پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی برہمی ‘ قرارداد مذمت کا مطالبہ اور واک آؤٹ
نئی دہلی ۔ 2 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سے موصولہ اطلاع کے بموجب لوک سبھا میں آج اپوزیشن نے چیف منسٹر جموں و کشمیر مفتی محمد سعید کی جانب سے پُرامن انتخابات کا سہرا پاکستان ‘ حُریت اور عسکریت پسندوں کے سرباندھنے پر سخت احتجاج کیا ‘ جس کی بناء پر حکومت اور بی جے پی خود کو مفتی سعید کے متنازعہ بیان سے ’’ لاتعلق ‘‘ ظاہر کرنے پر مجبور ہوگئی ۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت اور ان کی پارٹی ( بی جے پی ) خود کو سعید کے تبصرے سے لاتعلق قرار دیتے ہیں ۔ ان کے جواب سے غیر مطمئن تقریباً تمام اپوزیشن نے واک آؤٹ کردیا ۔ یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کانگریس کے ‘کے سی وینوگوپال نے کہا کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے ‘ کیونکہ مفتی سعید نے اس سلسلہ میں وزیراعظم نریندر مودی سے مشورہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے ۔ جب وہ یہ بیان دے رہے تھے تو ڈپٹی چیف منسٹر بی جے پی کے نرمل سنگھ اُن کے قریب ہی بیٹھے ہوئے تھے لیکن انہوں نے کوئی وضاحت نہیں کی ۔ وزیراعظم کی خاموشی صدمہ انگیز ہے ۔ ایوان کو اس کی مذمت کرنی چاہیئے ۔ ہمیں ایک مذمتی قرارداد منظور کرنی چاہیئے ۔ کانگریس کے قائد ملک ارجن کھرگے نے کہا کہ چونکہ سعید نے وزیراعظم سے کہہ دیا ہے کہ ان کے خیال میں حُریت کانفرنس ‘ عسکریت پسند اور پاکستان جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات کے بلارکاوٹ انعقاد کے ذمہ دار ہیں اس لئے وزیراعظم کو اس پر بیان دینا چاہیئے ۔ صرف وہی اس کی وضاحت کرسکتے ہیں ۔ اس پر مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں وزیراعظم سے بات چیت کرچکے ہیں اور اُن کے علم اور مرضی سے بیان دے رہے ہیں ۔ بعدازاںانہوں نے واضح کردیا کہ مفتی سعید نے وزیراعظم سے اس بارے میں کوئی تبادلہ خیال نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پُرامن انتخابات کے انعقاد کیلئے وہ جموں و کشمیر کے عوام ‘ الیکشن کمیشن ‘ فوج اور نیم فوجی تنظیموں کے ارکان عملہ کو مبارکباد دیتے ہیں ۔ عوام کی کثیر تعداد میں رائے دہی پر ریاستی عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں لیکن ان کے جواب سے غیر مطمئن اپوزیشن نے مفتی سعید کے تبصرے کی مذمت میں ایوان قرارداد کی منظوری کا مطالبہ کرتے ہوئے واک آؤٹ کردیا ۔ راجیہ سبھا میں بھی مفتی سعید کے بیان پر شوروغل دیکھا گیا ۔ کانگریس کے شانتارام نائیک نے وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بیان قوم دشمنی کے قریب ہے ۔ یہ عہدہ حلف کی خلاف ورزی بھی ہے ‘ کیونکہ انہوں نے قوم دشمن طاقتوں سے اپنے اتحاد کا ثبوت دے دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام ‘الیکشن کمیشن اور فوج نے انتخابات کو ممکن بنایا ۔ مفتی سعید نے ان سب کو اس کامیابی کا ذمہ دار قرار نہیں دیا ہے ۔ 24وزراء نے حلف اٹھائے ہیں ان میںسے ایک کا بھائی حُریت میں ہیں اور اس کی بیوی پاکستانی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران نریندر مودی نے کہا تھا کہ دستور کی دفعہ 370 پر کم سے کم تبادلہ خیال تو ہونا چاہیئے لیکن وہ اب اس سے گریز کررہے ہیں ۔ تنقید پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے پارلیمانی اُمور مختار عباس نقوی نے کہا کہ پُرامن لوک سبھا انتخابات کا سہرا جموں و کشمیر ‘ لیہہ اور کارگل کے عوام ‘ الیکشن کمیشن اور صیانتی افواج کے سر ہے ۔