ملک میں فرقہ پرستوں کو مضبوط بنانے بی جے پی اور ایس پی کی سازش

نئی دہلی۔ 17؍اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام)۔ بی ایس پی صدر مایاوتی نے آج الزام عائد کیا کہ ملک میں فرقہ پرستوں کو متحد و مضبوط بنانے کے لئے بی جے پی اور سماج وادی پارٹی نے گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔ اترپردیش میں فرقہ وارانہ فسادات میں بھی دونوں پارٹیوں کا ناپاک اتحاد اور خفیہ منصوبہ شامل ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ یوپی میں صورتِ حال سماج وادی پارٹی حکومت میں ’خراب‘ ہوگئی ہے۔ حالات دن بہ دن ابتر ہوتے جارہے ہیں۔ مرکز میں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت آنے کے بعد سے حالات نازک ہوگئے ہیں۔ ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ فرقہ پرست طاقتیں ملک میں پہلے سے زیادہ مضبوط ہورہی ہیں۔ کئی ریاستوں میں فسادات کے واقعات کو دیکھا جارہا ہے۔

اترپردیش ہی واحد مقام ہے جہاں کئی فسادات برپا کئے گئے ہیں۔ اسی طرح کے واقعات کو بھڑکانے کے لئے بی جے پی اور سماج وادی پارٹی نے ایک دوسرے سے گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔ ریاست میں امن کا تصور ختم کردیا جارہا ہے۔ جب سے سماج وادی پارٹی حکومت آئی ہے، فسادات شدت سے رونما ہورہے ہیں۔ مرکز میں جب سے بی جے پی حکومت آئی ہے، ملک کی فرقہ وارانہ صورتِ حال نازک ہوچکی ہے۔ بہوجن سماج پارٹی صدر نے الزام عائد کیا کہ ایس پی اور بی جے پی دونوں نے دانستہ طور پر فرقہ وارانہ فسادات اور کشیدگی کو ہوا دی ہے۔ سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لئے یہ فسادات کرائے جارہے ہیں۔ جب سے مرکز میں بی جے پی حکومت آئی ہے، حالت نازک ہے۔ ریاستی حکومتوں کے ساتھ ساتھ مرکز کو چاہئے کہ ملک میں فرقہ پرستوں پر قابو پائے اور فسادات کو روکنے کے ئے مؤثر اقدامات کریں۔

وزیراعظم نریندر مودی کی یوم آزادی تقریر پر پوچھے گئے ایک سوال پر مایاوتی نے کہا کہ یہ تقریر انتخابات کے دوران کی جانے والی تقریروں سے زیادہ کچھ نہیں تھی جس کا مقصد آنے والے دنوں میں چار ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کو پیش نظر رکھ کر تیار کی گئی تھی۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ وہ قوم کے ’ایک مخلص خادم‘ ہیں، لیکن ان کے لب و لہجہ سے ظاہر ہورہا تھا کہ وہ انتخابی تقریر کررہے ہیں۔ ان کی نظریں جھارکھنڈ، مہاراشٹرا، جموں و کشمیر اور ہریانہ کے اسمبلی انتخابات پر ٹکی ہوئی ہیں۔ مایاوتی نے کہا کہ اگرچہ کہ بی جے پی نے حال ہی میں اقتدار حاصل کیا ہے، لیکن انھوں نے اب تک ’’اچھے دن‘‘ آنے کی توقع یا اِشارہ نہیں دیکھا ہے۔ سہارن پور فرقہ وارانہ فسادات پر اترپردیش کے وزیر شیوپال سنگھ یادو کی جانب سے سماج وادی پارٹی کو پیش کردہ رپورٹ کے جواب پر مایاوتی نے کہا کہ اصل حقائق کو دفن کردیا گیا ہے اور اس رپورٹ کا کوئی معنی و مقصد نہیں دیا ہے۔ بی جے پی اور سماج وادی پارٹی نے آپس میں گٹھ جوڑ کرکے امن و امان کی حالت کو ابتر بنایا ہے۔ ہم اس رپورٹ کو ہرگز قبول نہیں کرتے۔