ممتاز اردو تلگو شاعر رحمت اللہ کی خدمات ناقابل فراموش

کڑپہ ۔ 16 ۔ اپریل ( راست ) اردو تلگو زبان و ادب کے ممتاز شاعر اور ادیب یونسف ایوارڈ یافتہ دانشور رحمت اللہ تخلص سشی سری کا انتقال یکم اپریل کی صبح کڑپہ میں ہوا ۔ جن کے جنازے میں کثرت سے لوگوں نے شرکت کی ۔ مغفرت کی دعا کی ۔ رائلسیما اردو رائٹرس فیڈریشن کے زیراہتمام بروز جمعہ بتاریخ 3 اپریل کو فیڈریشن کے دفتر میں ایک تعزیتی جلسہ کا انعقاد ہوا ۔ جس کی صدارت چیرمین رائلسیما اردو رائٹرس فیڈریشن ڈاکٹر اقبال خسرو کرتے ہوئے کہا کہ سشی سری کی شخصیت کے کئی پہلوؤں کا ذکر کیا ان کی خوبیاں کا تذکرہ کرتے ہوئے خراج عقیدت پیش کی ۔ اردو میں کم تلگو میں زیادہ مشہور تھے نقاد اور محقق کہنا بجاہوگا AIR میں ایک صحافی کے خدمات انجام دیں ہیں ۔ وہ ہمارے دلوں میں تابندہ رہیں گے ۔ اردو فاضل کالج کا قیام کیا ۔ مہمان خصوصی ایڈیٹر وسیلہ پندرہ روزہ محمود شاہد نے کہا کہ سشی سری کا انتقال سے اہل کڑپہ کو بہت بڑا صدمہ پہنچا ترقی پسند خیالات رکھنے والا شاعر کی معاشرہ پر کڑی نظر رکھے تھے ۔ اردو ، تلگو ان کیلئے دو آنکھیں تھیں ۔ ادب کیلئے بڑا نقصان ہوا ۔ ساہتی نیترم کے مدیر بھی موجود تھے ۔ معتمد عمومی رائلسیما اردو رائٹرس فیڈریشن ستار فیضی نے اپنی تقریر میں کہا کہ کتابوں کا مطالعہ ، سماج کا مشاہدہ بڑی سنجیدگی سے کرتے خاص کر مسلمانوں کی سماجی بدحالی کی کہانیاں لکھے جو مشہور ہوئیں اپنی سفارش سے غریب نوجوانوں کو نوکریاں دلوایا ۔ سید شکیل احمد کنوینر تعزیتی جلسہ نے کہا کہ میری شخصیت کی نکھار میں سشی سری کا بڑا حصہ ہے ۔ صحافت و ادب کی طرف مجھے راغب کرنے والے تھے ۔ لکچرر غیاث الدین شارب نے کہا کہ نیک انسان دوستی کے قابل آدمی غیر حسد سے پاک تھے ۔ بلامذہب و ملت لوگوں کی مدد کرتے تھے ۔ اس تعزیتی جلسہ میں اردو ، تلگو شعراء ادباء میں افسر ، سردار ، ساحل انور ہادی مقبول احمد ، یونس طیب ممبو خان وغیرہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔