ممبئی ، 5 مئی (سیاست ڈاٹ کام) آخرکار اپنے ٹائٹل کا دفاع کرنے کیلئے پُرجوش نظر آنے والی ٹیم ممبئی انڈینس کو انڈین پریمیر لیگ میں شادمانی کی طرف واپسی کی راہ میں ایک اور آزمائش کا سامنا ہے، جیسا کہ وہ طاقتور کولکاتا نائٹ رائیڈرز کی کل یہاں میزبانی کررہے ہیں۔ ڈیفنڈنگ چمپینس تناؤ سے بھرپور پس منظر میں کنگز الیون پنجاب کے مقابل جیت کے بعدپُرجوش دکھائی دیئے، حالانکہ اُن کی پلے آف میچز کھیلنے کی امیدیں ہنوز نازک ڈور سے بندھی ہیں، کیونکہ گزشتہ چند ہفتوں میں وہ لگاتار ہارتے رہے تھے۔ اندور میں کرونل پانڈیا اور روہت شرما کے درمیان 21 گیندوں میں 56 رنز کی طوفانی اننگز نئی تاریخ ہے اور ایم آئی ٹیم کو اگلا شکار وانکھیڈے اسٹیڈیم میں کے کے آر کو بنانا ہے، جو بہت طاقتور حریف ثابت ہونے کی ساکھ قائم کرچکے ہیں۔ ایم آئی کے معمول سے کمتر مظاہرہ پیش کرنے والے بیٹسمین آخرکار کل رات پنجاب کے خلاف کامیاب ہوئے اور اپنے مظاہرے کو پوائنٹس ٹیبل کی ایک اور ٹاپ ٹیم کے خلاف دوہرانے کوشاں ہوں گے۔ ممبئی اپنے نو مقابلوں میں سے تیسرا میچ جیت کر یکایک پانچویں پوزیشن پر آچکی ہے جبکہ کے کے آر کا اطمینان بخش تیسرا درجہ ہے۔ میزبانوں کو پلے آف مرحلے تک رسائی کیلئے اپنے بقیہ پانچویں مقابلے جیتنے ہوں گے۔ ممبئی انڈینس کیلئے سوریہ کمار یادو (340 رنز) بہت اچھے فارم میں رہے ہیں اور استقلال سے رنز اسکور کئے ہیں۔ لیکن اُن کے اوپننگ پارٹنر ایون لوئس نے مایوس کیا ہے اور ہوم ٹیم کو اپنی اوپننگ جوڑی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت پڑے گی، کیونکہ خاص کر ویسٹ انڈین اوپنر کا ہولکر انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں بھی ناقص مظاہرہ رہا ہے۔ تاہم، میزبانوں کو خوشی ہوگی کہ کپتان روہت نے پھر سے رنز بنانا شروع کردیئے اور وہ پیش پیش رہتے ہوئے قیادت نبھانا چاہیں گے۔ وکٹ کیپر ایشان کشن، جے پی ڈومینی ، ہاردک پانڈیا اور اُن کے بھائی کرونل (جنھوں نے پنجاب کے خلاف شاندار کھیلا ہے) کے ساتھ گزشتہ روز کے مین آف دی میچ سوریہ کمار نیز روہت سب مل کر ممبئی کیلئے طاقتور بیٹنگ لائن اپ قائم کرتے ہیں۔ آؤٹ آف فارم ویسٹ انڈین کیرن پولارڈ کو بین کٹنگ کے حق میں دوبارہ آرام دیئے جانے کی توقع ہے۔ ایک شعبہ جہاں ممبئی کو بہتری لانا ہے وہ اُن کی ڈیتھ اوورز میں بولنگ ہے۔ نیوزی لینڈ کے مچل مک لینن کو رائل چیلنجر بنگلور کے بیٹسمنوں نے آخری اوور میں تین چھکے لگا دیئے۔ ہاردک نے پنجاب کے خلاف قطعی اوور میں زائد از 20 رنز خرچ کردیئے۔ جسپریت بھومرا، کٹنگ اور نوجوان لیگ اسپنر میانک مرکندے (12 وکٹس) کو اپنا کام عمدگی سے ادا کرنے کی ضرورت ہے اور تب ہی کے کے آر کی مضبوط بیٹنگ لائن اپ کو محدود رکھا جاسکے گا۔ کرونل کو بھی ہاردک کے ساتھ گیند کے ذریعے کچھ اچھا کرنا پڑے گا۔ اہم بات ہے کہ ممبئی نے رواں سیزن اپنے چار ہوم میچز میں صرف ایک مرتبہ آر سی بی کیخلاف جیتا ہے۔کے کے آر کا مختلف معاملہ جہاں کپتان دنیش کارتک عمدگی سے قیادت کررہے ہیں۔ چینائی سوپر کنگز کے مقابل چھ وکٹ کی متاثرکن جیت کے بعد کے کے آر کو آگے بڑھ کر تیسرا مقام مل گیا اور مسلسل تیسری جیت کی صورت میں اُن کی کوالیفائنگ کی امیدیں قابل لحاظ حد تک یقینی ہوجائیں گی۔کولکاتا ٹیم میں ابھی تک تقریباً سب نے اچھا کھیلا اور صرف وائس کیپٹن روبن اتھپا نے حقیقی صلاحیت کے مطابق مظاہرہ پیش نہیں کیا ہے۔ اب دیکھنا ہے کارتک کی ٹیم میزبانوں کو جاریہ ٹورنمنٹ میں کل ہی مایوس کردیتی ہے یا ممبئی کو مزید مہلت ملے گی۔