ابوظہبی۔ 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) اسپاٹ فکسنگ تنازعہ کی وجہ سے بدنام ہوچکی انڈین پریمیئر لیگ کے ساتویں ایڈیشن کا کل ابوظہبی کے شیخ زید اسٹیڈیم میں دفاعی چمپیئن ممبئی انڈینس اور کولکتہ نائٹ رائیڈرس کے درمیان کھیلے جانے والے مقابلہ کے ساتھ آغاز ہورہا ہے۔ متحدہ عرب امارات پہلی مرتبہ ٹوئنٹی 20 کرکٹ کے اس دولتمند ترین ٹورنمنٹ کی میزبانی کررہا ہے چونکہ ہندوستان میں عام انتخابات چل رہے ہیں لہٰذا ٹورنمنٹ کے ابتدائی 20 مقابلہ میں یہاں متحدہ عرب امارات کے تین مختلف مراکز میں 16 تا 30 اپریل کھیلے جارہے ہیں۔ بعدازاں ٹورنمنٹ 2 مئی کو ہندوستان واپس ہوگا چونکہ اس وقت تک ہندوستان کی تمام ریاستوں میں انتخابات مکمل ہوجائیں گے۔ اسپاٹ فکسنگ تنازعہ جوکہ سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے لیکن منتظمین نے وعدہ کیا ہیکہ وہ اس ٹورنمنٹ کو بہتر طریقہ سے منعقد کریں گے جس کیلئے پہلے گلیمر ایونٹس کو ختم کردیا گیا ہے۔ 7 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ آئی پی ایل کی کوئی افتتاحی تقریب منعقد نہیں ہورہی ہے بلکہ اس مرتبہ صرف ٹیموں کیلئے ایک شاندار عشائیہ ترتیب دیا جارہا ہے جس میں بالی ووڈ بادشاہ شاہ رخ خان اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے جو افتتاحی مقابلہ میں شرکت کررہی کولکتہ نائٹ رائیڈرس ٹیم کے مشترکہ مالک بھی ہیں۔
ہندوستان کی سب سے مشہور گھریلو کرکٹ جس نے عالمی مقبولیت حاصل کرلی ہے لیکن متحدہ عرب امارات میں اس ٹورنمنٹ کے میدان پر اور میدان کے باہر ہونے والے واقعات پر خاص نظر رہے گی جیسا کہ سپریم کورٹ نے بی سی سی آئی کے صدر اور چینائی سوپرکنگس کے مشترکہ مالک این سرینواسن کو زبردستی عہدہ سے برطرف کیا ہے۔ آئی پی ایل سٹے بازی کے مقدمہ کے باوجود شائقین نے آئی پی ایل کی مقبولیت کم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے جبکہ ملک سے باہر کھیلے جارہے اس ٹورنمنٹ کو متحدہ عرب امارات میں بھی شائقین کی ایک بڑی تعداد مل جائے گی کیونکہ یہاں تارکین وطن کی ایک بڑے تعداد موجود ہے جن کا تعلق ایشیائی ممالک سے ہونے کے علاوہ وہ کرکٹ کے شیدائی بھی ہیں۔ آئی پی ایل کے ساتویں ایڈیشن میں ویسے تو بیسوں ایسے کھلاڑی موجود ہیں جن پر توجہ مرکوز ہوگی لیکن سرفہرست کھلاڑی ہندوستانی آل راونڈر یوراج سنگھ ہوں گے
کیونکہ ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص مظاہرہ کے علاوہ فائنل میں انتہائی سست بیٹنگ کرنے کی وجہ سے یوراج سنگھ تنقیدوں کی زد میں ہے اور وہ بہتر مظاہرہ کیلئے کوشاں بھی ہوں گے۔ یوراج آئی پی ایل کے اس سیزن کے لئے سب سے مہنگے ترین کھلاڑی ہیں جنہیں رائل چیلنجر بنگلور نے 14 کروڑ کے عوض حاصل کیا ہے۔ انگلینڈ کے کیون پیٹرسن بھی توجہ کا مرکز ہوں گے جن پر انگلینڈ اینڈ ویلس کرکٹ بورڈ نے بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بند کردیئے ہیں۔ وکٹ کیپر بیٹسمین دنیش کارتک کو دہلی میں 12 کروڑ کے عوض حاصل کیا ہے اور ان کے مظاہرہ بھی توجہ کا مرکز ہوں گے۔ دیگر کھلاڑیوں میں ونڈے کی تیز ترین سنچری اسکور کرنے والے کورے جیمس اینڈرسن اور آسٹریلیائی فاسٹ بولر مچل جانسن قابل ذکر ہیں۔