پاریکر نے مقامی گوا آر ایس ایس یونٹ کی مخالفت مول لیتے ہوئے اہم ذریعہ تعلیم کے طور پر کونکنی نہیں بلکہ انگریزی کو فروغ دینے پر اصرار کیا تھا۔ ’’جدید سوسائٹی کو انگلش ایجوکیشن کی ضرورت ہے‘‘ اُن کا جواب تھا جو ملک کے پہلے آئی آئی ٹی تعلیم یافتہ چیف منسٹر کے شایان شان ہے۔
گزشتہ سال جب کینسر نے انھیں سست کردیا، انھوں نے ہمت سے کام لیا، گوکہ آخر میں ایسا معلوم ہوا کہ وہ اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں۔ شاید انھیں اپنا وقار مضبوط رکھتے ہوئے مستعفی ہوجانا چاہئے تھا، بجائے اس کے کہ صحت میں واضح ابتری کے باوجود لڑکھڑاتی مخلوط حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے عہدہ پر برقرار رہتے۔ اِس سال کے اوائل پنجیم میں ایک برج کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے انھوں نے ہجوم سے سوال کیا کہ ’’جوش کیسا ہے!‘‘ جو مقبول فلم اُری سرجیکل اسٹرائیک کے نعرہ کا حوالہ ہے۔ صحت کے اعتبار سے وہ بلاشبہ علیل تھے، ان کی آواز رُندھی ہوئی تھی، اُن کی ناک میں ٹیوب تھی، اور مددگار انھیں سہارا دے رہے تھے۔ پھر بھی وہ اپنا عہدہ نہیں چھوڑے، شاید اس لئے کہ بی جے پی زیرقیادت حکومت کی بقا اُن کے چیف منسٹر برقرار رہنے سے مربوط ہے۔ ایسا لیڈر جس نے خود کو ’نئے‘ گوا کے معمار کے طور پر پیش کیا، اب ’بقا کیلئے جدوجہد کرنے والے لیڈر‘ کے وہی گھسے پٹے سیاسی کلچر کی پرچھائی بن گئے تھے جس سے کبھی وہ چڑا کرتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ میں منوہر ’باب‘ کو اچھے وقتوں کیلئے یاد رکھنا چاہوں گا، اُس شخص کے طور پر جس نے خود کو طاقت کی سیاست نہیں بلکہ پبلک سرویس کیلئے پابند عہد کرلیا تھا۔ آخری مرتبہ اُن سے میری ملاقات جولائی 2018ء میں ہوئی، مانسون کی بارش کھڑکی کی چوکھٹ پہ گررہی تھی اور گوا کا سرسبزو شاداب ماحول نہایت خوبصورت منظر پیش کررہا تھا۔ انھوں نے میری طرف دیکھا اور اشتیاق بھری مسکراہٹ کے ساتھ سوالیہ جملہ کہا، ’’بارشوںمیں گوا دنیا کا خوبصورت ترین مقام ہے، کیا ایسا نہیں ہے؟‘‘ ہاں، منوہر ’باب‘ ، یہ سچ ہے۔ اور ہاں، آپ کا دل اور دماغ ہمیشہ گوا اور اس کے لوگوں سے جڑا رہا۔ (آپ کیلئے) دائمی آرام و سکون (RIP) کی نیک تمنا ہے۔
rajdeepsardesai52@gmail.com