اقلیتوں میں تشویش، قاضی سید ارشد پاشاہ کانگریس لیڈر کا بیان
نظام آباد۔/8فبروری، ( پریس نوٹ ) قاضی سید ارشد پاشاہ سرکاری ترجمان تلنگانہ اسٹیٹ کانگریس کمیٹی نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت میں مرکزی حکومت نے ایک سوچی سمجھی پالیسی کے تحت تمام مخالف مسلم، رجعت پسند ، فسطائی تنظیموں کو کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ جس کے نتیجہ میں ار ایس ایس، وشوا ہندو پریشد اور دیگر مسلم ، عیسائی دشمن تنظیمیں ملک کے کونے کونے میں اپنے تیور دکھارہی ہیں۔ زعفرانی پرچموں کے ساتھ وی ایچ پی اور ار ایس ایس کے نوجانوں کے جلوس نکالے جارہے ہیں اور اشتعال انگیزنعرے بلند کئے جارہے ہیں۔ اس طرح ملک میں امن وامان کیلئے خطرات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ مسلم ،عیسائی قوموں میں تشویش اور بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ کشمیر سے کنیا کماری تک مختلف ریاستوں میں زعفرانی تنظیمیں جلسے ، جلوس اور دیگر پروگراموں کے ذریعہ فرقہ پرستی کو بڑھاوادے رہی ہیں۔ جبکہ نریندر مودی وزیر اعظم کو غیر ملکی دوروں سے فرصت نہیں ہے۔ مودی کابینہ کے ذمہ دار وزراء کے بیانات بھی آر ایس ایس اور وی ایچ پی کے مخالف مسلم طرز فکر کی نمائندگی کررہے ہیں۔ متھرا میں منعقدہ ہندو سمیلن میں سابق مرکزی وزیر سبرامنیم سوامی نے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کو یہ تسلیم کرنا چاہیئے کہ ان کے آباء و اجداد ہندو تھے اور مسلمانوں نے مندروں کو منہدم کرکے مساجد تعمیر کی تھیں اور ہندو طبقہ پر زور زبردستی کرکے انہیں مسلمان بنایا تھا۔ اور اب ہمیں تمام مساجد کو منہدم کرکے انہیں مندروں میں تبدیل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سارے ملک میں انسانیت کے دشمنوں کا کھیل جاری ہے اور قومی یکجہتی کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ مذہبی ، لسانی ، علاقائی تعصب بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف فرقہ پرست صف آراء ہوچکے ہیں۔ ان حالات میں فرقہ پرستی کے سیلاب کو روکنے کیلئے ملک کی تمام اقلیتوں کے اتحاد کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے قاضی سید ارشد پاشاہ نے ہندو مسلم اور دیگر اقلیتوں کو متحد ہوجانے کی اپیل کی۔