اطمینان اور ذمہ داری کے ساتھ فارم کی خانہ پری ضروری ، اساتذہ کی تعیناتی پر زور
بیدر /11 ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ملک میں 83 سال بعد ذات پات کی مردم شماری ہو رہی ہے ۔ یہ مردم شماری ریاست کرناٹک میں اس ماہ کے تیسرے ہفتہ سے کرانے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ یہ ایک اہم سروے ہے ۔ سرکاری کارندے گھر گھر پہونچ کر یہ مردم شماری کریں گے ۔ اس کی بنیاد پر پسماندہ طبقات کے جس میں مسلمان بھی شامل ہیں اعداد و شمار اکٹھا کئے جائیں گے ۔ مردم شماری کیلئے جو عرضی فارم ہے اس میں 62 کالم ہیں ۔ جس کی بھرتی کرنے کیلئے کم از کم 45 منٹ چاہئے ۔ ہر گھر کے ذمہ دار شخص کو چاہئے کہ پورے اطمینان اور تسلی کے ساتھ اس فارم کو بھرتی کروائے کیونکہ اس مردم شماری کی بنیاد پر پسماندہ طبقات اور مسلمانوں کیلئے ریزرویشن طئے کیا جائے گا ۔ اس لئے ضروری ہیکہ پیشہ کے کالم میں باپ دادا کا پیشہ لکھوائیں ۔ مثال کے طور پر اگر باپ دادا کا پیشہ قصاب ، پھول بند ، نکلبند ، چھپر بند ہے تو اسی کو لکھائیں چاہے اب ڈاکٹر یا انجئیر ہی کیوں نہ ہو اس طرح اس سروے کی بنیاد پر مسلمانوں کے موجودہ ریزرویشن میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے ۔ اتفاق سے ریاست کرناٹک میں مردم شماری کیلئے آنگن واڑی ورکرس کو تعینات کیا جارہا ہے جو نامناسب ہے ۔ کیونکہ اس فارم کو بھرتی کرنے کیلئے آنگن واڑی ورکرس کی معلومات کافی نہیں ۔ اس سروے کیلئے کم از کم سرکاری اور امدادی اسکولوں کے اساتذہ کو تعینات کرنا چاہئے ورنہ فارموں میں غلطیوں کی بھرمار رہے گی ۔ اس کے علاوہ مردم شماری مہینوں کروائی جارہی ہے ۔ جس میں تفصیلات میں ردوبدل کرنے کی زیادہ گنجائش رہتی ہے ۔ اس سروے کو کمپیوٹررائزڈ کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس ضمن میں سماجی خدمت گذار سید بشیر احمد اور ونگ کمانڈر محمود خان نے پسماندہ طبقات کے چیرمین کانت راج سے ملاقات کرکے اس جانب توجہ دلائی اور فارم کنٹڑا کے علاوہ انگریزی میں بھی چھپوانے کی درخواست کی تو انہوں نے صرف ایک درخواست کو قبول کرتے ہوئے فارم کے چند اہم کالم انگریزی میں بھی چھپوائے ہیں ۔ جب سرکاری کارندے اس مردم شماری کیلئے گھروں پرآئیں تو ان کا تعاون کریں اور ہر حال میں ہر مسلم کنبہ کو یہ فارم بھرتی کروانا ہے اور پیشہ سے متعلق یاد رکھیں باپ اور دادا کا پیشہ ہی لکھوائیں ۔ اس سلسلہ میں آج وکاس سودھا میں ریاستی وزیر برائے سماجی بہبود ایچ انجینا نے ایک اجلاس طلب کیا تھا ۔ جس میں منتخب فنکار ، دانشور حضرت اور کئی عمائدین نے شرکت کی ۔ وزیر موصوف نے ذات پات کے اس سینسنس میں بھرپور تعاون کرنے پوری ریاست کے عوام سے اپیل کی ہے ۔ وزیر موصوف نے کہا کہ یہ ایک اہم مردم شماری ہے جو عوام کے تعاون کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی اور اس مردم شماری کی خوب تشہیر کروانے پر بھی انہوں نے اتفاق ظاہر کیا ۔ انہوںنے کہا کہ ملک میں برسوں بعد اس طرح کا سروے کروایا جارہا ہے ۔ اس لئے عوام میں اس سروے سے متعلق بیداری پیدا کرنا ضروری ہے ۔ اس سروے کے دوران عوام کو خود آگے آکر دلچسپی دکھانے کی ضرورت ہے ۔ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کرنانکا فلم اکیڈیمی کے صدر راجندر سنگھ بابو نے کہا کہ ریاست میں تقریباً 700 سنیما گھر ہیں ان سنیما گھروں میں ملازمت کرنے والے ملازمین کا بھی تفصیلی سروے کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان کی اکیڈیمی اس میں بھرپور تعاون کریں گے ۔